گانے میں تو یہ ہے کہ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوبتے جانا۔ لیکن ہمارے پس منظر میں بات کچھ ایسی بنتی ہے اک آگ کا دریا ہے اور چپ سی لگی ہوئی ہے۔ پورا ایک گول دائرہ ہے نقشے پر جس میں شورش کے شعلے بھڑک رہے ہیں‘ لیکن حالت یہ کہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ذرائع ابلاغ کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ زمانہ وہ بھی تھا جب پابندیوں کے باوجود بات کر لی جاتی تھی اور کئی دفعہ تو بات بڑی کھنک سے ہوتی تھی۔ لیکن ایک وہ زمانہ کہ جب یوں جانیے کہ مغربی پاکستان کے اخبارات کی آواز کہیں کھو گئی۔ وہ پاکستان جو ہم سے چلا گیا وہاں المیے کا مقام تھا لیکن اخبارات اپنی آواز سے محروم ہوگئے اور یہاں کے بیشتر سیاست دانوں نے بھی مصلحت کا ایسا لبادہ اوڑھا کہ زبانیں گنگ ہوگئیں اور آنکھیں بینائی کھو بیٹھیں۔
کچھ سر پھرے تھے جنہوں نے کچھ کہنا چاہا لیکن سرکاری مصلحتوں کی یلغار میں اُن کی آوازیں دب گئیں۔ اور پھر مردِ میدان ذوالفقار علی بھٹو نے بھی تو یہ کہا تھا کہ کوئی یہاں سے وہاں اسمبلی کے اجلاس میں گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ شاید ایک احمد رضا قصور ی تھا پاکستان پیپلز پارٹی سے جو ڈھاکہ گیا۔ مذاکرات کے لیے بھٹو صاحب بھی گئے تھے لیکن 25مارچ کو ایکشن شروع ہوا تو کراچی واپس آکر اُنہوں نے یہ تاریخی جملہ ادا کیاکہ خدا کا شکر پاکستان بچ گیا۔ چند ماہ بعد ہی یہ بچا ہوا پاکستان دولخت ہو گیا۔
اب تو نہ کوئی ہنگامے میں بلایا جانے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ہے اور نہ کوئی ایسی آواز کہ فلاں کرنے پر ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ لیکن ایک چپ سی لگی ہوئی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ کچھ کہنے کی عادت چلی گئی ہے۔ یہ بات خاص طور پر پانچ دریاؤں کی سرزمین پر فِٹ بیٹھتی ہے (محاورتاً پانچ دریاؤں کا ذکرہو گیا نہیں تو دو کے پانی اب کسی اور رخ بہتے ہیں)۔ پنجاب میں گمان گزرتا ہے جیسے بلوچستان‘ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ سب امن اور شانتی ہے۔ بھلے ان دور دراز علاقوں میں گولیوں کی آوازیں آ رہی ہوں لیکن کیا بے نیازی ہے پنجاب کی کہ یہاں کچھ سنائی نہیں دیتا۔ یہاں کے روزمرہ معمولات دیکھے جائیں تو لگتا ہے کہ بس شادی ہال ہیں اور اُن کا دلفریب کاروبار۔ کے پی کے کی جھڑپوں میں اب ڈرون اُڑان کرنے لگے ہیں لیکن یہ دور کی آوازیں ہیں‘ پنجاب کے آرام میں خلل پیدا نہیں کرتیں۔
وہاں توپ و تفنگ کی گونج لیکن یہاں کے معمولات ہی اور ہیں کہ جہاز کون سا خریدا گیا کس شایانِ شان مقصد کے لیے خریدا گیا۔ اڈیالہ جیل میں کون ملاقاتی آ سکتے ہیں اور کون نہیں۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ مری اور مظفرآباد تک ایک شیشے یا گلاس ٹرین کا تصور ذہنوں پر سوار ہو جاتا ہے۔ مظفر آباد اور اُن علاقوں میں صورتحال کیا ہے اور یہاں کی ترجیحا ت کیا ہیں۔ ملکِ عزیز کی کیفیت کچھ یوں لگتی ہے جیسے دو زاویوں میں بٹی ہو‘ ایک شورش زدہ علاقوں کی ایک سرکاری ایوانوں کی۔ دو بالکل مختلف حقیقتیں اور داد دینی پڑتی ہے غیورپنجابی عوام کو کہ انہیں اس کا کوئی ادراک اور احساس نہیں۔
سرکاری ہلہ شیری کا ایک اپنا ہی کمال ہوتا ہے۔ امریکہ جب ویتنام میں پھنستا جا رہا تھا تو سرکاری اعدادوشمار اور امریکی میڈیا کی رپورٹنگ سے معلوم ہوتا تھا کہ امریکہ بس جنگ جیتنے ہی والا ہے۔ زوردار پریس کانفرنسوں میں بتایا جاتا کہ ویت کانگ کے اتنے لوگ مارے گئے۔ لاف زنی کا تسلسل جاری رہا اور امریکی افواج ویتنام جنگ کی دلدل میں دھنستی گئیں۔ مزید فوجی بھیجے گئے‘ تباہ کن بمباری ہوئی اور جنگ طویل ہوتی گئی۔ محض زورِبیان سے کچھ حاصل ہونا ہوتا تو امریکہ وہ جنگ جیت چکاتھا۔ یہ تو تاریخ کا بہت دہرایا ہوا تجربہ ہے کہ طاقتور سے طاقتور قوم کہیں پھنس جائے تو ایک مرحلہ آتا ہے جب عقل اور شعور کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ لیڈر پھر اپنے ہی بنائے ہوئے تصوراتی خول میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جتنا بھی کوئی باہر سے کہے کہ پاگل پن کے فیصلے موڑے جائیں اور دلدل سے نکلنے کی کوشش کی جائے ایسی باتیں ایسے کانوں پر پڑتی ہیں جو کچھ سننے کے قابل نہیں رہتے۔ نپولین اور ہٹلر کی یہ حالت روس کو فتح کرنے کی کوشش میں ہو گئی تھی۔ امریکہ کی یہ حالت ویتنام میں ہوگئی تھی۔ کچھ ایسی ہی کیفیت 71ء میں پائی گئی جب اُس وقت کی ریاستی قیادت مشرقی پاکستان کے حالات کو سمجھنے کے قابل نہ رہی۔ مزید اس موضوع پر کیا کہا جائے۔ ضرورت کس امر کی ہے اور زور کہاں لگ رہا ہے۔ حالات کا تقاضا کیا ہے اور توانائیاں کہاں صرف ہو رہی ہیں۔
باقی صوبوں میں شعور کا ارتقا کسی اور انداز میں ہو اہے۔ پنجاب جو ریاست کے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے یہاں کے شعوری معاملات کچھ اور ہی ہیں۔ جس ذہنی حساسیت کی ضرورت ہے وہ تو لگتا ہے یہاں کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ بس اپنے حال میں مست ‘ یہاں کے دورے وہاں کے دورے۔ آگ کا دریا جو آبنائے ہرمز بنا ہو اہے اُس کا ادراک بہت ہے۔ ہلکا سا اشارہ ملنے پر مصالحتی کارواں تیار ہو جاتے ہیں۔ جو آگ کا دریا اپنا ہے اُس کے بارے میں جو احساس ہونا چاہیے وہ بیشتر اوقات آنکھوں سے اوجھل ہو جاتاہے۔ کوئی بڑے واقعات ہو جائیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں ہوئے ہیں پھر کوئٹہ کا سفر طے پاتا ہے۔ لیکن اکثر ایک روز کیلئے پھر کششِ اسلام آباد واپس بلا لیتی ہے۔ حالات نے مزید کتنا سنگین ہونا ہے کہ فروعی چیزیں چھوڑ کر اس طرف توجہ دی جائے۔
مختلف حالات میں مختلف بیانیے بنتے رہتے ہیں لیکن بلوچستان کے حوالے سے جس بیانیے کا چرچا کیا جاتا ہے اُس سے ہندوستان کے ہاتھ بہت لمبے لگنے لگتے ہیں کہ دور بیٹھے افغانستان‘ ایران اور بحیرہ عرب سے ہوتے ہوئے پاکستان کیلئے اتنا فتنہ پیدا کر رہا ہے۔ مشرق میں ہمارے پانیوں پر دباؤ‘ مغرب میں اتنا بڑا فتنہ جس سے تباہی پھیل رہی ہو۔ کیاحکمت ہے اس بات میں کہ دور بیٹھے حریف کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے؟ ہماری ناقص رائے میں اس پر کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔
البتہ یہ کہنا سراسر فضول ہے کہ داخلی سیاسی محاذ آرائی کم کی جائے۔ ایوانانِ اقتدار میں ایسی رائے کو پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ آبنائے ہرمز سے متعلقہ مصالحتی معاملات پر ضرور بات کی جائے ‘ اونچی آواز میں کی جائے‘ لیکن سیاسی معاملات پر گفتگو سے پرہیز ہی بہتر ہے‘ عوام کی صحت کیلئے اور دوسروں کے اطمینانِ قلب کیلئے۔ اس مسئلے پر یوں سمجھئے لکیر پھِر چکی ہے۔ بس پھر یہی ہے کہ تماشا دیکھتے جائیں کہ ہو کیا رہا ہے‘ حالات کیا ہیں‘ سرکاری ترجیحات کیا ہیں‘ سرکاری سوچ کے تقاضے کیا ہیں۔ بے چینی ہوگی اُن دوردراز علاقوں میں لیکن آسمانوں کی مہربانی ہے کہ پنجاب شانت ہے‘ اسلام آباد کو دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو درپیش کچھ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اسی پر خوش رہتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved