تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     12-07-2026

ملتانی رونا لیلیٰ‘سندھی بھٹو اور ہندوستانی سکھ

مجھے پرانی کتابوں کی دکانوں یا آن لائن اولڈ بکس پر زیادہ اچھی کتابیں مل جاتی ہیں۔ مجھے آج بھی ہاتھ کی کتابت اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ شاید میں ابھی تک بچپن سے جڑا ہوا ہوں۔ کمپیوٹر کی لکھی کتابیں میرے لیے وہ کشش نہیں رکھتیں جو کاتب کی لکھی کتابیں رکھتی ہیں‘ اس لیے میں ہمیشہ ان کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہوں جو ہاتھ سے لکھی گئی ہوں خصوصا ًقرۃ العین حیدر‘ ٹیگور‘ منٹو‘ بلونت سنگھ کے ناول اور افسانے۔ اس شوق یا جنون کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ میرے ہاتھ نایاب کتابیں بھی لگ جاتی ہیں۔ ابھی اس کتاب کو ہی دیکھ لیں جو خوشونت سنگھ کی اپنے انگریزی اخبار؍جریدے کیلئے لکھی گئی تحریریں ہیں جو انہوں نے پروفائل شکل میں چھاپی تھیں۔ ان کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ پاکستان میں کر کے چھاپا گیا۔ تاہم حیرانی کی بات ہے کہ اس پر اشاعت کا سال نہیں لکھا ‘اگرچہ چھپی اردو بازار لاہور سے تھی۔ جس بندے نے ان شاندار مضامین کا ترجمہ کیا تھا اس کا نام بھی اس کتاب کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ کتاب کا نام دلچسپ رکھا گیا۔ ''اچھے لوگ برُے لوگ‘‘۔ شاید یہ خوشونت سنگھ کی کتاب The Good, the Bad and the Ridiculousسے اردو میں ترجمہ کیے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ کسی نوجوان کو کچھ پیسے دے کر کہا گیا کہ بیٹا بس دو تین دنوں میں کر کے دو اور یہ پیسے پکڑو۔ چھاپنے کی اتنی جلدی تھی کہ اس پر نہ مترجم کا نام ہے نہ ہی اس انگریزی کتاب کا جہاں سے یہ پروفائل لے کر اردو میں ڈھالے گئے بلکہ اتنی جلدی کہ سال لکھنا بھی یاد نہ رہا۔ قیمت والا خانہ خیر سے اس صاحب نے مٹا دیا جس نے وہ پرانی کتاب بیچنے کا کاروبار شروع کیا۔ اکثر پرانی کتب والے یہ کام کرتے ہیں جس سے مجھے بہت چڑ ہے کہ بھائی سال اور قیمت نہ مٹایا کرو کہ یہی تو نشانیاں ہوتی ہیں کہ کس دور میں کس قیمت پر کتاب چھپ کر مل جاتی تھی۔ اس طرح زمانوں کی رفتار کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ایک دفعہ انارکلی لاہور میں یہی بات پرانے کتب فروش سے کی کہ آپ لوگ قیمت کیوں کاٹ دیتے ہو۔ کہنے لگا: اگر ہم وہ قیمت رہنے دیں جو تیس چالیس سال پہلے تھی تو گاہک اس قیمت پر لینے پر اصرار کرتا ہے۔ ہم بتاتے ہیں اب زمانے گزر گئے اور کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے تو وہ نہیں لیتا۔ میں نے کہا: اگر میں آپ کی جگہ ہوں تو وہ کتاب ایسے بے ذوق بندے کو ویسے ہی نہ بیچوں جسے اتنا علم نہیں کہ ایسی پرانی کتابوں کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھ جاتی ہے نہ کہ تیس چالیس سال پہلے والی قیمت پر آپ کو مل جائے گی۔ آپ لوگ اس کتاب کے حقدار کا انتظار کریں جو آپ کو اس کی مناسب قیمت دے گا۔ خیر اب اس کتاب کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اس پر قیمت‘ سال اور مترجم کا کچھ نہیں لکھا۔ اس کتاب میں مختلف اہم شخصیات پر خوشونت سنگھ نے جو کچھ لکھا اسے شامل کیا گیا ہے۔ اس میں بہت اہم لوگ شامل ہیں جن میں پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں جن کا انٹرویو انہوں نے 1976ء میں پاکستان میں کیا تھا جب وہ وزیراعظم تھے اور شملہ معاہدہ ہوچکا تھا۔ اس انٹرویو میں ایک جگہ خوشونت سنگھ بھٹو صاحب سے اندرا گاندھی کے بارے سوال کرتا ہے۔ مجھے یاد آیا اس انٹرویو سے چند سال قبل یورپین صحافی اوریانا فلاسی نے بھٹو کا انٹرویو کیا تھا۔ اس انٹرویو نے شملہ معاہدہ خطرے میں ڈال دیا تھا کیونکہ بھٹو صاحب نے جو کچھ اندرا کے بارے کہا تھا وہ بہت سخت تھا اور لفظوں کا چنائو بہتر نہیں تھا۔ اب کی دفعہ بھٹو صاحب ماضی سے سبق سیکھ چکے تھے لہٰذا انہوں نے اندر گاندھی کی تعریف کی۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں: 1976ء میں قائداعظم کے ایک سو سالہ جشنِ سالگرہ پر انہیں بھی وزیراعظم بھٹو کی طرف سے دعوت دی گئی تھی۔ بھٹو صاحب سے تعارف کرایا گیا تو ان کے ہاتھ میں گرم جوشی محسوس ہوئی تو انہوں نے انٹرویو کی درخواست کر دی۔ بھٹو صاحب نے چند دن بعد کا وقت دیا۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں‘ بھٹو بیک وقت تین شخصیتوں کا مالک ہے۔ وہ جاگیردارنہ مزاج کا سندھی زمیندار‘ آکسفرڈ کا تعلیم یافتہ یورپیوں کی طرح خوش اخلاق اور خوش اطواراور سیاستدانوں کی سی مکاری کا حامل سیاستدان جو موقع کے مطابق اپنی شخصیت کے سحر کو بروئے کار لاتا ہے۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں، بھٹو کی راولپنڈی والی رہائش گاہ کسی خاص طرزِ تعمیر سے عاری اور ایک منزلہ ہے۔ البتہ اس کے اردگرد پنجابی اور پٹھان دراز قد فوجی سپاہیوں کا حفاظتی پہرہ ہے۔ پاکستان میں آنے والے کسی بھی شخص کو بھٹو کی غیرمعمولی ہر دلعزیزی بہت جلد معلوم ہو جاتی ہے۔ وہ پاکستان کی 'یک شخصی جمہوریت ‘ کا بانی اور محافظ ہے۔ اے ڈی سی خوشونت سنگھ کو اس کمرے میں لے گیا جہاں انسائکلوپیڈیا کی ضخیم جلدیں کمال احتیاط کے ساتھ قطار اندر قطار رکھی تھیں۔ دیوار پر استاد اللہ بخش کے سٹائل پر مبنی پنجابی مٹیاروں کی ایک بڑی آئل پینٹگ آویزاں تھی۔ قریب ہی نرگس کے پھولوں سے بھرا ایک گملا جس سے بھینی بھینی خوشبو آرہی ہے۔ بھٹو صاحب عین اس لمحے اندر داخل ہوتے ہیں جو ملاقات کے لیے مختص تھا۔ خوشونت کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت جلدی میں ہیں لہٰذا وہ بھی فوراً سوالات کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم خوشونت سنگھ نے جو کچھ رونا لیلیٰ کی جادوبھری آواز کے بارے میں لکھا ہے وہ اپنے اندر بہت خوبصورتی سموئے ہوئے ہے۔ لکھتے ہیں‘ ایک رات انہیں رونا لیلیٰ کو سننے کا اتفاق ہوا۔ شاید وہ فیض احمد فیض کی شاعری گا رہی تھی جس میں بادلوں اور شراب کی خواہش تھی اور پھر ہر خواہش سے بے نیازی اور دوسرا ایک بنگلہ لوک گیت تھا جس میں عاشق قسمیں کھا کر محبوبہ سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔ آخری گیت ملتانی گیت تھاجس کا ایک لفظ مجھے سمجھ میں نہیں آیا لیکن رونا لیلیٰ کے اس ملتانی گیت نے سب سے زیادہ لطف دیا۔ اجیت سیٹھی درست کہتا ہے کہ رونا کو کانوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی سننا چاہیے۔ اس کی خوبصورت آواز اور اداس چہرہ اور مترنم ادائیگی نے میری نیند خراب کر دی۔ وہ کون پاجی تھا جس نے اس کی مسکراہٹیں اداس کر دی تھیں۔ خوشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ پردہ اٹھنے سے پہلے چند لمحے رونا لیلیٰ کی والدہ بیگم سید امداد علی سے گفتگو کرنے کے لیے مل گئے۔ ان پانچ منٹوں میں وہ بیٹی کے گائیکی میں مستقبل سے زیادہ اپنے خاندان کی عزت و توقیر کے متعلق گفتگو کرتی رہیں۔ ان کے خاوند امداد چٹاگانگ میں کسٹمز افسر تھے۔ رونا لیلیٰ تقسیم سے پہلے سلہٹ میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس کے والد نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا اور پھر یہ خاندان ملتان جا کر آباد ہوا۔ وہ لکھتے ہیں کہ تمام زبانیں رونا لیلیٰ نے موسیقی کے ذریعے سیکھیں۔ وہ ایک رقاصہ بننا چاہتی تھی لیکن آل پاکستان میوزک مقابلے میں اس نے پہلا انعام جیتا تو اس کی توجہ موسیقی کی طرف ہوگئی۔ اس نے استاد کاؤبھوپالی سے تربیت حاصل کی۔ موسیقی کے مقابلوں سے پھر فلموں سے سٹیج شوز تک اس نے بنگالی‘ پنجابی‘ ملتانی‘ پشتو‘ سندھی‘ اردو اور ہندی کے تقریباً تین ہزار گانے گائے۔ اب وہ لتا ‘ آشا اور کشور کی طرح اونچا معاوضہ وصول کرتی تھی۔ بمبئی کے ایک پروگرام میں اسے چودہ ہزار پیش کیے گئے۔ سٹیج پر اس جیسی پذیرائی ہمارے اور کسی گلوکار کے نصیب میں نہیں۔ اور اس کے ہاتھ میں دوسرے گلوکاروں کی مانند کبھی کوئی نوٹ بک نہیں دیکھی گئی۔ ویسے میرے لیے یہ نئی بات تھی کہ رونا لیلیٰ کا خاندان سلہٹ سے ملتان جا بسا تھا جہاں اس نے بقول خوشونت سنگھ ملتانی ( آج کی سرائیکی) میں گیت گائے جس کے شعر خوشونت سنگھ جیسے پکے پنجابی کی سمجھ میں تو نہیں آئے لیکن وہ ملتانی گیت سُن کر اس کی راتوں کی نیند اُڑ گئی تھی۔ ملتانی مٹی سے ابھرے گیتوں کی صدیوں پرانی اداسی اور اوپر سے رونا لیلیٰ کی مترنم آواز میں لبریز اداس چہرہ خوشونت سنگھ کی یادوں سے کبھی نہ اترا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved