18 جون کو جب ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے فریم ورک (ایم او یو) پر دونوں ملکوں کے سربراہان اور ثالثوں کے دستخط ہوئے تو اسی وقت اس پر عمل درآمد کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ فریم ورک کئی لحاظ سے نامکمل اور خامیوں سے بھرا پڑا تھا۔ سب سے اہم خرابی یہ تھی کہ اس فریم ورک معاہدے میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نہ صرف اسے مسترد کر دیا بلکہ لبنان اور غزہ میں وہ جارحیت کا مسلسل ارتکاب کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امید تھی کہ مشکلات کے باوجود فریم ورک کو ایک حتمی معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن گزشتہ دنوں فریم ورک کی دفعات کے بالکل برعکس امریکہ کی طرف سے ایران کی عسکری تنصیبات پر جو بمباری کی گئی ہے‘ اس نے اس فریم ورک معاہدے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
تازہ ترین حملوں میں امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکہ نے ایران کے 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں اور اہم تزویراتی مقامات کو نشانہ بنایا۔ برطانوی اخبار 'گارجین‘ کے مطابق 18 جون کے بعد امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی جو خلاف ورزیاں ہوئیں‘ ان میں آٹھ اور نو جولائی کو کی جانے والی خلاف ورزی شدید ترین تھی اور امریکہ نے اپنے حملوں کو صرف آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی ساحل پر موجود فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس بار امریکہ کی بمباری کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اس دفعہ امریکہ نے ایران کی بندرگاہ بندر عباس کے علاوہ چابہار اور بوشہر کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اپنے بیان کے مطابق نوجولائی کو پو پھٹنے سے پہلے امریکی بمباری میں جن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان میں ایران کا ایئر ڈیفنس سسٹم‘ کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک‘ ساحل پر نصب ریڈار‘ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل اڈے اور ایران کے انقلابی گارڈز کے استعمال میں آنے والی ساٹھ سے زیادہ کشتیاں بھی شامل ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ کے تازہ ترین حملوں میں ایران کے آٹھ فوجی شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ سینٹرل کمانڈ کے اعلان میں ایران کے شمالی علاقوں میں ایک ریلوے پل کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے کسی حملے کے جواب میں امریکہ 20 گنا تباہ کن حملہ کرے گا۔ جمعرات کو شدید اور وسیع حملے صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کیے گئے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی ایک وسیع خلیج پہلے ہی حائل تھی۔ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے مسئلے پر لڑائی نے دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے امکانات کو بہت کم کر دیا ہے۔ اگرچہ ایران اور امریکہ دونوں میں سے کسی نے بھی مذاکراتی عمل سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا لیکن آبنائے ہرمز کے علاوہ فریم ورک معاہدے کی دیگر خلاف ورزیوں کی موجودگی میں مذاکراتی عمل بار بار تعطل کا شکار ہوتا رہے گا۔ اس سے حتمی معاہدے کی جانب پیشرفت کی رفتار اور بھی سست ہو جائے گی جبکہ صدر ٹرمپ مزید انتظار نہیں کر سکتے کیونکہ نومبر میں کانگریس کے مڈٹرم انتخابات کے موقع پر وہ اپنی کامیابی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب لگ بھگ پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقصد 60دن کی مقررہ مدت میں پورا نہیں ہو سکتا۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے کمرشل جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی آزادانہ آمدورفت کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور مسقط اور عمان کی سمندری حدود میں سے گزرنے پر ایران اب تک پانچ بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ایم او یو‘ جس پر صدر ٹرمپ نے بھی دستخط کیے ہیں‘ نے 18جون کے بعد 60 دنوں کیلئے آبنائے ہرمز میں سے بحفاظت کمرشل بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو گزرنے کی ذمہ داری ایران کو سونپ رکھی ہے اور اس ذمہ داری میں بحری بارودی سرنگوں اور دیگر رکاوٹوں کو صاف کرنا بھی شامل ہے۔ اس شق کے مطابق ایران نے جہازوں کی آمدورفت کیلئے اپنے علاقائی سمندری حدود میں سے ایک راستہ متعین کر رکھا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے متبادل راستے سے جہازوں کا گزرنا ایم او یو کی خلاف ورزی ہے اور ایران کو ایسے جہازوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز کے علاوہ ایران کو امریکہ سے ایم او یو کی خلاف ورزیوں کی اور بھی شکایتیں ہیں۔ مثلاً ایم او یو کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہے جن میں لبنان بھی شامل ہے لیکن اسرائیل کے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں۔ تہران کا الزام ہے کہ واشنگٹن ایم او یو کی واضح شقوں کے باوجود اسرائیل کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ ایم او یو کے مطابق جنگ بندی کے بعد فریقین نہ صرف ایک دوسرے پر حملہ نہیں کریں گے بلکہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے بھی اجتناب کریں گے مگر 18جون کے بعد صدر ٹرمپ ایران کو مقررہ مدت (60 دن) کے اندر ''ڈیل‘‘ کرنے میں ناکامی پر سنگین نتائج اور پہلے سے کہیں زیادہ حملوں کی دھمکیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ایران نے اس پر امریکہ سے متعدد بار احتجاج بھی کیا ہے اور متنبہ کیا کہ ایران دھمکیوں اور خوف و ہراس کی فضا میں مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتا۔
ایم او یو کی ایک شق یہ بھی ہے کہ اس پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا‘ اپنے بحری جنگی جہاز ایران کے قریب پانیوں سے دور ہٹا لے گا اور 60 دنوں کی مدت کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور اس کے قرب و جوار میں فوجی قوت میں اضافہ بھی نہیں کرے گا۔ مگر امریکہ کی طرف سے حال ہی میں اپنے ایک بحری بیڑے میں دو ہزار میرینز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایم او یو کے مطابق اس کے نافذ العمل ہوتے ہی ایران کے منجمد اثاثوں اور ڈالرز کی رقوم کا مسئلہ جلدی حل کیا جائے گا‘ لیکن امریکہ کی طرف سے ایران کے منجمد اثاثوں اور ضبط شدہ رقوم کی ایران کو واپسی پر لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ ایران کے مطابق امریکہ نے ایم او یو کی دفعات کے باوجود ایران پر سے تجارتی پابندیاں ختم نہیں کیں بلکہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری اور سعودی ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے تیل کو بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔
اس سے خلیج فارس کی صورتحال‘ جو پہلے ہی تشویشناک تھی‘ شدید خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے اور خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ 18جون کو طے پانے والا معاہدہ کہیں ناکام نہ ہو جائے۔ اسی خدشے کو مزید تقویت اس امر سے پہنچتی ہے کہ اسے ناکام بنانے والے عناصر دونوں جانب موجود ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم تو اس فریم ورک معاہدے کو ناکام بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے‘ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے بعض بااثر ارکان اس کے خلاف ہیں۔ ایران میں بھی سخت گیر حلقے ایم او یو کے مخالف ہیں‘ حالانکہ ایران امریکہ کے مابین طے پا نے والے ایم او یو کو وسیع پیمانے پر بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس کو خوش آمدید کہنے والوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس‘ روس اور چین کے صدور‘ یورپی یونین‘ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے تمام ممالک شامل ہیں۔ اس کے باوجود اگر یہ تاریخی فریم ورک معاہدہ‘ جس کے بارے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اس پر عمل کرنا مشکل تو ضرور ہے مگر ناممکن نہیں‘ ناکام ہو جائے تو بڑی بدقسمتی ہو گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved