تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     11-07-2026

ریڈ کارڈ، ٹرمپ، فٹبال اور ناصر گوندل کی نظم

میں گزشتہ دو دن سے برادر بزرگ اعجاز احمد کے پاس امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے نواح میں ایک چھوٹے سے شہر میں ہوں۔ گزشتہ روز میں اور برادر بزرگ اٹلانٹا ڈاؤن ٹاؤن سے ہوتے ہوئے واپس آ رہے تھے‘ سڑکوں پر خلافِ معمول زیادہ رش اور چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ برادرِ بزرگ نے بتایا کہ آج اٹلانٹا میں مصر اور ارجنٹائن کے درمیان ورلڈ کپ کا پری کوارٹر فائنل میچ ہے۔ اس میچ کا سن کر مجھے فوری طور پہ بوسنیا و ہرزیگووینا اور امریکہ کا میچ یاد آ گیا۔ اس میچ میں ریفری نے فاؤل کھیلے جانے پر امریکہ کے کھلاڑی فلارن بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھا کر اسے اگلے میچ کیلئے معطل کر دیا۔ فیلڈ گیمز میں فاؤل کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف کارڈ ہیں جو ریفری اس فاؤل کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑی کو دکھاتا ہے۔ ریفری نے امریکی کھلاڑی کو اگلے میچ میں شرکت سے روک دیا۔ کھیل میں فاؤل پر ریفری کی جانب سے سزا ملنا‘ اس پورے منظر نامے کا حصہ ہے۔ کھیل میں یہ سب چیزیں کسی طور بھی غیر معمولی نہیں ہیں اور یہ اس ورلڈ کپ کا پہلا ریڈ کارڈ بھی نہیں تھا۔ فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں مختلف ٹیموں کے مختلف کھلاڑیوں کو مورخہ 8 جولائی تک مجموعی طور پر تیرہ ریڈ کارڈ دکھائے جا چکے ہیں۔ میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے افتتاحی میچ میں تین ریڈ کارڈز دکھائے گئے جو کسی بھی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ریڈ کارڈز دکھانے کا ریکارڈ ہے۔ امریکی کھلاڑی کو دکھایا جانے والا یہ ریڈ کارڈ اس ٹورنامنٹ کا ساتواں ریڈ کارڈ تھا۔ اس ریڈ کارڈ کے بعد یہ امریکی کھلاڑی اپنا اگلا میچ نہیں کھیل سکتا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نئی تارخ رقم کرتے ہوئے امریکی ٹیم کے کھلاڑی کو ریفری کی جانب سے ریڈ کارڈ دکھانے کو ''بہت خراب فیصلہ‘‘ قرار دیا اور اس سلسلے میں مداخلت کرتے ہوئے فیفا کے صدر گیانی انفانٹیو کو فون کر کے یہ معطلی منسوخ کرنے کا کہا جس پر فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے امریکی کھلاڑی کی اگلے میچ کی معطلی مؤخر کر کے اسے بلجیم کے ساتھ اگلا میچ کھیلنے کا اہل قرار دے دیا۔ یہ اور بات کہ امریکی ٹیم پھر بھی بلجیم کے خلاف اپنا میچ ایک کے مقابلے میں چار گول سے ہار گئی۔
کھیل کے مبصرین‘ ماہرین اور سابقہ کھلاڑی اسے فیفا کی غیر جانبداری اور شفافیت پر کاری وار قرار دے رہے ہیں۔ اس فیصلے پر بلجیم کی فٹبال فیڈریشن نے احتجاج کرتے ہوئے اسے مقابلے کی شفافیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سابق کھلاڑیوں‘ کوچز اور فٹبال حکام نے کہا کہ اگر ریڈ کارڈ کی معطلی سیاسی دباؤ کی وجہ سے ختم کی جا سکتی ہے تو مستقبل میں فیفا کے نظم وضبط کے نظام پر اعتماد کم ہو جائے گا۔
اہالیانِ اٹلانٹا کیلئے مصر اور ارجنٹائن کی فٹبال ٹیمیں پردیسی کی حیثیت رکھتی تھیں اس تمام گہماگہمی کے باوجود وہ جوش وخروش اور ہنگامہ مفقود تھا جو اس مسافر نے بیس پچیس سال قبل گلاسگو میں دو ازلی حریف فٹبال ٹیموں سیلٹک (Celtic) اور رینجرز کے درمیان میچ کے خاتمے کے بعد شدید مارکٹائی کی صورت میں دیکھا تھا۔ یہ ہنگامہ آرائی کئی گھنٹوں جاری رہی۔ یہاں اٹلانٹا میں ایسی صورتحال نہیں تھی‘ تاہم گہماگہمی ایسی تھی جو پہلے کبھی دکھائی نہیں دی تھی۔ اس میچ میں بھی بعض فیصلوں نے خاصی بدمزگی پیدا کی۔ پہلے ہاف میں مصر کے گول کیپر نے میسی کی پنلٹی کک روک کر میسی کے جادو کی ہوا نکال دی۔ میچ ختم ہونے سے گیارہ منٹ پہلے تک مصر صفر کے مقابلے میں دو گول سے جیت رہا تھا حالانکہ اس دوران مصر کا ایک گول VAR( وڈیو اسسٹ ریفری) نے سرے سے نو گول کر دیا‘ وگرنہ مصر یہ مقابلہ تین صفر سے جیت رہا ہوتا۔ میچ کے ختم ہونے سے چند منٹ پہلے تک لگ رہا تھا کہ دفاعی ورلڈ چیمپئن ارجنٹائن شاید کوارٹر فائنل تک بھی رسائی حاصل نہیں کر پائے‘ لیکن ایک چمتکار ہوا اور میچ کی اختتامی سیٹی بجنے سے قبل ارجنٹائن نے دو گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ اضافی وقت کے دوران ارجنٹائن نے تیسرا گول کر کے فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔ لیکن یہ میچ کئی نامقبول‘ متنازع اور یکطرفہ فیصلوں کے باعث اس ورلڈ کپ کا سب سے متنازع اور زیر بحث رہنے والا مقابلہ بن گیا ہے۔ بہت سے ماہرین اور ناقدین کے بقول فیفا ارجنٹائن کو ہر حال میں میدان میں رکھنا چاہتی تھی اور کم از کم دو فیصلے ایسے تھے کہ جنہوں نے ٹورنامنٹ کی ساری غیر جانبداری اور شفافیت پر سنگین سوال اٹھا دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے کمنٹس اور فیفا کے صدر کو کی جانے والی کال کے بارے میں برادر بزرگ سے سوال کیا تو انہوں نے آگے سے مسکرا کر کہا: یہ بندہ ہمیں جگہ جگہ ذلیل و رسوا کرا رہا ہے۔ میں نے بھی جواباً ہنس کر کہا کہ آپ امریکہ والے ویسے تو ہم بیچارے پاکستانیوں سے کسی بھی موضوع پر قابو نہیں آتے۔ اللہ بھلا کرے اس صدر کا جس کے طفیل آپ اب اسی طرح لاجواب ہو جاتے ہیں جس طرح عمران خان کے زمانے میں‘ جب پی ٹی آئی کا کوئی بندہ کسی کے قابو میں نہ آئے تو اس سے عثمان بزدار کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی کے میرٹ کا پوچھ لیتے تھے تو بڑے سے بڑا طرم خان بھی لاجواب ہو جاتا تھا۔ بالکل اسی طرح اب ہم جیسے ہی صدر ٹرمپ کا معاملہ چھیڑتے ہیں‘ آپ لوگوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ باقی کالم چھوڑیں۔ مجھے اس ریڈ کارڈ‘ ٹرمپ اور فٹبال سے اپنے عزیز دوست ڈاکٹر ناصر گوندل کی ایک تازہ بہ تازہ نظم یاد آ گئی۔ پڑھیں اور لطف لیں۔
ورلڈ کپ
ہمیشہ کی طرح؍ اس بار بھی جو کھیل کھیلا جا رہا ہے؍ اگرچہ عالمی ہے کھیل لیکن؍ کسی صورت بھی ہم اس کھیل کا حصہ نہیں ہیں؍ مگر اس کھیل میں جو گیند کھیلا جا رہا ہے؍ وہ میرے ہاتھ کا جوڑا ہوا ہے؍ کسی بازار میں اخبار میں ٹی وی کے پردے پر؍ جہاں پر بھی نظر آئے تو ہم سب کو دکھاتے ہیں؍ ہم اس کے ساتھ اپنے آپ کی فوٹو بناتے ہیں؍ ذرا پہلے کی ہے یہ بات اس میں؍ مرے اپنے مویشی مال کا چمڑہ لگا تھا؍ یہ بخیے بھی مرے ہی ہاتھ کے ٹانکے ہوئے تھے؍ مگر ہر چیز اپنی اصل سے اب ہٹ کے بنتی ہے؍ ہے اب چمڑہ بھی مصنوعی؍ کوئی دھاگا کوئی ٹانکا نہیں ہے؍ ہے اس کی جنس اب پولی یورتھرین؍ مناسب آنچ کا شعلہ دکھایا؍ ذرا پگھلا کے ٹکڑوں کو ملایا؍ ہے اب تیار ایڈیڈاس ٹری اینڈا؍ لگا اندر بلیڈر ہے ربر کا؍ اور اس فٹ بال میں اک چِپ لگی ہے؍ لگائی ہے کہاں پہ کس نے ٹھوکر؍ ہر اک ضربِ خفی ضربِ شدید؍ حسابِ ہر کساں اس میں برابر؍ اسے ٹھوکر لگائیں تو مناسب طور ہر حرکت میں آتا ہے؍ کھلاڑی سے ہمیشہ ایک دو گز اور آگے بھاگتا ہے؍ حریفوں کا ہدف کہ اس کو وہ پیروں سے ماریں؍ اُسے دشمن کے آنگن میں اتاریں؍ یہ مصنوعات کی حد تک نہیں ہے؍ میں خود فٹ بال بننے میں مہارتِ خاص رکھتا ہوں؍ مجھے جتنی لگیں ضربیں مرا خاصہ ہے میں اتنی ہی شدت سے اچھلتا ہوں؍ میں ہر میدان میں تیار ہوں فٹ بال بننے میں؍ مجھے فٹ بال بننے میں بڑی محنت لگی ہے؍ ذرا ٹھوکر مجھے مارو؍ تمہارے ساتھ بھاگوں گا؍ بھگائو گے مجھے جتنا؍ میں اس سے تیز بھاگوں گا؍ مجھے ہاتھوں میں نہ لینا؍ بڑا نقصان ہوتا ہے؍ مجھے پیروں تلے رکھنا؍ مجھے پیروں میں رہنے کا بڑا ہے تجربہ؍ اکثر وہیں پر کھیلنے والے؍ جھگڑتے ہیں کہ؍ پیروں سے مجھے ماریں؍ مجھے دشمن کے آنگن میں اتاریں؍ علامت ہی کی ہو لیکن؍ ہے یہ اک عالمی جنگ؍ جہاں پڑتا ہے رن گھمسان کا؍ ہمیں فٹ بال کے اس کھیل میں فٹ بال بُننا ہے؍ ہمیں فٹ بال کے اس کھیل میں فٹ بال بننا ہے؍ کوئی ہم سے نہیں بہتر؍ یہاں فٹ بال بننے میں؍ کوئی ہم سے نہیں بہتر؍ یہاں فٹ بال بننے میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved