تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     11-07-2026

سنگلاخ سرزمین پر اُگنے والا پھول

آج ذکر کوہاٹ کی سنگلاخ سرزمین پر اُگنے والے اس پھول کا کہ جس کی خوشبو سے ا ویران چمن مہک اٹھا۔ یہ ویرانی ایوبی آمریت کی وجہ سے تھی۔ لکھنے اور بولنے بلکہ ترقی پسند خطوط پر سوچنے اور عوام دوستی کے خواب دیکھنے پر بھی پابندی عائد تھی۔ شاہی فرمان جاری کر دیا جائے تو حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہر حالت میں رقص کرنا ہوگا چاہے‘ بقول جالب‘ زنجیر پہن کر کیا جائے۔ آدابِ شہنشاہی سے واقفیت نہیں تو شاہی قلعہ لاہور کی 'درسگاہ‘ میں جاکر یہ آداب سیکھنے ہوں گے۔ حسن ناصر سے لے کر نذیر عباسی تک‘ باقی بلوچ سے لے کر ضمیر قریشی تک‘ کتنی ہی داستانیں ہیں‘کہاں تک بیان کی جائیں۔ بعد ازاں بھٹو دور میں بھی یہ تسلسل برقرار رہا اور خواجہ رفیق اور ڈاکٹر نذیر احمد سے لے کر لیاقت باغ راولپنڈی میں نیپ کے پُرامن جلسے پر فائرنگ تک‘ کیا کچھ پیش نہیں آیا۔ یہ تھا تو جبر‘ گھٹن اور حبس کا موسم‘ جو پورے ایک عشرے پر محیط تھا اور اس میں روشنی کی واحد کرن جو نظر آتی ہے‘ وہ لاہور ہائیکورٹ سے پھوٹی۔ یہی وہ امید کی کرن تھی جو لاکھوں چہروں پر مسکراہٹ لائی اور لاکھوں دلوں سے مایوسی کی تاریکی کو ہٹایا۔ لطیف مزاج اور سنجیدگی کا کمال امتزاج۔ اہلِ وطن کی بڑی تعداد کو نہ صرف اپنی شگفتگی‘ تازگی‘ بے ساختہ پن اور معصومیت سے ہنسایا بلکہ ان کو غور وفکر کی دعوت بھی دی۔
1958ء سے 1968ء تک‘ پہلے مارشل لاء کے دس سال میں سارے سیاستدان (جو پہلے ہی عوام سے بہت دور ہو چکے تھے) زیر عتاب تھے۔ حمید نظامی‘ الطاف حسین‘ مظہر علی خان اور آئی ایچ برنی کے علاوہ سبھی اخبار نویس منقارِ زیر پر تھے۔ بار ایسوسی ایشنز بھی خاموش تھیں۔ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے اہل افراد یا مفرور تھے یا دبک گئے تھے۔ کچھ کسی نہ کسی حیثیت میں آمر مطلق کے مددگار یا سہولت کار بن گئے تھے۔ مثلاً قدرت اللہ شہاب کا بنایا ہوا رائٹرز گلڈ‘ جسے رائٹرزگلٹ بھی کہا جاتا تھا۔ اسی طرح مادرِ ملت کے خلاف ایوب خان کی صدارتی مہم میں حنیف رامے کا اُن کا سیکرٹری برائے نشر و اشاعت بن جانا۔ایسے میں جس نے تاریخ کی صدا پر حکمِ اذاں کیلئے لبیک کہا وہ تھے مغربی پاکستان ہائیکورٹ کے جج (اور پھر چیف جسٹس) محمد ر ستم (ایم آر) کیانی۔
رستم کیانی اکتوبر 1902ء میں کوہاٹ کے ایک گائوں شاہ پور میں (خان بہادر) عبدالصمد کیانی کے گھر پیدا ہوئے۔ پہلے ان کا نام جالندھر خان کیانی رکھا گیا مگر یہ بچہ جب بڑا ہوا تو اس نے والدین کی اجازت سے اپنا نام محمد رستم کیانی رکھ لیا۔ وہ خود بتاتے تھے کہ نویں جماعت کے ایک بچے نے انہیں خط لکھ کر پوچھا کہ ایم آر سے کیا اخذ کیا جائے؟ کیا آپ محمد رمضان ہیں یا ملک رنجیت۔ جواب میں کیانی صاحب نے لکھا کہ وہ نہ ملک رنجیت ہیں نہ محمد رمضان بلکہ ایم آر سے مراد محمد رستم ہے۔ ان کے نام میں شامل رستم سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی قوی ہیکل شخص تھے‘ اس کے برعکس وہ دبلے پتلے‘ پست قد انسان تھے۔ ان کا ایک بھائی ایوب خان کے دور میں وزیر بنا اور دوسرا بھائی ڈی آئی جی پولیس کی حیثیت سے ریٹائر ہوا۔
رستم کیانی نے اپنا تعلیمی سفر شاہ پور گورنمنٹ سکول سے شروع کیا۔ 1916-17ء میں اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹر کی تعلیم ایڈورڈ کالج پشاور میں حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور فارسی میں بی اے آنرز کیا۔ پھر انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی اور انڈین سول سروس (ICS) میں شامل ہوئے‘ جس کی بدولت 1923ء تا 1926ء برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھائی کی اور 1927ء میں برطانیہ سے واپس آکر شعبۂ قانون کے انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دینے لگے۔ 1938ء میں اُن کا سول سروس کے انتظامی شعبہ سے عدلیہ میں تبادلہ کر دیا گیا۔ اگلے گیارہ برس وہ سیشن جج رہے۔ 1940ء کے لگ بھگ ڈیرہ غازی خان میں بطور سیشن جج تعینات ہوئے۔ دیگر افسران کی طرح انہیں موسم گرما ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی مقام فورٹ منرو میں گزارنے کی سہولت حاصل تھی۔ انہی سالوں میں میرے والد‘ جو تونسہ میں میڈیکل آفیسر تھے‘ کو چار ماہ کیلئے فورٹ منرو‘ وہاں مقیم انگریز اور دیسی افسروں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے بھیجا گیا۔ ابا جی بتاتے تھے کہ کیانی صاحب ہمارے پڑوسی تھے اور دمہ کے مستقل مرض میں مبتلا تھے اس لیے تقریباً ہر روز ہمارے گھر آتے تھے۔ اس وقت مضمون نگار کی عمر تین‘ چار برس تھی۔ مجھے نہ ہِل سٹیشن یاد ہے اور نہ کیانی صاحب۔ تاہم ان سے میری اگلی ملاقات 18 برس بعد لاہور میں ہوئی جب میں ایم اے او کالج لاہور کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا اور وہ ہائیکورٹ کے جج۔ میں اُنہیں کالج میں ایک بڑی تقریب میں شرکت کی دعوت دینے کیلئے ہائیکورٹ ملنے گیا۔ اُنہوں نے عدالتی وقت کے بعد‘ دوپہر میں مجھے بلایا۔ یہ ملاقات میری توقع سے دگنی طویل ہوئی۔ وہ بڑی محبت سے پیش آئے۔ میں نے انہیں فورٹ منرو یاد دلایا تو وہ کہنے لگے کہ انہیں نہ صرف اپنا ڈاکٹر بلکہ اس کے دونوں بیٹے (میں اور میرا بھائی) اچھی طرح یاد ہیں۔ اس وقت کا ناقابلِ علاج مرض (دمہ) اور دل کا کوئی پوشیدہ مرض 60 برس کی عمر میں کیانی صاحب کی ناگہانی وفات کا موجب بنا۔ وہ اکتوبر 1962ء میں ریٹائر ہوئے اور اگلے ہی مہینے مشرقی اور مغربی پاکستان میں اپنے لاکھوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اُس جہان چلے گئے جہاں ایک دن ہم سب کو جانا ہے۔
جسٹس کیانی کے ایک مشہور کیس کا میں پہلے بھی اپنے ایک کالم میں ذکر کر چکا ہوں۔ افسانہ نگار قمر یورش ایک بے حد جذباتی شخص تھے‘ اُنہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے نفیس خلیلی کا ایک شعر ''دیکھتا کیا ہے میرے منہ کی طرف؍ قائداعظم کا پاکستان دیکھ‘‘ اتنی بار پڑھا کہ اُن پر حکومتِ وقت کے خلاف نفرت پھیلانے کے جرم کا مقدمہ ہو گیا۔ وکیل صفائی محمود علی قصوری تھے اور جج تھے جسٹس کیانی۔ اُنہوں نے وکیلوں کو دلائل دینے کی بھی زحمت نہ دی اور ہنستے ہوئے قمر یورش کو بری کر دیا۔ جسٹس کیانی کی ساری کتابیں کمال کی ہیں۔ افکارِ پریشان‘ The Whole Truth‘A Judge May Laugh‘ Half Truth‘ Not the Whole Truth اور Some More Truth۔
جب لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچا تو اسے دستور کے مطابق سپریم کورٹ کا جج نہ بنایا گیا۔ کیانی صاحب کو ایک تقریب میں تقریر کے لیے بلایا گیا۔ اس تقریب میں گورنر نواب آف کالا باغ بھی موجود تھے۔ جسٹس کیانی نے کہا: میں تقریر کرنے کے بجائے صرف تین جملے ادا کروں گا۔ میرے بعد نواب کالا باغ تقریر کریں گے۔ وہ آج کے مہمانِ خصوصی ہیں۔ وہ اپنی تقریر میں عوام کو سبز باغ دکھائیں گے۔ سب سے زیادہ محظوظ خود نواب صاحب ہوئے اور لوگوں نے غالباً پہلی بار اُن کے رعب دار چہرے پر مسکراہٹ دیکھی۔ جن تقریبات میں کیانی صاحب تقریر کرتے تھے‘ وہ قوسِ قزح کے رنگوں سے مزین اور پھلجھڑی کی طرح ظرافت کی چنگاریاں چار سو بکھیرتی تھیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے ''اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ لکھی تو اُس میں جسٹس کیانی کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا ''اُنہوں نے اپنی تقاریر میں حکومت‘ معاشرے اور خامیوں پر طنز تو کیا کی لیکن مزاح کے پردے میں‘ اس لیے ان کا طنزو مزاح کو جنم دیتا ہے اور مزاح تبسمِ زیر لب کو۔ جسٹس کیانی نے مزاحیہ تقریر کو اُردو ادب میں بطور ایک صنف متعارف کرایا‘‘۔
کوہاٹ کی سرزمین ہی جسٹس کیانی کی آخری آرام گاہ بنی۔ بقول اقبال: سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے اور آسمان تری لحد پر شبنم افشانی کرے‘ مگر کیا سبزہ اور آسمان کو یہ کام سونپ کر ہم اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے؟ بدقسمتی سے ہم انہیں بھول چکے‘ ان کی تحریروں اور تقریروں کو بھی۔ ان دھندلاتی یادوں کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ اعلیٰ اقدار سے گہری وابستگی نے اُن کی صدق بیانی کو شرفِ دوام بخشا‘ وہ پہلے کی طرح آج بھی سدا بہار ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved