تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     12-07-2026

ٹک ٹک

بم کی ڈیفی نیشن یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ ایک ایسا دھماکہ خیز ہتھیار ہے جو تیز رفتار کیمیائی‘ جوہری یا دیگر ردِ عمل کے ذریعے تباہی‘ آگ اور نقصان پھیلانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ بم کیمیکل ری ایکشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اندرونی دباؤ کے ریلیز ہونے کے نتیجے میں دھماکے اور شدید توانائی کے اخراج کا باعث بنتا ہے۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں بم کئی طرح کے ہوتے ہیں‘ سب کے سب تباہی پھیلانے والے۔ میں جس بم کی بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ بھی تباہی پھیلانے والا ہی ہے لیکن یہ تیز رفتار کیمیائی عمل کے نتیجے میں نہیں پھٹتا۔ یہ ہے آبادی کا بم جس کی ٹک ٹک عالمی اور ملکی سطح پر شروع ہو چکی ہے اور اس ٹک ٹک کو روکا نہ گیا تو پھر ایک بڑی تباہی نسلِ انسانی کا مقدر بن سکتی ہے۔
آبادی کے حوالے سے تاریخی گراف ملاحظہ کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سولہویں صدی عیسوی کے اختتام اور سترہویں صدی کے آغاز تک آبادی کا گراف نہایت ہموار انداز میں آگے بڑھ رہا تھا‘ یعنی جتنی سال بھر میں آبادی بڑھتی اتنی ہی یا اس سے کچھ کم معدوم ہو جاتی تھی‘ اس طرح آبادی کا ایک توازن قائم رہا۔ آبادی بڑھتی تو رہی لیکن اس کے بڑھنے کی رفتار نہایت سست تھی۔ سترہویں صدی کے دوران آبادی میں غیرمعمولی اضافے کا آغاز ہوا۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 1650ء میں زمین پر انسانی آبادی 0.5 بلین تھی یعنی نصف ارب جو 1750ء یعنی ایک سو برس میں بڑھ کر 0.7 ارب یعنی کم و بیش پون ارب ہو گئی۔ 1804ء میں انسانی آبادی نے پہلی بار ایک ارب کے ہندسے کو چھوا‘ اور پھر چل سو چل والا معاملہ ہو گیا۔ 1930ء میں آبادی دو ارب ہوئی اور اگلے 30 برسوں میں اس میں ایک ارب کا اور اضافہ ہو گیا‘ یہ تین ارب ہو گئی۔ تین ارب کی آبادی کو چار ارب بننے میں محض 14 سال کا عرصہ لگا اور اگلا ایک ارب (پانچواں) محض 12سالوں میں ہی پورا ہو گیا۔ 1986ء میں آبادی پانچ ارب تھی جو 1998ء میں چھ ارب، 2010ء میں سات ارب اور 2022ء تک آٹھ ارب ہو چکی تھی۔ شماریاتی پیش گوئی یہ ہے 2029ء تک زمین پر انسانی آبادی ساڑھے آٹھ ارب ہو چکی ہو گی جبکہ 2037ء میں یہ نو ارب ہو جائے گی اور 2060ء تک یہ پورے دس ارب ہو جائے گی۔
گزشتہ تین صدیوں میں آبادی میں اضافہ کیوں اتنی تیز رفتاری سے ہوا؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ کچھ لوگ اسے صنعتی ترقی کا مرہونِ منت قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ دوسروں کے خیال میں یہ سب کچھ میڈیکل کے شعبے کی ترقی اور ادویات اور ویکسینز کے ذریعے موذی اور جان لیوا بیماریوں پر قابو پانے کا نتیجہ ہے۔ کچھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بہتر تعلیمی مواقع اور آگہی کا حصول خصوصاً خواتین کیلئے‘ پیدائش کی شرح میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ معاشی آسودگی اور زندگی کی سہولیات میں اضافے (صنعتی ترقی کے نتیجے میں) نے بھی شرح پیدائش کو بڑھایا۔
آبادی کے بڑھنے کی جہاں کچھ مثبت جہتیں ہیں وہاں کچھ منفی عوامل اور نتائج بھی سامنے آتے ہیں‘ جیسے ایک معینہ مدت میں (عام طور پر یہ ایک سال لیا جاتا ہے‘ دس سال کا عرصہ بھی مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے) آبادی میں ہونے والا اضافہ اسی مدت میں پہلے سے موجود آبادی کی جانب سے کی جانے والی ترقی کو کھا جاتا ہے اور حتمی نتیجہ ایک معاشی جمود کی شکل میں نکلتا ہے۔ جب کوئی ملک یا معاشرہ ترقی نہ کرے تو اس کے نتیجے میں بے روزگاری پیدا ہوتی ہے‘ جو بالواسطہ لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی کا باعث بنتی اور غربت کی شرح کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ آبادی زیادہ ہو تو کمانے والے کم اور کھانے والے زیادہ ہو جاتے ہیں اس طرح سب کو پیٹ بھر نہیں ملتا‘ اسی وجہ سے متوازن خوراک کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے جو وسیع آبادی میں صحت کے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے اور صحت یابی کے لیے پھر آگے مزید پیسے خرچنا پڑتے ہیں۔ بیمار ویسے بھی معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ زیادہ آبادی دستیاب وسائل کی منصفانہ تقسیم کی راہ میں رکاوٹ بھی ثابت ہوتی ہے۔ تیز رفتار آبادیاتی اضافہ تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور وسائل پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے جس کے نتیجے میں ان وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں رہتی۔
مذہبی لحاظ سے ڈیموگرافی چارٹ پر نظر ڈالیں تو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر مسیحی ہیں جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد ہے۔ ان 31فیصد میں سے بھی 50فیصد کیتھولک‘ 37 فیصد پروٹیسٹنٹ اور 12فیصد آرتھوڈاکس ہیں۔ دوسرے نمبر پر مسلمان ہیں جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23فیصد بنتی ہے۔ ان میں سے 87فیصد سنی اور 13 فیصد شیعہ ہیں۔ بے دین لوگوں کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 16 فیصد ہے۔ ہندوؤں کی آبادی 15 فیصد جبکہ بدھ کل آبادی کا سات فیصد ہیں۔ ان میں سے آدھے چین میں رہتے ہیں۔ سکھ‘ جین ازم اور دوسرے چھوٹے مذاہب سے تعلق رکھنے والی آبادی دنیا کی کل آبادی کا ایک فیصد بنتی ہے۔ یہودیوں کی آبادی ایک کروڑ 38لاکھ 50ہزار ہے۔ ان میں سے 41 فیصد امریکہ میں جبکہ 41 فیصد ہی اسرائیل میں آباد ہیں۔ یہودی دنیا کی کل آبادی کا 0.2 فیصد ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب آبادی کا بم پھٹے گا تو وہ نہ مذہب دیکھے گا اور نہ علاقے کی تخصیص کرے گا۔ سب کا برابر نقصان ہو گا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی رفتار کو دھیما کیا جائے۔ یہ کام بلا تفریقِ مذہب و ملت پوری دنیا پر اجتماعی سطح پر ہونا چاہیے تبھی کامیابی کے امکانات بڑھیں گے۔ وبائیں پھیلا کر بندے نہ مارے جائیں بلکہ قدرتی طور پر پیدائش کی شرح کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وسائل میں اضافے کی کوششیں بھی جاری رہنی چاہئیں۔
2023ء کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی سالانہ 2.55فیصد کی شرح نمو سے بڑھ کر 24 کروڑ 15 لاکھ (241.49 ملین) تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2050ء تک آبادی 37 سے 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ موجودہ صورت حال کو سامنے رکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تب وسائل کی دستیابی اور وسائل کے استعمال میں کتنا گیپ پیدا ہو چکا ہو گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے کچھ عرصہ پہلے ایک سولہ رکنی نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آبادی کے ٹک ٹک کرتے بم کو پھٹنے سے روکنے کیلئے اتنے اقدامات کافی ہیں؟
ہمارے ملک کی معیشت 24 کروڑ سے زیادہ آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے بہت بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔ اس وقت ملک کی 40 فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور توانائی کے ذرائع پر بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکسوں کی وجہ سے مسلسل بڑھنے والی مہنگائی لوگوں کی قوتِ خرید میں مزید کمی کرتی جا رہی ہے۔ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 12 ملین بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ تیزی سے بڑھتی آبادی مزید غریب پیدا کرنے اور غذائی قلت کو بڑھانے کا باعث بنے گی۔ آبادی بم کی ٹک ٹک جاری ہے۔ اس کے پھٹنے سے پہلے پہلے کچھ ٹھوس کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وسائل تیزی سے بڑھائے جائیں یا پھر آبادی کی رفتار کو کنٹرول کیا جائے۔ عالمی یومِ آبادی کا یہی پیغام ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved