تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     11-07-2026

غلط امریکی مفروضے

جو قوم زندگی کی جتنی تمنائی ہو اور اس سے کہیں بڑھ کر اپنے دفاع کیلئے موت کی شیدائی ہو اسے بڑی سے بڑی طاقت بھی شکست نہیں دے سکتی۔ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملہ کرنے سے پہلے دونوں ملکوں کے ایران کے بارے میں جو اندازے اور مفروضے تھے وہ سب کے سب غلط ثابت ہوئے۔ ایک مفروضہ یہ تھا کہ ادھر ایران پر بمباری کا آغاز ہو گا اور اُدھر ایران میں رجیم چینج کیلئے مظاہرے شروع ہو جائیں گے۔ داخلی اختلافات کے شعلوں کو سوشل میڈیا پر بھڑکایا جائے گا اور یوں آناً فاناً سارا ایران نفرت کی اس آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ لیکن ایران نے اس جنگ میں اپنے میزائلوں اور ڈرونز سے ایف 35 طیاروں جیسا کام لیا۔ ایرانی حکومت نے جنگی حکمت عملی اور مزاحمت کی شاندار پالیسی سے کام لیتے ہوئے ایک طرف آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور دوسری طرف عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کر دی اور اسرائیل کے اندر بھی میزائلوں سے تابڑ توڑحملے کیے۔ خیال یہ کیا جارہا تھا کہ امریکی حکومت کو اس نظریاتی قوت کے بارے میں بخوبی علم ہوگا جو تقریباً نصف صدی سے ایرانی قیادت اور عوام کی روح میں جاری و ساری ہے۔
سنی شیعہ کی تقسیم سے بلند ہو کر جب علامہ اقبال اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ہندوستان میں اور حسن البنا نے مصر میں اجتہادی کارنامہ سرانجام دیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام محض عبادات اور تقویٰ و پرہیزگاری کا نام نہیں بلکہ مسلم ملکوں کے اندر خدا ئے بزرگ و برتر کے اقتدارِ اعلیٰ کے قیام کا نام ہے۔ بعد ازاں 1963ء سے آیت اللہ خمینی نے بھی اسی اجتہادی نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے شیعہ اصولِ فقہ کے مطابق اسلامی جمہوری حکومت کا تصور یہ کہہ کر ایرانیوں کے سامنے پیش کیا کہ بے شک اللہ کے نزدیک ایک ہی سچا دین ہے اور وہ اسلام ہے۔ یہی وہ اجتہادی کارنامہ تھا جس سے مغربی خوفزدہ ہونے لگی اور عامۃ المسلمین کو اس انقلابی فکر سے بچانے کیلئے طرح طرح کی تدبیریں کرنے لگے۔
سیّد علی حسینی خامنہ ای نجف اشرف سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد قم میں روح اللہ خمینی کے قریب ترین شاگردوں میں شامل ہو گئے۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد جنوری 1980ء کے الیکشن میں منتخب ہونے والے پہلے ایرانی پریذیڈنٹ ابوالحسن بنی صدر اور امام خمینی کے درمیان تصور ِجمہوریت کی تشریح میں کئی طرح کے اشکالات و اختلافات پیدا ہوئے تو سیّد علی خامنہ ای نے ایران کی سیاسی تاریخ کے اس اہم موڑ پر امام خمینی کا کھل کر ساتھ دیا۔ یوں بنی صدر کو دو سال کے بعد ہی مواخذہ کے ذریعے منصبِ صدارت سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کے بعد 1981ء سے لے کر 1989ء تک سیّد علی خامنہ ای ایران کے منتخب صدر رہے۔ وہ 1989ء سے اپنی شہادت تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ سپریم لیڈر فوج کا کمانڈر انچیف اور عدالتی و نشریاتی اداروں کا محافظ ہوتا ہے۔ ایران میں فیصلے پارلیمنٹ اور دانشِ فقیہ مل کر کرتے ہیں۔
کون سا ایسا ملک ہے کہ جس میں سیاسی اختلافات نہیں ہوتے۔ یقینا ایران میں بھی شہریوں کی مختصر تعداد کو حکومتی پالیسیوں سے اختلافات تھے مگر ایک بھی ایسا ایرانی نہ تھا جو اِن اختلافات کی بنا پر حملہ آوروں سے ساز باز کرتا۔28فروری کو سیّد علی خامنہ ای اور اُن کے اہلِ خانہ کی شہادت کے بعد کروڑوں ایرانی یکجان سو قالب کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں نہ صرف ایران ڈٹا رہا بلکہ اسے واضح برتری حاصل ہوئی۔ اسی برتری کی بنا پر ہی ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کیلئے معاہدہ کرنے پر رضامند ہوا۔ صدر ٹرمپ کی آنکھیں تو جنگ اور اس دوران ایرانی قوم کے مثالی اتحاد اور جنگی پرفارمنس سے ہی کھل جانی چاہیے تھیں اور معلوم ہو جانا چاہیے تھا کہ اس اتحاد کے پیچھے وہ نظریاتی قوت پوری طرح کارفرما ہے جو ایران کے اسلامی انقلاب کی بنیاد اور اس کے دستوری و سیاسی نظام کی تشکیل میں پوری طرح موجزن تھی۔ مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نظری و سیاسی منظرنامے کو نہ جانتے تھے اور نہ ہی انہوں نے اسے جاننے کی کوشش کی۔
سیّد علی خامنہ ای کے اعلیٰ دینی و سیاسی مراتب پر طویل عرصے تک فائز رہنے‘ ان کی امام خمینی سے انتہائی قربت اور پھر ان کے مرتبۂ شہادت کی بنا پر ان کے جنازے کا سرکاری اعزاز کے ساتھ چھ روزہ پروگرام ترتیب دیا گیا۔ تین جولائی کو جنازے کے جلوس کا آغاز تہران سے ہوا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ ہر کوئی آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو ایک نظر دیکھنے کیلئے بے تاب تھا۔ یہاں سے سید علی خامنہ ای کا تابوت ایران کے دینی مرکز قم لے جایا گیا۔ یہاں بھی لوگوں کے جم غفیر نے اللہ کی رحمت کی طرف سفر کرنے والے شہید کیلئے اظہارِ عقیدت و محبت کیا۔ اس کے بعد سیّد علی خامنہ ای کی میت کو عراق میں نجف اشرف میں حضرت علیؓ اور کربلا میں امام حسینؓ کے روضہ مبارک پر لے جایا گیا۔ ان دونوں مقامات پر بھی لاکھوں لوگوں نے سید علی خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ جانے والے جلوسوں میں شرکت کی اور نمازِ جنازہ ادا کی۔ اظہارِ عقیدت کے دوران لاکھوں ایرانیوں اور عراقیوں کو روتا دیکھ کر صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ لوگ رہبرِ اعلیٰ کیلئے اتنی پُرجوش عقیدت رکھتے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ مجھے لوگوں کے اپنے رہنما کیلئے آنسو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ اصل حیرت تو امریکی صدر کو یہ ہوئی کہ اہلِ ایران کے بارے میں ان کے سارے مفروضے اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔
نو جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت ایران کے شہر مشہد میں روضۂ امام رضا پر لایا گیاجہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نہ صرف ایران کے دوسرے شہروں بلکہ کئی ممالک سے شہید آیت اللہ کو الوداع کہنے کیلئے سوگواران آئے ہوئے تھے۔ یوں چھ روز کے دوران کروڑوں لوگوں نے سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی قلبی و روحانی وابستگی کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی کا اظہار کیا اور امریکہ سمیت ساری دنیا کو پیغام دیا کہ ایرانی پرچم کے تلے ہم ایک ہیں۔ یوں فہم و فراست کی وہ شمع جو 19 اپریل 1939ء کو اس دنیا میں وارد ہوئی تھی وہ اپنے علم و عرفان سے ایک دنیا کو منور اور اپنے لہو کے چراغوں سے اپنی قوم کو شجاعت و شہادت کا سبق ازبر کرا کے نو جولائی 2026ء کو مشہد میں ایک مطمئن روح کی حیثیت سے اپنی ابدی آرام گاہ میں اُتر گئی۔ جن دنوں جنازے کا جلوس اپنے اختتامی مرحلے کی طرف گامزن تھے اُنہی دنوں میں امریکہ نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ امریکہ کا موقف یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں دو خلیجی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکہ نے ایران میں 90اہداف پر حملے کیے جن میں ریلوے لائن جیسے شہری مقامات بھی شامل ہیں۔ جواباً ایران نے بحرین‘ کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ یوں جواب الجواب سے ایک بار پھر اسلام آباد ایم او یو کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امن چاہتے ہیں تو پھر اس کے تقاضوں کو بھی پورا کریں۔
آج عرب دنیا پہلے جیسی نہیں وہ اب ایران کے ساتھ مل کر خطے میں امن کا قیام اور امریکی چھاتے سے گلوخلاصی چاہتی ہے۔ ایران امریکہ معاہدے کے ساتھ غزہ اور لبنان کا امن بھی جڑا ہوا ہے۔ دنیا ٹرمپ کے نہیں ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس لیے ایران کو خطے میں پائیدار امن کیلئے زیادہ صبر و تحمل اور حکمت و تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ایران ناقابل شکست اس لیے ہے کہ ساری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ایک ساتھ کھڑی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved