تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     09-07-2026

فلسفی بیوروکریٹ!

ایک وقت تھا کہ بیورو کریسی میں ذہین ترین لوگ آتے تھے‘ برطانوی دور میں انڈین سول سروس کیلئے چنائو کا معیاری نظام تھا‘ اس میں سے کچھ افرادی اثاثہ تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں آیا۔ پھر پاکستان میں 1954ء میں سول سروس آف پاکستان کا نظام قائم ہوا‘ یہ بھی کافی حد تک معیاری تھا۔ آئی سی ایس اور سی ایس پی کیڈر میں آنے والے بعض بیورو کریٹ نے کتابیں لکھیں‘ افسانے لکھے‘ انہیں سماجی تاریخ کا بھی شعور تھا‘ ان کی کتابیں آج بھی ایک مقام رکھتی ہیں۔ دراصل اس وقت سائنس‘ ٹیکنالوجی اور طب کی تعلیم کا اتنا رواج نہیں تھا‘ لہٰذا ذہین لوگ آرٹس کی تعلیم حاصل کرتے تھے اور مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں آتے تھے۔ وہ کافی حد تک ادب‘ تاریخ‘ نفسیات‘ علم السیاسۃ‘ سماجی علوم‘ معیشت اور قانون کو سمجھتے تھے جو ملک کے نظام کو چلانے کیلئے ضروری ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں علم السیاسۃ کو سائنس قرار دیا گیا ہے۔ مگر جب سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ طب اور دیگر جدید علوم کا رواج ہوا تو ذہین لوگ اپنے معاشی مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے ان شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے لگے تاکہ روزگار کے مواقع مل سکیں‘ لیکن ان کا سماجی علوم سے دورکا واسطہ بھی نہیں تھا۔ پھر انجینئرنگ اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعدکچھ لوگ سول سروس کا رخ کرنے لگے‘ اس سے نقصان یہ ہوا کہ انجینئرنگ‘ سائنس اور طب کی تعلیم پر ملک کے جو وسائل خرچ ہوئے‘ وہ رائیگاں گئے۔ یہ لوگ ادب‘ تاریخ‘ معیشت اور سماجی علوم سے بالکل نابلد ہوتے ہیں‘ مقابلے کے امتحانات کی تیاریوں کیلئے مخصوص نصابی کتابیں پڑھتے ہیں‘ اس مقصد کیلئے قائم خصوصی تعلیمی مراکز میں داخلہ لیتے ہیں اور رٹ کر امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ سماجی علوم اور آدابِ حکمرانی کیلئے علم اور مطالعے کی جو گہرائی اور گیرائی درکار ہوتی ہے‘ وہ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ صرف محدود سوچ اور لگے بندھے طریقۂ کار کے مطابق فائلوں سے کھیلنا‘ چلتے ہوئے نظام میں رکاوٹیں ڈالنا‘ قواعد وضوابط کی بندھنوں کو بدعنوانی کیلئے استعمال کرنا ہی ان کی مہارت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ شعبہ بھی ایک طرح سے بانجھ ہو چکا ہے‘ ایجاد واختراع کا ملکہ ان کے پاس نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ قومی بجٹ بھی ہمیں عالمی مالیاتی اداروں کے بابو بنا کر دیتے ہیں اور پھر وہی اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہیں صرف اعداد وشمار اور آمد وخرچ کے گوشوارے برابر کرنے کا کام آتا ہے‘ اُن کا عوام کے مسائل ومصائب سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کا عوامی ردِّعمل اور جھٹکے سیاسی حکمرانوں کو برداشت کرنے پڑتے ہیں‘ لیکن فیصلوں میں ان کا عمل دخل کم ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ بصیرت کے حامل بھی نہیں ہوتے۔
سطورِ بالا لکھنے کی نوبت اسلئے آئی کہ ''وفاقی ادارۂ محصولات‘‘ کے چیئرمین جناب راشد محمود لنگڑیال کے چند کالم نظر سے گزرے‘ انہوں نے جناب سہیل وڑائچ کے انداز میں استعارات اور تلمیحات کے ذریعے ہمارے قومی اور اقتصادی مسائل پر تبصرہ کیا۔ وہ چونکہ محض تماش بیں نہیں ہیں‘ بلکہ نظام کے اندر فیصلہ ساز مسند پر فائز ہیں‘ انہیں پانی کی گہرائی کا بھی خوب اندازہ ہے‘ لہٰذا ان سے زیادہ ملکی معیشت کو لاحق امراض کا ادراک کسی کو نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ جان کرخوشی ہوئی کہ انہیں ہماری تاریخ اور ماضی کے ادبی سرمائے کے مطالعے کا بھی ذوق ہے‘ ہمارے سابق بیورو کریٹ ایسے ہی ہوتے تھے۔ منجھے ہوئے بیورو کریٹ سابق صدر غلام اسحاق خان نے 1993ء میں جب نواز شریف کی حکومت کو معزول کیا‘ پھر سپریم کورٹ نے اُنہیں بحال کیا تو اخبار نویس نے اُن سے سوال کیا کہ اب آپکا لائحۂ عمل کیا ہو گا‘ انہوں نے جواب میں علامہ اقبال کاایک فارسی شعر پڑھا: (مفہومی ترجمہ) ''یہ گمان نہ کر کہ شراب خانے کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے‘ بلکہ ابھی ہزار قسم کی شراب انگور کی رگوں میں موجود ہے جسے تاحال کسی نے کشید نہیں کیا‘‘۔ انکی مراد یہ تھی کہ اب بھی میں کافی کارگر چالیں چل سکتا ہوں‘ لہٰذا مت سمجھو کہ میں فارغ ہوکر بیٹھ گیا ہوں۔ پس انجامِ کار وہ خود بھی اقتدار سے فارغ ہوئے اور نواز شریف کو بھی اقتدار سے رخصت کر کے دم لیا‘ اس جنگ میں دونوں چاروں شانے چت گرے۔شیخ مصلح الدین سعدی کو آپ حکیم الامت کا لقب دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتابوں گلستان اور بوستان میں معیاری ادب تخلیق کیا اور گلستان میں سبق آموز حکایات لکھ کر ان سے نتائج اخذ کیے تاکہ پڑھنے والے سبق حاصل کریں‘ اُن میں حکمرانوں کیلئے بھی بہت سبق ہیں۔ ایسے ہی سبق آموز اشعار مولانا روم کی مثنوی میں ہیں۔ مولانا جامی نے مثنوی کی بابت بجا طور پر کہا: ''مثنوی ومولوی ومعنوی؍ ہست قرآں در زبان پہلوی‘‘۔ علامہ اقبال مولانا روم کو اپنا مرشد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: (مفہومی ترجمہ) ''مجھے دیکھو! ہندوستان میں مجھ جیسا کوئی اور نہیں پائو گے‘ برہمن زادہ ہوں مگر رومی اورشمس تبریز ی کا رمز آشنا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا: ''نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے؍ وہی آب وگلِ ایراں‘ وہی تبریز ہے ساقی‘‘۔ مزید کہا: ''فطرتِ سلیم رکھنے والے پیر خواب میں تشریف لائے‘ فارسی زبان میں قرآن لکھنے والے نے فرمایا: اے اہلِ عشق کے دیوانے‘ ہو سکے تو عشق کی خالص شراب کے بھی دوگھونٹ پی لے‘‘۔
چنانچہ راشد محمود لنگڑیال نے لکھا: ''تحفظِ اطفال‘‘ کی تحریک چلانے والے اُن ڈھائی کروڑ بچوں کا رونا رورہے ہیں جو سکول سے باہر ہیں‘ حالانکہ اصل نوحہ خوانی تو اُن لگ بھگ چھ کروڑ بچوں کی کرنی چاہیے جو سکولوں کے اندر ہیں۔ عمارتیں‘ اساتذہ‘ کتب خانے‘ تجربہ گاہیں سب کچھ ہیں‘ 92فیصد میں بیت الخلا اور 82فیصد میں صاف پانی بھی ہے‘ کھربوں روپے کا بجٹ بھی ہے‘ لیکن تعلیم نہیں ہے‘‘۔ اس موقع پر انہوں نے ایک نحوی اور کشتی کے ملّاح کا مکالمہ پیش کیا: ''نحوی نے کشتی میں بیٹھتے ہی ازراہِ تکبر ملّاح سے پوچھا: تُو نے نحو پڑھی ہے‘ اس نے کہا: نہیں‘ نحوی بولا: ''تیری تو آدھی عمر اکارت گئی‘‘۔ کچھ دیر کے بعد کشتی موجوں کے بھنور میں ڈولنے لگی تو ملاح نے پلٹ کر نحوی سے پوچھا: ''تجھے تیرنا آتا ہے‘‘۔ اس نے کہا: ''نہیں‘‘۔ ملاح نے کہا: ''تیری تو ساری عمر اکارت گئی‘‘۔ یعنی تعلیم کے کھاتے میں سرکار کے کھرب ہا کھرب روپے خرچ ہونے کے باوجود علم صفر ہے۔ اسناد اور ڈگریاں تو ہیں‘ لیکن علم نہیں ہے‘ علم کے بازار میں انکا کوئی خریدار نہیں ہے۔ حالانکہ عام نجی سکولوں کی بہ نسبت سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے مشاہرے پانچ تا دس گنا زیادہ ہیں‘ اسکے برعکس اشرافیہ کیلئے قائم سکولوں کی فیسیں ناقابلِ تصور اورعام لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں‘ لہٰذاذہانت ودانش گلی کوچوں میں رُل رہی ہے۔ انہوں نے اس عقاب کی سرگزشت لکھی جو بادشاہ کی کلائی سے اڑ کر بڑھیا کی کٹیا میں آ بیٹھا تھا۔ بڑھیا کو اس پر پیار آیا‘ اسے حسین بنانے کیلئے اس نے قینچی سے اسکی چونچ اور ناخن تراش دیے۔ پس وہ شکار سے روزی حاصل کرنے سے محروم ہو گیا۔ وہ لکھتے ہیں: ''یہی سلوک ہماری ریاست نے صنعت کیساتھ کیا‘ اسے چھوئی موئی کا پودا بنا لیا‘ اسکے استحصال اور من پسند منافع کیلئے 65 فیصد تک درآمدی محصولات لگا دیے‘ صنعتوں کا منافع سو فیصد تک جا پہنچا اور چونکہ انہیں نازنیں بنا کر اختراع وایجاد کی صلاحیت‘ مسابقت کی اہلیت اور حقیقت پسندی سے محروم کر دیا گیا‘ لہٰذا وہ عالمی مسابقت کے قابل ہی نہ رہیں‘‘۔ اسکے برعکس انہوں نے ویتنام کی مثال دی کہ انکی برآمدات ایک ارب ڈالر سے 470 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ مسرور انور نے کہا تھا: ''اک ستم اور میری جاں‘ ابھی جاں باقی ہے؍ دل میں اب تک تیری اُلفت کا نشاں باقی ہے‘‘۔
انہوں نے بتایا: برآمدی صنعتوں کو ٹیکس میں جو چھوٹ اور مراعات دی گئی ہیں‘ اُن پر تحدید وتوازن کا کوئی نظام نہیں ہے‘ صنعتکار ٹیکس میں چھوٹ برآمد کیلئے لیتے ہیں اور پھر وہی مال برآمد ہونے کے بجائے مقامی مارکیٹوں میں فروخت ہوتا ہے‘ حالانکہ اس کیلئے سائنٹیفک نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹ فیکٹری سے نکلنے والے مال پر نہ دی جائے‘ بلکہ اُس مال پر دی جائے جو کسٹم سے بیرونِ ملک ترسیل کیلئے نکلے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved