نہ صرف یہ اینٹ ٹوٹی ہوئی تھی بلکہ اس کا دل بھی بہت دکھی اور ٹوٹا ہوا تھا۔ نام تھا مشتاق احمد خان۔ 1947ء میں جب نظام حیدرآباد نے اُنہیں پاکستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تو ان دونوں کو علم نہ تھا کہ جو نازک مگر بے حد اہم سفارتی فریضہ اُن کے ذمہ لگایا جا رہا ہے‘ وہ اسے خوش اسلوبی سے ادا کر پائیں گے یا نہیں۔ 13 ستمبر 1948ء کو حیدرآباد کی آزاد ریاست کی خواہش کو بھارتی افواج کے جارحانہ حملے نے اپنے بے رحم بوٹوں تلے کچل ڈالا۔ بے گناہ اور غیر مسلح افراد کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا اُس کی تفصیل لکھنے کی نہ مجھ میں ہمت ہے اور نہ آپ میں پڑھنے کی تاب۔ مشتاق صاحب یہ عظیم صدمہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے تو بچ گئے مگر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے جو تفصیلات ان تک پہنچیں وہ اُنہیں خون کے آنسو رُلا دینے کیلئے کافی تھیں۔ ستم بالائے ستم کہ جب مشتاق صاحب کو سفارتی عہدہ دینے والی مملکت کا وجود ہی ختم ہو گیا اور نظام کی دی ہوئی رقم‘ جو پاکستان کو ہدیہ کی گئی تھی‘ حکومت پاکستان کے حوالے کر کے وہ خود بالکل تہی دست ہو چکے تھے۔ حکومت پاکستان (خصوصاً گورنر جنرل ملک غلام محمد) نے بکمال مہربانی محکمہ ریلوے میں انہیں ملازمت دلوا دی۔
میں اُنہیں 29 فروری 1992ء کو‘ ماڈل ٹائون ڈی بلاک لاہور میں ان کے گھر میں ملا۔ یہ ہماری واحد ملاقات تھی۔ 34 سال پہلے ہونے والی اس ملاقات کی تاریخ ہر گز یاد نہ رہتی مگر یہ اُس کتاب (زوالِ حیدرآباد کی اَن کہی داستان) پر لکھی ہوئی تھی جو مشتاق صاحب نے 1985ء میں لکھی اور پھر اپنے خرچ پر چھپوائی ۔ اُنہوں نے یہ کتاب اس مضمون نگار کو بطور تحفہ دی۔ اس وقت مشتاق صاحب کی عمر 75 برس یا اس سے زائد تھی۔ نحیف ونزار‘ نہ آنکھوں میں چمک اور نہ آواز میں کھنک۔ چھڑی کے سہارے چلتے تھے۔ شریفانہ چہرہ‘ جس میں گزرے 45 برسوں میں اُٹھائی جانے والی صعوبتوں کی پرچھائیاں تھیں۔ تعلیم یافتہ‘ مہذب‘ متین اور نوابی وضع قطع کی شخصیت۔ ملاقات کیلئے بیٹھک میں آئے تو شیروانی میں ملبوس‘ جس کے سب بٹن بند تھے۔ حیدر آبادی پاجامہ اور دیسی جوتی۔ نہ سگریٹ اور نہ حقہ۔ بڑی محبت سے چائے پلائی‘ پلیٹ میں دو چار بسکٹ۔ کمرے میں سادہ فرنیچر۔ قالین کی جگہ دری بچھی ہوئی تھی۔ جب چائے تیار ہو گئی تو بیگم صاحبہ نے دروازے پر دستک دی اور مشتاق صاحب کو ٹرے تھما دی۔
مشتاق احمد خان نے 303 صفحات کی جو کتاب لکھی‘ اس میں 50 صفحات بے حد مفید ضمیموں‘ سرکاری دستاویزات اور خط و کتاب کی نقول پر مشتمل ہیں۔ میں نے جب ان سے ریاستِ حیدرآباد کے کفن میں آخری کیل ٹھونکنے والے کردار (سید قاسم رضوی) سے فروری 1958ء میں لاہور میں اپنے ہاسٹل میں ایک غیر خوشگوار ملاقات کا ذکر کیا تو وہ کچھ دیر خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر سر جھکا لیا۔ اس ملاقات کا ماحول اتنا سوگوار تھا کہ لگتا تھا کہ وہ اپنی دکھ بھری‘ خاک و خون سے لتھڑی داستان بیان کرتے کرتے رو پڑیں گے۔ میں نے سوچا کہ اپنے میزبان کی توجہ بھٹکائوں کہ شاید وہ سنبھل جائیں۔ میں نے پوچھا کہ نواب صاحب یہ بتائیے گا کہ یہ جو ''ایل ایدرُوس‘‘ نامی شخص تھا‘ وہ کون تھا؟ ان کا چہرہ کھِل اُٹھا اور کہنے لگے: آپ پہلے شخص ہیں جس نے مجھ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ اس شخص کا اصل نام سیّد احمد تھا‘ وہ ایک عام فوجی افسر تھا مگر درباری سازشوں کا ماہر ہونے کی وجہ سے میجر جنرل اور حیدرآبادی فوج کا کمانڈر بنا دیا گیا اور پھر اپنے لیے یہ مضحکہ خیز نام بطور خطاب چن لیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے کیا معانی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام حیدرآباد کو گمراہ کرنے والے چار افراد؍ ادارے تھے۔ (1) حکومتِ پاکستان کے ارباب بست وکشاد (2) حیدر آباد میں انگریز حکومت کے ایجنٹ سر والٹر مانکٹون(Walter Monckton) (3)حیدرآبادی فوج کا کمانڈر (ایل ایدرُوس)‘ جس نے نظام کو یقین دلایا تھا کہ اُس کی کمان میں فوج ممکنہ بھارتی حملے کا کامیابی سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ اور یہ دعویٰ بھارتی حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی دھول میں مل گیا۔ (4) رضا کار تحریک کا بانی قاسم رضوی۔ البتہ اس کے رضا کار بڑی بہادری سے لڑے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر مزاحمت کرتے کرتے شہید ہو گئے مگر وہ اسلحہ اور تعداد میں اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ ال ایدروس اور قاسم رضوی ہی ہزاروں بہادر سپاہیوں اور رضاکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے ذمہ دار ہیں۔
میرا اگلا سوال ایک پُراسرار کردار کے بارے میں تھا۔ اُس کا نام سڈنی پائول تھا۔ اگست 1947ء میں حیدرآباد جب بدترین گرداب میں پھنس گیا تو وہ کرائے کا سپاہی (Mercenary) بن کر حیدرآباد کو اسلحہ پہنچانے لگا اور بڑی رقوم بھی۔ وہ دنیا بھر سے گولہ بارود جہاز میں بھر کر کراچی لاتا جہاں اس کا آپریشنل بیس تھا‘ پھر وہاں بڑی باقاعدگی سے جہاز حیدرآباد آتے جاتے۔ بھارتی حکومت کو اس کی سرگرمیوں کا بہت بعد میں پتا چلا۔ نواب صاحب نے قدرے خفیہ انداز میں کہا کہ آپ کو یہ ماننے میں دشواری ہوگی مگر سچ کہتا ہوں کہ جب پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز حیدرآبادی افسروں کو حیدرآباد پر بھارتی حملے کی خبر ملی تو وہ چھٹیاں لے کر حیدرآباد پہنچ گئے اور رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ نواب صاحب کو ان مجاہدین میں سے صرف ایک کا نام یاد تھا اور وہ تھے سکندر علی بیگ۔ نواب صاحب نے پھر گفتگو روک کر تمام شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی۔ نظام کی دم توڑتی حکومت نے سڈنی پائول کے علاوہ ایک ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیت (یوسف ہارون) سے بھی رجوع کیا۔ نواب صاحب کی کتاب کے صفحہ 190 کے مطابق یوسف ہارون کو اُنہوں نے ایک خفیہ پرواز سے حیدرآباد بھجوایا اور اپنے مختصر قیام کے دوران انہوں نے نظام سے خصوصی پروازوں کے ذریعے ضروری سامان بھیجنے کا معاہدہ کیا۔ وقت کی قلت کی وجہ سے کوئی قانونی معاہدہ نہ ہو سکا۔ نواب صاحب کو پنسل سے لکھی ایک یادداشت بھیجی گئی اور انہیں معاہدے کی تکمیل پر پانچ لاکھ پائونڈ کی پہلی قسط ادا کرنا تھی۔ انگلینڈ میں موجود جائیدادوں‘ ان سے نظام کے متعلق خدشات‘ حکومت پاکستان کو ٹرسٹ بنانے کی تجویز اور پھر ٹرسٹ میں نظام حیدرآباد کو ہی شامل نہ کرنا‘ یہ سب باتیں بھی گفتگو کا حصہ رہیں۔
کشمیر میں ریفرنڈم پر سمجھوتا ہو جانے کا مرحلہ آیا تو حیدرآباد کے مسئلے پر اختلاف نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔ قائداعظم نے حیدرآباد میں استصوابِ رائے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔ 25 سال بعد‘ 27 نومبر 1972ء کو لنڈی کوتل میں بھٹو صاحب نے بطور صدر‘ قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں بھارت کے وزیر داخلہ (سردار ولبھ بھائی پٹیل) نے بتایا کہ 1947ء میں بھارت نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ کشمیر لے لے اور اس کے بدلے حیدرآباد اور جونا گڑھ کی ریاستیں بھارت کو دینے پر آمادہ ہو جائے مگر یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
نظام (میر عثمان) نے اپنے ولی عہد (اعظم جاہ) کو ان کی نااہلی کی وجہ سے وراثت سے محروم کرکے اور اپنے پوتے مکرم جاہ (جو اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے) اپنا وارث نامزد کر دیا۔ وہ اپنے دادا کے مقرر کردہ ٹرسٹوں کی نگرانی کرنے کے بجائے آسٹریلیا میں ایک وسیع و عریض فارم لے کر وہاں زراعت کرنے لگا اور قدیم بادشاہت سے ٹریکٹر چلانے کا طویل فاصلہ حوادثِ زمانہ سے مجبور ہو کر اس نے بہت جلد طے کر لیا۔ اسے ہی انقلاب کہتے ہیں۔ یہ وہ آخری الفاظ تھے‘ جن پر ہماری ملاقات ختم ہوئی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved