قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک میں دینی جماعتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ ملک میں دینی جماعتیں بہت سی کامیاب تحریکیں بھی چلا چکی ہیں۔ تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں دینی جماعتوں کے قائدین نے عوام کو بیدار اور متحرک رکھا۔ اس وقت بھی ملک کے طول وعرض میں دینی جماعتیں اور دینی طبقات مختلف موضوعات پر وقفے وقفے سے اہم پروگراموں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ ایام میں مجھے دو اہم مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ 5 جولائی کو مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ لاہور پر قرآن وسنہ موومنٹ کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا‘ جس میں ملک بھرسے پانچ سو سے زائد ارکانِ شوریٰ نے شرکت کی اور مختلف دینی امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ راقم الحروف کے ساتھ ساتھ اس تقریب سے ڈاکٹر نصیر اختر‘ شیخ الحدیث مولانا محمد شفیق مدنی‘ ڈاکٹر حمزہ مدنی‘ ڈاکٹر شفیق الرحمن زاہد‘ مولانا اختر محمدی‘ پروفیسر سیف الرحمن بٹ‘ قیم الٰہی ظہیر‘ ڈاکٹر طاہر الاسلام عسکری‘ ڈاکٹر فہد اللہ مراد ‘ مولانا ابن بشیر الحسینوی‘ حافظ ندیم ظہیر اور دیگر جید علما نے خطاب کیا۔ اس تقریب میں بہت سے اہم امور پر غور و خوض کیا گیا اور مندرجہ ذیل امور پر اتفاق کیا گیا: مرکزی شوریٰ نے ملکی سلامتی‘ استحکام اور ترقی کے لیے قرآن وسنت کی بالادستی اور آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی ودستوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قراردادِ مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے اور آئینِ پاکستان ریاست کو قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کا پابند بناتا ہے۔ اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ملک کی تمام دینی جماعتوں کے ساتھ تعاون‘ مشاورت اور ہم آہنگی کے ذریعے اسلامی اقدار‘ قومی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے اپنی آئینی وجمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس میں مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقدس ہستیوں‘ اہلِ بیتِ اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام ہر مسلمان کا دینی فریضہ اور قومی ضرورت ہے۔ مرکزی شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ صحابہ کرام و اہلِ بیت کی تنقیص‘ توہین یا مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ اتحادِ امت اور امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے والے رجحانات کی حوصلہ شکنی ہو۔ اجلاس نے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں‘ بالخصوص اہلِ فلسطین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ شوریٰ نے عالمی برادری‘ اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جان ومال‘ عزت ووقار اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر عملی اقدامات کیے جائیں۔ مرکزی شوریٰ نے خواتین کو ہراساں کرنے‘ کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی‘ تشدد اور دیگر اخلاقی جرائم میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو شفاف اور فوری عدالتی کارروائی کے بعد قانون کے مطابق سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ معاشرے میں انصاف‘ امن اور تحفظ کا احساس مضبوط ہو۔
اجلاس میں ملکی معیشت اور توانائی کے بحران پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مرکزی شوریٰ نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی اور صنعتی استحکام کے لیے توانائی کے بحران پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی‘ شمسی توانائی اور ہوا جیسے قدرتی اور قابلِ تجدید ذرائع سے توانائی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو‘ توانائی کی لاگت میں کمی آئے اور ملک توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھ سکے۔ مرکزی شوریٰ نے تنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا اور ملک بھر میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے‘ ہر ضلع میں تنظیمی نیٹ ورک کی تکمیل‘ نوجوانوں‘ خواتین‘ علماء‘ وکلا‘ اساتذہ‘ تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو تنظیم کے ساتھ منظم کرنے اور دعوتی و اصلاحی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دینی و نظریاتی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا‘ جبکہ ملک بھر سے اہل‘ دیانتدار‘ باصلاحیت اور نظریاتی امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے تاکہ جمہوری اور آئینی ذرائع سے پاکستان میں عدل‘ دیانت‘ شفافیت‘ اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کی بالادستی کے قیام کی جدوجہد کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
11 جولائی کو جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام ضلع قصور کے علاقے پھولنگر میں ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس سے مولانا فضل الرحمن‘ مولانا راشد محمود سومرو‘ مولانا نصیر احمد احرار‘ حافظ ہشام الٰہی ظہیر کے علاوہ راقم الحروف کو بھی گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ مولانا فضل الرحمن نے تحفظ مدارسِ دینیہ اور عوامی حقوق کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ اس سے مجمع میں ایک ولولے کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مولانا نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملکی معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا چاہیے‘ عوامی رائے کا مکمل احترام کرنا چاہیے اور ملکی مسائل کو طاقت کے بجائے جمہوریت سے حل کرنا چاہیے۔ اس تقریب میں مجھے بھی اپنی گزارشات کو پیش کرنے کا موقع ملا جنہیں کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:
پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے جس کے قیام کے لیے علامہ محمد اقبال‘ قائداعظم محمد علی جناح‘ مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ظفر علی خان اور علمائے اسلام نے زبردست کوشش کی تھی۔ قیام پاکستان کا مقصد ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ پاکستان میں 1973ء کا متفقہ آئین قرآن وسنت کو سپریم لاء قرار دیتا ہے۔اسی طرح قراردادِ مقاصد میںاللہ تبارک وتعالیٰ کی حاکمیت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔آئین پاکستان نبی کریمﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والوںکو غیر مسلم قرار دیتا ہے جبکہ حرمت انبیاء کرام علیہم السلام اور حرمت رسول اللہﷺ کیلئے 295 اے اور 295 سی کے قوانین موجود ہیں جو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ذاتِ اقدس اور ان کی عظمت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ پاکستان میں کئی مرتبہ ایسے قوانین بھی سامنے آتے ہیں جو کتاب و سنت کی رو سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ ان قوانین کے بارے میں عوام الناس کی رہنمائی کرنا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے درست قوانین کے اجرا کی کوشش کرنا مذہبی طبقات کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میںمدارسِ دینیہ اسلام کی عملی نمائندگی کرتے ہیں اور یہاں سے اللہ کے دین کی تعلیم وتدریس کا فریضہ بھی انجام دیا جاتا ہے۔ مدارسِ دینیہ کی حریت اور درست پیغام کی نشر واشاعت کے لیے کوششیں کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور امتِ مسلمہ کے مسائل سے اہل پاکستان کو غیر معمولی دلچسپی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے کشمیر اور میانمار کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی خصوصی اہمیت حاصل کر چکا اور یہاں ہونے والے مظالم امتِ مسلمہ کیلئے تشویش کا سبب ہیں۔ چنانچہ اہلِ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ریاستِ پاکستان کی ذمہ داری ہے جبکہ اس حوالے سے عوامی سطح پر بیداری کی مہم چلانا دینی طبقات کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی سیاست میں مؤثر اور نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے دینی جماعتوں کو مشترکات کی بنیاد پر ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر دینی طبقات ہم آہنگی کے ساتھ ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ ہوں تو اس کے ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی جب کبھی دینی جماعتوں نے اتفاقِ رائے کے ساتھ سیاسی عمل میں حصہ لیا تو انہیں بہت پذیرائی ملی۔جمعیت علمائے اسلام کے اس جلسے میں شریک عوام کی کثیر تعداد نے مقررین کے خطابات کو بڑی توجہ کے ساتھ سنا اور یوں یہ اجتماع اپنے جلو میں بہت سی یادوں کو لیے مکمل ہوا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved