یہ ایسا معاملہ ہے جو تاریخ میں کبھی ختم ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ اس لیے کچھ غالب گروہ ہر معاشرے میں دوسروں کی شناخت کو مٹا کر اپنی من پسند کو ان کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کئی درجن بڑے اور چھوٹے وفاقی وزیروں‘ مشیروں اور خصوصی معاونین کی فوج ظفر موج کے ایک اہم وزیر صاحب نے جوشِ حب الوطنی میں سرشار ہو کر فرمایا کہ پورے ملک کی صرف ایک ہی شناخت ہو۔ خواہشوں‘ خوابوں اور ایسے فرموداتِ عالیہ پر کوئی پابندی نہیں مگر ایک ملک‘ ایک قوم‘ ایک ریاست اور ایک شناخت کا تصور کسی وزارت کا زور لے کر تو پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ ہم ایک ملک‘ قوم اور ریاست ہیں لیکن سماجی طور پر ہم مختلف شناختیں رکھتے ہیں۔ یہ شناختیں کبھی متصام تھیں نہ اب ہیں۔ شناخت کو ایک پیاز کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسے چھیلیں تو تہ در تہ اس کے رنگ نکلیں گے جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے اس تاریخی خطے کی‘ جہاں اب ہمارا ملک ہے‘ ہزاروں سال کی طویل تاریخ ہے۔ یہاں کئی مذاہب‘ کئی تہذیبیں‘ کئی سلطنتیں‘ کئی زبانیں اور رسم و رواج آبادیوں‘ شہروں اور دیہات کی زندگیوں کا حصہ رہے ہیں۔ کاش ہم مصر‘ ایران‘ یونان اور دیگر ریاستوں کی طرح اپنی قومی شناخت کے بیانیے کی بنیاد وادیٔ سندھ کی تہذیبوں پر رکھتے۔ انہیں ہم قوسِ قزح کے رنگ خیال کرکے اپنی ثقافتی رنگا رنگی پر فخر کرتے تو واحد شناخت تلاش کرنے کی سعی لاحاصل سے خلاصی حاصل کر سکتے تھے۔ کئی ایسے دوست اور احباب ہیں‘ اور ہوں گے جو اس نقطۂ نظر سے اختلاف کریں گے مگر اب دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں ہم کہہ سکیں کہ ثقافتیں اور شناختیں مختلف زبانوں‘ رنگ و نسل اور قومیتی پس منظر سے جڑی ہوئی نہ ہوں۔ امریکہ بھی ہماری طرح ایک قوم ہے مگر وہاں ایسے میلے بھی اس درویش نے دیکھے ہیں جنہیں وہ اُس مخصوص علاقے کی قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
شناختی عمل نہ کبھی منجمد اور ساکت ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ایک سمت ہوتی ہے۔ مادی حالات‘ شہری آبادیوں کے پھیلاؤ اور صنعتی ترقی کے ساتھ یہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یعنی یہ ایک متحرک عمل ہے جو تاریخی طور پر بنتا اور بگڑتا‘ اور تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اپنے ملک کی تاریخ میں ان حالات کے پیشِ نظر اور تحریک پاکستان کے نظریے کی روشنی میں اوائل کے برسوں میں کچھ ثقافتی دانشوروں نے علاقائی زبانوں اور ان کے ساتھ وابستہ ثقافتی رنگوں کو کناروں پر رکھنے اور قومی زبان اور اس کے ساتھ منسلک شناختی رجحان کو مختلف ذرائع سے پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ ضرورت تو یہ تھی کہ ثقافتوں اور زبانوں کے قیمتی خزانے اور ان کے تاریخی ورثے کو پرانے اور نئے تہذیبی رنگ میں سمونے کی کوشش کی جاتی۔ مزید کچھ کہہ نہیں سکتے کہ مقصد ان پرانی بحثوں اوردقیانوسی خیالات کو ابھارنا نہیں بلکہ شناخت کو انفرادی‘ گروہی اور اجتماعی آزادیوں کے نام پر آزاد چھوڑنے کی درخواست ہے۔ اسی آزادی یا آزادیوں سے قومی شناخت کی تشکیل ایک بتدریج فطری عمل سے طے پاتی ہے۔ ایک واقعہ نہیں‘ کئی واقعات ہیں جب لوگوں نے کہا کہ آخر ہم کیوں ایک قوم نہیں بن سکے‘ اور یہ کہ ہماری کوئی قومی شناخت کیوں نہیں۔ یہ سوال بازاروں اور تھڑوں پر تو اٹھائے گئے مگر ایک دفعہ حیرانی اس بات پر ہوئی جب ایک صحافی نے اپنے شو میں میرے لیے سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا۔ میرے نزدیک یہ سوال غیر متعلق اور لایعنی ہے۔ آخر کیوں ہمارے وزیر باتدبیر کی طرح لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہماری کوئی قومی شناخت نہیں‘ اور ہم ایک قوم نہیں۔ انہیں ہم داخلی یا موضوعی مسائل کہتے ہیں۔ حقیقت کی معروضی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح ایک آدمی کہتا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں‘ دوسرا بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں۔ ان معاملات کو حقائق کی روشنی میں کبھی بھی حل نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہماری گزارش ہے کہ ایسی بحثوں اور لڑائیوں میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ نظری مباحث ہیں جو بالا خانوں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔
دوسرا بڑا سوال یہ آتا ہے کہ اگر ہم ایک قوم ہیں تو پھر زبانیں مختلف کیوں بولتے ہیں؟ یہ سوال تھا جو آزادی کے ساتھ ‘ شروع کے برسوں میں ابھرا تھا۔ جواب سادہ اور مختصر تھا کہ ہم پرانی تہذیبوں اور ثقافتوں کے وارث ہیں اور اب ایک نئی ریاستی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک زبان کا مسئلہ بھی اس دور کی روح اور یورپی ریاستوں کی تاریخی ترویج کے حوالے سے غیر اہم نہیں تھا۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جو ریاستیں خاموشی سے تعلیم‘ ثقافتی پالیسی اور معاشی عمل کے ذریعے قومی ہم آہنگی بڑھانے کیلئے کرتی ہیں۔ وہ ہماری ریاست ضرورت سے کہیں زیادہ کرتی آئی ہے۔ غلط یا صحیح‘ یہ آپ پر منحصر ہے مگر اردو زبان آج عملی‘ فکری اور ثقافتی طور پر قومی زبان کے طور پر قبول کی جا چکی ہے۔ پنجاب میں تو اب اسے کچھ لوگ مادری زبان بھی کہتے ہیں۔ میرا مؤقف البتہ کچھ مختلف ہے۔ قومی زبان کے ساتھ علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کو بھی ترقی نہیں تو سانس لینے کی اجازت تو ملنی چاہیے۔
ہماری علاقائی زبانیں کچھ تو پہاڑی سلسلوں کی دھند میں معدوم ہو رہی ہیں تو دوسروں کو اپنے بولنے والوں کی تعداد کم سے کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پنجابی زبان کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے‘ اور یہ کسی اور نہیں پڑھے لکھے پنجابیوں کے درمیانی طبقے کی طرف سے ہے جو بچوں کے ساتھ اپنی زبان میں بات کرنا تقریباً ترک کر چکے ہیں۔ بلکہ اگر بچے گلی محلے سے پنجابی کے کچھ الفاظ سیکھ کر بولیں بھی تو انہیں ٹوکتے ہیں۔ یہ سب کچھ تھوڑی بہت تحقیق کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مشرقی پنجاب والوں نے بھی پنجابی کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو ہمارے اپنے پنجاب میں بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ وہاں بچوں کے ساتھ وہ ہندی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ طویل دکھ بھری داستان ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے‘ اور اس کا اس مضمون میں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شناخت کا مسئلہ اب تک سیاسی حقوق‘ وسائل تک رسائی اور طاقت میں حصہ داری کیلئے کئی شناختی تحریکوں کی صورت ہمارے سامنے ہے۔ پرانے نظریات دم توڑ چکے ہیں‘ مسائل کی سیاست کا وجود ہی نہیں رہا‘ اور نہ کبھی تھا۔ فقط سیاسی‘ ثقافتی اور سیاسی طور پر متحرک لوگ مقامی زبان اور ثقافت کی انفرادیت پر زور دے کر مظلومیت کے خیمے میں مورچہ بند ہورہے ہیں۔ پنجاب میں سرائیکی‘ کے پی میں ہزارہ‘ کراچی میں مہاجر اور بلوچستان میں بلوچ ایک عرصہ سے جداگانہ ثقافت اور زبان کو قومیت پرستی کی علامت کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے کہ جو شناخت وہ اپنے لیے منتخب کریں‘ اس میں ان سے جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تہذیبی اور تاریخی طور پر ایک کثیر ثقافتی اورکثیر لسانی ملک ہیں۔ باقی اگلی نسلوں میں ہم کیا ہوں گے‘ اور کیا بنیں گے‘ یہ ان پر چھوڑ دیں۔ تاریخ کا دھارا انہیں خود مشترکہ مفاد کی بنیاد پر جوڑ دے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved