ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جن میں عوام سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں۔ پوری دنیا میں ایسے منصوبوں کے نتائج زیادہ بہتر دیکھے گئے ہیں۔ جیسا کہ ملائشیا میں تابونگ حاجی پروگرام ہے‘ جس میں تقریباً ہر ملائیشین شہری سرمایہ کاری کرتا ہے۔ حکومت اس پروگرام کے تحت رقم پوری دنیا کے حلال منصوبوں میں لگاتی ہے۔ اس سے جو منافع آتا ہے وہ بینک اکاؤنٹس میں جمع ہوتا رہتا ہے اور جب حج کے اخراجات کے برابر رقم جمع ہوجاتی ہے توحکومت اس شہری کو حج پر بھیج دیتی ہے۔ آج ملائیشیا کا تابونگ حاجی صرف حج فنڈ نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے اسلامی مالیاتی اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ ادارہ 1963ء میں قائم کیا گیا تھا تاکہ مسلمان شہری شریعت کے مطابق حج کے لیے بچت کر سکیں‘ مگر وقت کے ساتھ یہ ملائیشیا کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گیاہے۔ تابونگ حاجی کے تقریباً 97 لاکھ ڈیپازٹرز ہیں اور اس کے زیر انتظام اثاثے 96 ارب رنگٹ (تقریباً 22 ارب ڈالر) سے زیادہ ہیں۔ یہ رقوم ملائیشیا کے مالیاتی نظام میں ایک بڑے سرمایہ جاتی ذخیرے کے طور پر کام کرتی ہیں۔ 2020ء میں مَیں نے پاکستان میں تابونگ حاجی طرز کا منصوبہ شروع کرنے کی جانب توجہ دلائی تھی۔ اس وقت ملائیشیاکا تابونگ حاجی ایکٹ منگوا کر وزارتِ مذہبی امور کو دیا گیا اور اس پر کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔پھر حکومت بدل گئی۔خوش آئند بات ہے کہ موجودہ حکومت نے اب اس منصوبے کو سنجیدہ لیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ منگل کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی اور منصوبہ (2027-2030ء) کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں مستقبل میں حج کی ادائیگی کے خواہشمند شہریوں کی مالی منصوبہ بندی میں مدد کیلئے شریعت کے مطابق حج بچت سکیم متعارف کرانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستانی شہری حج کی رقم قسطوں میں ادا کر سکیں گے اور ان کی رقم سے حلال منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی ‘جس سے حج کیلئے رقم اکٹھی ہو سکتی ہے اور جو پیسہ لوگ گھروں میں رکھ کر جمع کرتے ہیں وہ دستاویزی معیشت کا حصہ بن سکتا ہے۔یہ منصوبہ عوامی سطح پر سرمایہ کاری کا نیا رجحان پیدا کر سکتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ ملائیشیا کی طرح پاکستان میں بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتا ہے۔
مقامی کے علاوہ پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے بھی موزوں ملک بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا میں روزانہ تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل استعمال ہوتا ہے۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ عراق‘ کویت اور قطر جیسے ممالک دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ دوسری طرف چین دنیا کا دوسرا بڑا تیل صارف ہے جو روزانہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ بھارت روزانہ تقریباً 56 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے جبکہ وسطی ایشیا کی ریاستوں کی بھی توانائی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ان تمام خطوں کے درمیان واقع ہے۔ مغرب میں خلیجی ممالک ہیں جہاں دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی پیداوار ہوتی ہے۔ شمال میں وسطی ایشیا ہے‘ شمال مشرق میں چین ہے اور مشرق میں بھارت ہے۔ یہی محلِ وقوع پاکستان کو ایک منفرد اہمیت دیتا ہے۔آج بڑی توانائی کمپنیاں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک ایسے مقامات تلاش کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے تیل کے ذخائر محفوظ رکھ سکیں۔ پاکستان کے پاس گوادر‘ حب اور پورٹ قاسم جیسے مقامات موجود ہیں جو اس مقصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔سعودی آرامکو‘ کویت پٹرولیم‘ قطر انرجی‘ پیٹرو چائنا‘ ویٹول‘ ٹریفیگورا اور ووپاک جیسی بڑی کمپنیاں پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اگر پاکستان صرف 17 ملین بیرل کی ذخیرہ گاہیں تعمیر کرے تو اس منصوبے میں 50 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سٹوریج‘ بندرگاہ کے چارجز اور لاجسٹک خدمات سے سالانہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک گودام کا مالک سامان کا مالک نہیں ہوتا لیکن کرایہ وصول کرتا ہے۔ سنگاپور اس ماڈل کی سب سے کامیاب مثال ہے۔ سنگاپور کے پاس نہ تیل ہے اور نہ بڑی قدرتی معدنیات لیکن آج وہ دنیا کے اہم توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے اپنے جغرافیے اور بندرگاہوں کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا ہے۔ پاکستان بھی یہ کر سکتا ہے۔ مگر صرف جغرافیہ کافی نہیں ہوتا۔ سرمایہ کار اس وقت آتے ہیں جب انہیں قوانین پر اعتماد ہو۔ پاکستان کو واضح قانونی فریم ورک‘ طویل مدتی پالیسیوں اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر ہر چند سال بعد قوانین تبدیل ہوتے رہیں تو کوئی بھی کمپنی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔ اگر پاکستان نے درست فیصلے کیے تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا پاکستان کو خطے کے ایک بڑے توانائی مرکز کے طور پر جانے۔
واشنگٹن میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔یہ محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی سنگل کنٹری ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔ پاکستان ہر سال پانچ ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات امریکہ کو برآمد کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارت 2024ء میں تقریباً 10.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ 2025ء میں صرف اشیاکی تجارت کا حجم 8.7 ارب ڈالر رہا‘ جس میں امریکہ نے پاکستان کو 3.3 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ پاکستان کی برآمدات 5.4 ارب ڈالر رہیں۔ اگر امریکی ٹیرف میں کمی آتی ہے تو پاکستانی ٹیکسٹائل‘ چاول‘ کھیلوں کا سامان‘ سرجیکل آلات اور آئی ٹی خدمات امریکی مارکیٹ میں مزید جگہ بنا سکتی ہیں۔ تاہم صرف معاہدہ کر لینا کافی نہیں۔ پاکستان کو اپنی پیداواری لاگت کم کرنا ہو گی‘ توانائی کی قیمتوں کو مسابقتی بنانا ہو گا‘ کسٹمز اور ریفنڈ نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی اور برآمد کنندگان کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہو گی۔ اگر اندرونی اصلاحات نہ ہوئیں تو امریکی منڈی تک رسائی کا یہ موقع بھی ماضی کے کئی تجارتی مواقع کی طرح ضائع ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان ہمیشہ سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے حکومت ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کو پاکستان کے مستقبل کی ٹرانسپورٹ قرار دے رہی تھی۔ توانائی کی بچت‘ ماحولیاتی تحفظ‘ درآمدی تیل پر انحصار میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے نام پر آٹو کمپنیوں کو نئی سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی۔ کمپنیوں نے اربوں روپے خرچ کرکے ہائبرڈ گاڑیوں کی اسمبلنگ لائنیں لگائیں‘ تکنیکی عملہ تیار کیا‘ ڈیلر نیٹ ورک کو اَپ گریڈ کیا اور نئی مصنوعات پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرائیں۔لیکن اب مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کیلئے سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نئی آٹو پالیسی 2026-31 ء ابھی تک نافذ نہیں ہو سکی جبکہ پرانی پالیسی 30 جون کو ختم ہو چکی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں کمپنیاں نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ احساس ہو جائے کہ حکومتی مراعات کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہیں تو مستقبل میں کوئی بھی کمپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتے وقت کئی بار سوچے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved