تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     14-07-2026

ہمارا بے جا تفاخر

ان پڑھ یا حرف و قلم سے دور لوگوں کی بات تو ایک طرف رہی‘ ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگ اور بزعم خود علم کی دولت سے مالا مال اشخاص بھی پاکستانی ہونے کے حوالے سے اپنے معاشرے کو نہایت اعلیٰ و ارفع اخلاقی اقدار‘ اسلامی طریقہ زندگی‘ بہترین معاشرت اور اعلیٰ تربیت کا حامل تصور کرتے ہیں۔ میرا ان سے اختلاف استثنائی حالات میں نہیں بلکہ مجموعی اور اجتماعی رویے کے حوالے سے ہے۔ میرا یقین ہے کہ کالم پڑھنے والے لوگ اپنی سوچ کی بلوغت کے اعتبار سے اخبار کے خبروں والے صفحات کے قارئین سے کہیں زیادہ بلند درجے کے حامل ہوتے ہیں لیکن حال یہ کہ میں جب بھی کبھی پاکستان سے باہر کسی معاملے پر موازنہ کرتے ہوئے مغربی معاشرے کی اچھائیوں کا ذکر کرتا ہوں تو ثناخوانِ تقدیسِ مشرق کے علمبردار کالم کے قاری ڈنڈے لے کر اس عاجز پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ بعض لوگ سیدھے سبھاؤ یہ الزام لگا دیتے ہیں کہ آپ مغرب سے مرعوب ہیں‘ آپ احساسِ کمتری کا شکار ہیں یا آپ اپنی مشرقی اور اسلامی اقدار پر شرمندہ ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ اب بندہ بار بار کیا یہ بتائے کہ موازنہ کرتے ہوئے ہم جن چیزوں کا رونا روتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جو ہماری میراث تھیں۔ اور اپنی میراث کے کھو جانے پر رنج و غم کا اظہار کرنا‘ اپنی میراث سے محروم ہو جانے پر حسرت کرنا‘ اپنی خوبیوں کے ضائع ہو جانے پر اور اسے اغیار کے اپنا لینے پر افسوس اور ملال کا اظہار کرنا احساسِ کمتری نہیں‘ احساسِ زیاں کے زندہ رہنے کا اظہار ہے۔ جیسا کہ جنابِ اقبال نے فرمایا ہے کہ
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
تو یہ فقیر اس احساسِ زیاں کو زندہ رکھنے کی سعی کر رہا ہے۔ اب اگر صرف صفائی کے معاملے پر ہی اپنے ہاں کی صورتحال پر ندامت کا اظہار کیا جائے اور مغرب میں صفائی کی بہترین صورتحال کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے‘ تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اپنے اداروں کو اور اس سے بڑھ کر انفرادی طور پر لوگوں کو شرم دلانے کی کوشش کی جائے تو بھلا اس میں احساسِ کمتری کہاں آ گیا؟ یہ تو رسول کریمﷺ کے صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دینے والے فرمان کی پیروی ہے۔ صفائی پر جتنا زور اسلام دیتا ہے اتنا شاید کوئی مذہب زور نہیں دیتا۔ صفائی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اسے ایمان کا نصف یعنی آدھا قرار دے دیا گیا۔ یعنی باقی سارے مذہب کو ایک طرف رکھا اور بقیہ آدھے کو صفائی قرار دے دیا۔ اس سے مراد یہ بھی نہیں کہ آپ صفائی اختیار کر لیں تو اس کے بعد آپ کو بقیہ آدھے ایمان کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس آدھے ایمان کو تازہ رکھنے کے لیے صفائی کی ضرورت ہے۔ صفائی کو نصف ایمان قرار دینے سے مراد اس کی اہمیت کو واضح کرنا تھا کہ صفائی کی کسی صالح اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں کتنی بنیادی اہمیت اور حیثیت ہے۔
ایک بات تو طے ہے کہ ہم پاکستانی'پدرم سلطان بود‘ والے جملے کی طرح خود کو ہر حوالے سے بڑا بے عیب‘ کامل‘ مثالی اور افضل سمجھتے ہیں۔ کوئی بات ہو جائے‘ ہمارا زور اس پر ہوتا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر بہایت ہی اعلیٰ و ارفع اقدار کے حامل لوگ ہیں جبکہ یورپ سراسر بے حیائی‘ بے شرمی‘ بے ایمانی‘ گندگی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ جبکہ ہم ان تمام معاملات میں ان پر بہت زیادہ فوقیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شاید مغرب کے معاشرے کی خرابیوں پر ہی نظر رکھی ہوئی ہے اور اس معاشرے کی وہ تمام خوبیاں جو کبھی ہمارا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں‘ ان پر غور ہی نہیں کیا۔ بحیثیت مجموعی ہمارا المیہ دہرا ہے۔ ایک یہ کہ ہم دوسروں کی صرف غلطیاں نوٹ کرتے ہیں‘ اور دوسرا یہ کہ ہم اپنی کسی کمی کوتاہی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم دوسروں سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد کی خوبیاں پیش کرتے ہیں اور مغرب کے معاشرے کی خرابیاں بیان کر کے خود کو بلاجواز اعلیٰ و ارفع قرار دے دیتے ہیں۔ ایسی باتوں پر تنقید وہ لوگ کرتے ہیں شاید جنہوں نے مغربی معاشرے میں آ کر‘ رہ کر اور دیکھ کر کبھی اپنے خیالات کی تصحیح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مغربی حکومتوں کی منافقتیں‘ ذلالتیں اور رذالتیں اپنی جگہ لیکن جب معاشرے کی بات کی جائے تو یہ بات طے ہے کہ عراق پر حملہ‘ غزہ پر ظلم و ستم‘ فلسطینیوں پر ہونے والا جبرو تشدد‘ ان تمام معاملات پر مغربی معاشرے کا ردعمل اور احتجاج ہم سے کہیں زیادہ مؤثر‘ مضبوط اور بھرپور تھا۔ ہم لوگوں نے تو صرف ملین مارچ کا نام ہی سنا ہے حقیقی ملین مارچ مغربی ممالکوں میں ہی دیکھنے میں آئے۔
ہمارے یہاں کبھی کوئی بُرا یا بڑا واقعہ پیش آ جائے‘ اس پر ہمارا معاشرہ بحیثیت مجموعی کوئی مضبوط ردِ عمل نہیں دیتا۔ انفرادی طور پر ردِعمل یا احتجاج ایک الگ چیز ہے‘ ہاں البتہ این جی اوز اس سلسلے میں سڑکوں پر گنتی کے لوگوں کے ساتھ بینر اٹھا کر‘ پوسٹر لگا کر یا سوشل میڈیا میں پوسٹیں لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ لیکن یہ معاشرے کا ردِعمل نہیں بلکہ رزق روزی کا مسئلہ ہے۔ این جی اوز نے اپنے احتجاجی بینروں‘ تصویروں اور ویڈیو کلپس کے زور پر اپنے سپانسروں سے پیسے اینٹھنے ہوتے ہیں۔ سو یہ احتجاج معاشرے کی عکاسی کرنے کے بجائے روزگار کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی واقعہ ہو جائے‘ ایک دو دن شور مچتا ہے اور اس کے بعد سکوتِ مرگ طاری ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں دو تین واقعات لکھے‘ خاتون وفاقی محتسب اعلیٰ برائے انسداد ہراسگیِ نسواں کے بیٹے نے مبینہ طور پر مانسہرہ سے نوکری کے ٹیسٹ کے لیے آنے والے چار نوجوانوں کو کچل کر مار دیا۔ اسلام آباد میں ہی حاضر سروس جج کے سولہ سالہ کم عمر بیٹے نے جس کے پاس نہ ڈرائیونگ لائسنس تھا اور نہ ہی گاڑی چلانے کا قانونی اجازت‘ دو سکوٹی سوار لڑکیوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر مار دیا۔ انفرادی اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ خاتون محتسب اعلیٰ بھی ڈٹ کر اپنی سرکاری حیثیت سے لطف اندوز ہوتی رہیں اور جج صاحب بھی ۔ جنہوں نے لوگوں کو انصاف دینا تھااپنے گھر میں انصاف نہ دے سکے‘ بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل نے اس سلسلے میں کی جانے والی شکایت کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ جیسے انسانی جان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی ‘جبکہ ادھر لاس اینجلس میں گزشتہ دنوں پولیس نے ایک پالتو کتے کو گولی ماری ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔
ہمارے ہاں انسان کتوں کی موت مار دیے جاتے ہیں تو نہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی عوام اس پر کوئی مؤثر ردِعمل دیتے ہیں۔ نہ عدل و انصاف کے دروازوں پر گھنٹی بجتی ہے اور نہ ہی آئین اپنے وعدے کے مطابق ہر شہری کو برابری کے حقوق دیتا ہے۔ ہم بھیڑوں کا ایسا گلہ ہیں جس کی نگہبانی اور حفاظت پر قصاب متعین ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری رخصت ہو چکا ہے۔ اس قسم کے کالموں پر تنقید کرنے اسے مثبت انداز میں لینے اور اسے معاشرے کی اصلاح کے زمرے میں لینے کے بجائے مغرب سے مرعوبیت اور احساسِ کمتری کی فتوے لگاتے ہیں۔ ساتھ میں اپنی قابلِ فخر روایات‘ اعلیٰ اقدار اور شاندار اخلاقیات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان سے کسی ایک مثال کا پوچھیں تو بدکلامی پر اتر آتے ہیں۔ آخر ہمارے بے جا تفاخر کا یہ معاملہ کہاں جا کر رکے گا ؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved