تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     13-07-2026

لالچ‘ حرص‘ ہوس

پانچ لاکھ امریکی ڈالر یعنی لگ بھگ 14 کروڑ پاکستانی روپے۔ یہ ہے وہ رقم جس کی وجہ سے ایک معزز‘ پڑھے لکھے اور برسر اقتدار خاندان کی رسوائی ہو رہی ہے۔ اور وہ بھی اسی خاندان کے ایک فرد کے ہاتھوں۔ یعنی اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ نسب باپ کی طرف سے چلتا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں نوجوان کے باپ کا نام سنائی نہیں دے رہا‘ نہ باپ کے خاندان کا نام۔ یقینا وہ بھی صاحبِ حیثیت اور پڑھے لکھے لوگ ہوں گے۔ لیکن ہر جگہ نام آ رہا ہے صرف ننھیال کا۔ وجہ یہی کہ یہ نامور‘ مالدار‘ معزز‘ اور برسر اقتدار خاندان ہے جو سیاست‘ تجارت اور صنعت میں ایک عرصے سے آسمان پر ہے۔ لیکن 14 کروڑ روپے نے اس خاندان کے نوجوان کا یہ حال کر دیا کہ خاندان اس سے وابستگی بھی ظاہر نہیں کر سکتا۔ یقینا ماں باپ یہی چاہتے ہوں گے کہ ان کا بچہ کسی طرح اس مصیبت سے نکل آئے لیکن نہ وہ کھل کر اپنی تکلیف کا اظہارکر سکتے ہیں‘ نہ مدد کر سکتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں مزید رسوائی ان کا مقدر ہو گی۔ ہم لوگ جو دور سے اس معاملے پر افسوس کر رہے ہیں‘ وہ لوگ جو اس واقعے کو مرچ مسالا لگا کر پیش کر رہے ہیں‘ وہ مخالفین جو اپنی سیاسی نفرت کا اظہار اس خاندان کو برا بھلا کہہ کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں‘ ان سب کے اپنے اپنے خاندان ہیں‘ اپنے بچے ہیں‘ اپنی رشتہ داریاں ہیں۔ خدا کسی پر برا وقت نہ ڈالے۔ برے وقت میں کھل کر کوئی حامی بھی حمایت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ وہ بھی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ حمایت علی شاعر کا شعر ہے:
اس جہاں میں تو اپنا سایا بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے
لیکن شاید ماں باپ‘ بھائی بہن (اگر کوئی ہیں) کو کبھی یہ سوچنے کی فرصت ملے کہ کس چیز نے ان کے عزیز کو اس دلدل میں پھنسایا۔ میں سوچ رہا تھا اور آپ کو بھی یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہوں کہ کیا 95 فیصد پاکستانی خواہ وہ غیر ملکوں میں مقیم ہوں اور وہیں کماتے ہوں‘ اپنے کسی بیس اکیس سالہ بیٹے کے ہاتھ میں چودہ کروڑ روپے کی رقم دے سکتے ہیں کہ بیٹا! تیری مرضی ہے جو چاہے کر‘ جہاں چاہے پیسہ لگا۔ یہ رقم بڑی ہے۔ 95 فیصد پاکستانی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اکثر پاکستانی تو اس خواب میں ساری عمر مشقت کاٹتے ہیں کہ انہیں اپنی چھت نصیب ہو جائے اور کرائے کے گھروں سے نجات مل جائے۔ 14 کروڑ روپے کے خواب دیکھنا بھی ان کیلئے مشکل ہے۔ اور دوسری طرف پانچ فیصد لوگ وہ ہیں جو بیٹوں کے ہاتھ میں کروڑوں روپے تھما کر دوبارہ پوچھتے بھی نہیں کہ بیٹا! کیا کیا ان پیسوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ احمد رضا ڈار کے ہاتھ میں یہ واحد رقم نہیں ہو گی جو اس کی صوابدید پر ہو۔ ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بھی بڑی رقوم اس کے پاس ہوں۔ 21 سالہ لڑکے کی تو ابھی تعلیم بھی پوری نہیں ہوتی۔ وہ نوجوان جو ابھی زمانہ طالبعلمی گزار رہا ہے‘ اس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے دے کر بھول جانے والے گھرانے نے اس کے ساتھ بھلائی کی ہے یا برائی؟ بات صرف کروڑوں روپے دے کر نوجوان کو آزمائش میں ڈال دینے کی نہیں‘ تربیت کی بھی ہے۔ جو گھرانہ آج آزمائش سے گزر رہا ہے کیا کبھی غور کرے گا کہ اس نے اپنے بچے کی تربیت کیا کی ہے؟ اچھے برے کی تمیز کیا سکھائی ہے؟ کوئی شک نہیں کہ زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کا لالچ ہر انسان کو گھیر لیتا ہے۔ ہر انسان تیزترین‘ آسان ترین طریقے سے پیسہ کمانا چاہتا ہے اور اس میں بہت کم استثنائی مثالیں ملیں گی۔ لیکن یہیں تو خاندانی تربیت کام آتی ہے۔ یہیں تو ماں باپ بچوں کو بتاتے ہیں کہ سب سے اہم بات تیز ترین‘ آسان ترین نہیں‘ اہم ترین بات حلال رزق ہے۔ جائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ جس کی برکت بھی نظر آتی ہے اور خدا نخواستہ دوسری صورت میں نحوست بھی نسل در نسل نمایاں ہوتی ہے۔ جب یہ اہم ترین بات نہ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی میں بتائی جائے‘ نہ گھر میں تو ایک ایسے نوجوان کو یہ کیسے معلوم ہو سکتی ہے جس نے عملی زندگی میں نیا نیا قدم رکھا ہو اور اس کے ہاتھ میں کروڑوں روپے تھما دیے گئے ہوں۔ احمد رضا ڈار یقینا اس معاملے کا مرکزی کردار ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بڑے ذمہ دار اس کے وہ بڑے ہیں جنہوں نے اسے برے بھلے کی پہچان نہیں سکھائی۔
چلیے آپ نے ناز ونعم میں پالے نوجوان کوکروڑوں روپے بھی دے دیے اور اس کے بارے پوچھا نہیں۔ کیا کوئی ماں باپ اس بات سے غافل ہو سکتے ہیں کہ اس کے بیٹے کا اٹھنا بیٹھنا کن دوستوں میں ہے؟ یہ فکر تو ہمارے معاشرے میں معاشی لحاظ سے نچلے اور متوسط گھرانوں تک کو ہوتی ہے۔ ہر ماں اور باپ سے یہ چھپا نہیں رہتا کہ ان کا بچہ کن لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ بے شمار بار بچے کو پیار سے سمجھایا جاتا ہے‘ مار پیٹ بھی ہوتی ہے اور ناراضیاں بھی۔ کسی بچے کے غلط اور بدکردار حلقے کی وجہ سے بیٹے کو عاق کرنے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ اخبارات میں ایسے اشتہارات آتے رہتے ہیں جن میں بچوں کو عاق کرنے‘ قطع تعلق کرنے اور جائیداد سے محروم کر دیے جانے کے آخری قدم بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔ جتنا معزز‘ وجیہ اور صاحبِ حیثیت گھرانہ ہوتا ہے‘ اسے اپنی عزت‘ آبرو اور احترام کی فکر مال اور جائیداد سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جنہیں دستار اپنے سر سے زیادہ عزیز ہوتی تھی لیکن وقت نے چلن ایسا بدلا ہے کہ بڑے بڑے معزز خاندان اور گھرانے اس وقت تک ہوش میں نہیں آتے جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو جائے۔ آپ اسی نوجوان کے دوست دیکھ لیجیے جو ان غیر ملکی خواتین کے حبس بے جا‘ جنسی زیادتی اور انسانیت سوز سلوک میں ملوث ہیں۔ ایک دو پر تو پہلے بھی ایف آئی آرز درج ہیں۔ کیا احمد رضا ڈار کا ایک دوست بھی ایسا نہیں تھا جو اسے سمجھاتا کہ تم یہ سب غلط کر رہے ہو۔ ابھی تو پانچ لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا ہے‘ اگلا نقصان عزت وآبرو کا ہوگا اور تم ایک دلدل میں پھنس جاؤ گے جس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ نوجوان کا کوئی ایک دوست بھی ایسا تھا۔
سارا کھیل تیز ترین‘ آسان ترین پیسے کے لالچ سے شروع ہوا۔ اور واقعے کے سارے کردار اسی لالچ کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ دونوں غیر ملکی خواتین اسی کاروبار سے متعلق ہیں جو آج کل عام ہے‘ جس میں زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلد منافع کا لالچ دے کر شہد سے بنے جال یعنی ہنی ٹریپ میں پھنسایا جاتا ہے۔ ڈار گھرانے کا یہ نوجوان بھی اسی لالچ میں پھنسا۔ پھنسنے کے بعد رقم واپس حاصل کرنے کیلئے وہ دھوکے کا جال بچھاتا ہے اور غیر ملکی خواتین کو جھانسا دیتا ہے کہ اس کے کچھ جاننے والے مزید سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں‘ اس کیلئے پاکستان کا دورہ کریں۔ خواتین اس لالچ میں پاکستان آتی ہیں۔ جن دھوکے بازوں سے انہیں ملوایا جاتا ہے وہ بھی یقینا کسی مالی لالچ میں انہیں یہ دھوکا دے رہے ہیں۔ جو لوگ خواتین کو حبس بے جا میں رکھتے ہیں‘ انہیں بھی لاکھوں روپے کا لالچ ہے۔ یعنی لالچ سے سارا کھیل شروع ہوا اور ہر ہر قدم پر یہی حرص ہر کردارکے ساتھ چلتی ہے۔ خواتین کے ساتھ ان کے ملک کیا کریں گے‘ معلوم نہیں لیکن بظاہر پاکستان کے اندر انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ لیکن باقی سب کردار اسی حرص میں سلاخوں کے پیچھے جاکھڑے ہوئے ہیں۔ ایک کردار کی ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں لیکن اس کا جرم بدستور قابلِ سزا ہے۔
لوگ اس گھرانے کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ جو ہمدردی رکھتے ہیں وہ ان کی خاندانی وجاہت اور نام کے حوالے دے رہے ہیں۔ لیکن خاندانی احترام اور معزز ہونے کی حیثیت اپنی جگہ ‘ مجھے تو یہ پوچھنا ہے کہ ان کی خاندانی تربیت کہاں ہے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved