تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     12-07-2026

’’انڈو پیسفک‘‘ کا خاتمہ اور بھارت کی عالمی تنہائی

صدر ٹرمپ نے ''انڈو پیسفک‘‘ کا نام دوبارہ امریکی پیسفک کمانڈ رکھتے ہوئے اقوام عالم بالخصوص خطے کا چوہدری بننے کا خواب دیکھنے والے مودی کو یہ عندیہ دے دیا ہے کہ اب جنوبی ایشیا میں واشنگٹن کو بھارت کی ضرورت نہیں رہی۔ انڈو پیسفک سے ''انڈو‘‘ کا لفظ ہٹائے جانے کا یہ مطلب ہے کہ اب امریکہ کی حکمت عملی اور ''کواڈ‘‘ اتحاد کے حوالے سے ترجیحات بدل رہی ہیں‘ جس نے مودی کی عالمی تنہائی اور ناکام سفارتکاری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارتی سینئر سیاسی رہنما ششی تھرور نے حالیہ امریکی فیصلے کی اس حقیقت کو بھانپ لیا ہے تبھی انہوں نے اس کوLast nail in Quad's coffin یعنی ''کواڈ‘‘ کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا۔ دراصل بھارت کے علاقے کی سپر پاور بننے کے خواب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ Pacific Indoکا تصور بھارت کیلئے انتہائی اہم تھا کیونکہ اس کے ذریعے ہندوستان نے خود کو بحرہند اور بحرالکاہل ریجن میں اہم سکیورٹی شراکت دار اور ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پیش کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں بعض معاملات پر تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر نئی دہلی نے سخت احتجاج کیا تھا اور امریکی سفارتکاروں کو طلب کرکے جواب طلب کیا تھا۔ فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے فوراً بعد اس نام کی تبدیلی کے اعلان کو یوں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی پیسفک کمانڈ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1947ء میں قائم کی گئی تھی اور 2018ء تک اسی نام سے کام کرتی رہی۔ 2018ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہی اس کا نام تبدیل کر کے اس کو' انڈو پیسفک کمانڈ‘ کہا گیا تھا۔ واشنگٹن نے نام کی اس تبدیلی سے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اب بحر ہند اور بحر الکاہل کو ایک مشترکہ سٹریٹجک تھیٹر کے طور پر دیکھا جائے گا۔ مزید برآں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے آگے بند باندھنے کیلئے امریکہ‘ بھارت‘ جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل چار ملکی اتحاد کواڈ (Quad) کو بھی دوبارہ فعال کیا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے اس خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر بھارت کا انتخاب کیا۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ ابھرتی ہوئی معاشی و عسکری قوت کے طور پر دیکھا گیا اور اسے چین کا حریف سمجھا گیا۔ 2018ء میں اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں‘ بحیرہ جنوبی چین سے بحر ہند تک اس کی ترقی اور بھارت کے ابھرتے علاقائی کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے 'انڈو پیسیفک‘ کا تصور اپنایا گیا تھا۔ لیکن 2018ء کی نسبت 2026ء میں جنوبی ایشیا کا منظر نامہ بدل چکا ہے۔ چند سال قبل امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک جنوبی ایشیا کو دیکھنے کا بنیادی زاویہ چین تھا۔ واشنگٹن سمجھتا تھا کہ اگر چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسو خ کو محدود کرنا ہے تو اس کے لیے خطے میں ایک ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو آبادی‘ معیشت‘ جغرافیائی اور عسکری صلاحیت کے لحاظ سے بیجنگ کا مقابلہ کر سکے اس وقت بھارت اس کردار کیلئے سب سے موزوں انتخاب نظر آیا یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی‘ میڈیا اور تھنک ٹینکس بھارت کو مسلسل علاقے کی بڑی پاور‘ بڑی جمہوریت گردانتے رہے۔ نئی دہلی پر نوازشات کا سلسلہ جاری رہا اور پھر مئی 2025ء آ گیا جب پاکستان نے ہندوستان کو چاروں شانے چت کردیا اور بھارت کی نام نہادعسکری طاقت کا پول کھل گیا۔سوال یہ ہے کہ امریکہ اب بھی جنوبی ایشیا میں اپنی پوری حکمت عملی کوصرف بھارت کے گرد ہی گھماتا رہے گا یا پھر خطے کے دوسرے ممالک کو بھی براہِ راست اپنی پالیسی کا حصہ بنائے گا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جنوبی ایشیا کی جیو پالیٹکس میں کئی ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے امریکی پالیسی سازوں کو اپنے پرانے اندازِ فکر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اگر 2018ء میں امریکہ کی ترجیح صرف چین کو روکنا تھا تو 2026ء میں صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے اب صرف چین ہی واحد مسئلہ نہیں بلکہ سپلائی چین‘ توانائی‘ معدنی وسائل ‘ مصنوعی ذہانت‘سیمی کنڈکٹرز‘مشرق وسطیٰ کا عدم استحکام اور بحر ہند میں بڑھتا مقابلہ بھی امریکی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔اسی لیے واشنگٹن اب جنوبی ایشیا کو صرف ایک ملک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے پورے خطے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہا ہے۔تاہم اس تبدیلی کی ایک واضح مثال پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں آنے والی بہتری ہے۔ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا‘ دفاعی تعاون پر دوبارہ بات چیت شروع ہوئی‘ انسداد دہشت گردی کے شعبے میں اشتراک بڑھا جبکہ توانائی‘ سرمایہ کاری اور معدنی وسائل جیسے شعبوں میں بھی دونوں ممالک نے دلچسپی ظاہر کی۔ پھر اس کے بعد ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے مثبت اور غیرجانبدارانہ کردار نے نہ صرف امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا بلکہ عرب ممالک کا دنیا کا اعتماد بھی حاصل کیا۔
امریکی پالیسی کی یہ تبدیلی کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکی مفادات کا تقاضا ہے۔امریکہ جانتا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد بھی خطے میں سلامتی کے کئی چیلنج ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں‘ ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال‘ وسطی ایشیا تک رسائی اور بحر ہند میں تجارتی راستوں کا تحفظ ایسے معاملات ہیں جہاں پاکستان کا جغرافیہ آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اس کے ساتھ پاکستان کا ایک اور پہلو بھی امریکی توجہ حاصل کر رہا ہے اور وہ ہے معدنی وسائل۔دنیا اس وقت Minerals Earth Rare کے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔ ابھی اس شعبے میں چین کو نمایاں برتری حاصل ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک‘ جہاں معدنی وسائل کی بڑی صلاحیت موجود ہے‘ قدرتی طور پر عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ امریکہ نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ نیپال‘ سری لنکا اور مالدیپ کے ساتھ بھی واشنگٹن اپنے تعلقات کو الگ بنیادوں پر آگے بڑھا رہا ہے۔ اگر ان تمام پیش رفت کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے کہ امریکہ اب جنوبی ایشیا کے ہر ملک کو اس کی اپنی جغرافیائی اور سٹریٹیجک اہمیت کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ صرف بھارت کے ذریعے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے شاید نئی دہلی میں سب سے زیادہ تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے خود کو صرف ایک ملک کے طور پر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے نمائندے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ اگر امریکہ کو اس خطے میں کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہے تو اس کا سب سے قابلِ اعتماد شراکت دار بھارت ہی ہوگا۔شاید اسی لیے ششی تھرور کی مختصر سی ٹویٹ اتنی زیادہ توجہ حاصل کر گئی۔اگر واقعی امریکہ کی نئی حکمت عملی یہی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کے ہر ملک کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرے گا توایسی صورت میں نئی دہلی کی وہ حیثیت جس کے تحت وہ خود کو خطے کا ناگزیر شراکت دار سمجھتا تھا‘ پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کو جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کیلئے صرف بھارت کافی دکھائی دیتا ہے؟اگر اس سوال کا جواب ''نہیں‘‘ ہے‘ تو پھرAs a middleman no more required Indiaایک جملہ نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی امریکی حکمت عملی کا خلاصہ بھی ہو سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved