پاکستان کی سرکاری فضائی کمپنی پی آئی اے کا نجی ملکیت میں منتقل ہو جانا مجموعی طور پر ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم اس بارے میں بحث مباحثہ کا زیادہ تر فوکس اس کی کارکردگی میں بہتری کے وعدے پر ہے۔ یوں زیادہ اہم بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔اس مضمون میں ہم پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق عمومی اخباری سرخیوں سے ہٹ کرگفتگو کریں گے اور اس نجکاری سے حاصل ہونے والے بڑے اسباق کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اصلاحات سے متعلق چار اہم اسباق نمایاں ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ نجکاری نے پی آئی اے کی اصل قیمت وصول نہیں کی بلکہ صرف اسے نمایاں کیا۔ پی آئی اے کی فروخت کو اصلاحات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن اس بات پر بہت کم توجہ دی گئی کہ فروخت کو ممکن بنانے کیلئے پہلے ہی ٹیکس دہندگان کتنی بڑی قیمت ادا کر چکے تھے۔ نجکاری سے پہلے ریاست نے فضائی کمپنی کے جمع شدہ قرضوں اور واجبات کو اپنے ذمے لیا۔ یہ رقم 670 ارب روپے سے زیادہ تھی یعنی تقریباً ڈھائی ارب ڈالر۔ مقصد یہ تھا کہ خریدار کو نسبتاً صاف مالی حیثیت والی کمپنی مل سکے۔
پی آئی اے کوئی الگ تھلگ مثال نہیں ‘یہ اس نظام کی ناکامی کی سب سے نمایاں مثال ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنے سرکاری کاروباری اداروں کا انتظام چلا رہا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری اور اس سے پہلے نجی ملکیت میں دیے گئے سرکاری بینکوں میں مشترک بات تھی ‘ بیوروکریسی اور سرپرستی کے نظام پر مبنی سرکاری کنٹرول۔ سرکاری کاروباری اداروں پر یہ کنٹرول ایسے بورڈز کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے جن میں بیوروکریسی کی بھرمار ہو۔ بورڈز کے یہ ارکان مرتبہ‘ عزت و وقار اور مراعات تو حاصل کرتے ہیں لیکن ادارے کی قدر و قیمت تباہ ہونے پر انہیں نہ کوئی ذاتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور نہ ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ نجی شعبے میں ناکامی کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹرز کو اپنی ساکھ اور شہرت کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے لیکن سرکاری شعبہ میں ادارے تباہ ہوتے ہیں تو نقصانات کا بوجھ معاشرہ اٹھاتا ہے اور ناکامی کی نگرانی کرنے والے افراد اکثر کسی دوسرے بورڈ میں ٹرانسفر کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی جوابدہی سرے سے نہیں ہوتی۔ سرکاری اداروں میں مشکل فیصلے مؤخر کر دیے جاتے ہیں جبکہ ٹیکس دہندگان پر پڑنے والا بوجھ بڑھتا رہتا ہے۔ ریاست بروقت نجکاری نہیں کرتی بلکہ برسوں کی بدانتظامی کے بعد‘ جب بہت بڑا نقصان ہو چکا ہوتا ہے‘ اسے آخری آپشن کے طور پر اختیار کرتی ہے۔ اس کے بعد ادارے کو قابلِ فروخت بنانے کیلئے ٹیکس دہندگان ان نقصانات کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ نجکاری ادارے کی اصل قیمت کو سامنے لاتی ہے کیونکہ چلانے والوں نے اس ادارے کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا۔ یہ صورتحال اتفاقیہ نہیں بلکہ نظام کی ساخت کا حصہ ہے۔ لہٰذا پی آئی اے سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق یہ ہے کہ اصل اصلاح کسی سرکاری ادارے کو فروخت کرنا نہیں بلکہ ہمیں اس طرزِ حکمرانی کی اصلاح کرنا ہے جس کی وجہ سے نقصانات بغیر کسی احتساب کے ہوتے رہتے ہیں۔ اس اقدام کے بغیر پاکستان اسی چکر کو دہراتا رہے گا: ناکامی‘ مالی امداد‘ نجکاری اور پھر بھول جانا۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ نجکاری کا مطلب ہونا چاہیے مقابلے کی فضا میں شریک ہونا۔ نجی شعبے کو حقیقی منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ادارہ کسی تحفظ‘ ترجیحی سلوک یا مسلسل مالی معاونت کے بغیر اپنی مسابقتی صلاحیت کی بنیاد پر زندہ رہے۔ اگر نجکاری کے بعد بھی ادارے کو دوسرے اداروں سے آزاد مقابلے سے بچایا جائے یا خاموشی سے اس کے نقصانات معاشرے پر منتقل کیے جاتے رہیں تو ایسی اصلاحات کھوکھلی ہوں گی۔ پی آئی اے کی نجکاری کا اصل امتحان یہ ہے اسے ایک نجی ادارے کی طرح کام کرنے کی آزادی دی جائے۔ بعض دیگر اداروں (مثلاً بجلی تقسیم کار کمپنیوں ڈسکوز) کی نجکاری میں یہ ایک حقیقی چیلنج ہو گا کہ انہیں آزادانہ مقابلے سے بچانے کیلئے کوئی تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ زیادہ تر سرکاری کاروباری ادارے نجکاری کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ان کی اکثریت تجارتی لحاظ سے اس قابل نہیں کہ انہیں چلایا جائے۔ ایسے غیر قابلِ عمل اداروں (مثلاً پاکستان سٹیل ملز) کی نجکاری کی طویل کوششیں صرف نقصانات میں مزید اضافہ کرتی ہیں جن کی بھاری قیمت آخرکار ٹیکس دہندگان ہی ادا کرتے ہیں۔ ایسے اداروں کیلئے سب سے کم لاگت والا راستہ نجکاری نہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں بند کر دیا جائے۔ ان انتہائی خسارے والے اداروں کو بروقت بند کر دینے سے مسلسل نقصانات رک سکتے ہیں اور شہریوں‘ خصوصاً غریب طبقے پر بڑھتے ہوئے بوجھ سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ بالآخر یہی لوگ اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔
چوتھا سبق یہ کہ نجکاری کا مقصد لازمی طور پر بالکل واضح ہونا چاہیے۔ اگر اس عمل کو آگے بڑھانا ہے تو ریاست کو ہر نجکاری کے مقصد کے بارے میں واضح ہونا چاہیے۔ کیا ریاست کا مقصد فوری مالی آمدن ہے یعنی مارکیٹ کسی ادارے کی جتنی قیمت برداشت کر سکتی ہے اتنی وصول کرلینا؟ اگر ایسا ہے تو بعض صورتوں میں ادارے کو ایک چلتے ہوئے کاروبار کے طور پر فروخت کرنے کے بجائے اس کے اثاثے الگ الگ فروخت کرنے سے زیادہ آمدن ہو سکتی ہے۔ یا پھر حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اس ادارے کو ایک فعال کاروباری یونٹ کے طور پر ایسے خریدار کے حوالے کردیا جائے جس کے پاس متعلقہ شعبے کا تجربہ اور قابلِ اعتماد سابقہ ریکارڈ موجود ہو؟یہ کام کرنا زیادہ مشکل ہے‘ خاص طور پر پاکستان کی ایسی سیاسی معیشت میں جس پر لوگوں کا اعتماد خاصا کم ہے۔ نجکاری کے عمل میں اپنے اس مقصد کو واضح طور پر بیان نہ کرنا کنفیوژن‘ تنازع اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ان بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کی نجکاری نے طریقۂ کار کی کمزوریاں بھی بے نقاب کیں۔ پی آئی ے کی نجکاری میں عام لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کیلئے کمیونیکیشن کی حکمتِ عملی ناقص تھی۔ عوام کیلئے معلوماتی دستاویز دستیاب نہیں تھی جس میں بولی دہندگان کیلئے اہلیت کے معیار‘ منتقل کیے گئے ہر اثاثے کی تخمینہ قدر ‘ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے حکومت اور کمپنی کے درمیان تقسیم ‘ 135 ارب روپے کے وعدے کی ادائیگی کے شیڈول (جس میں دو تہائی رقم پہلے اور باقی بعد میں ادا کی جانی تھی) یا فروخت کے بعد کی ذمہ داریوں اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہوتی۔ غالباً یہ تمام معلومات فروخت کے معاہدے میں موجود ہوں گی۔ اگر ایسا ہے تو انہیں عوام کے سامنے نہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ شفافیت کی کمی غیرضروری طور پر قیاس آرائیوں اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ شفافیت کوئی دکھاوے کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ کسی عمل پر اعتماد پیدا کرنے‘ حکومت اور نجکاری کمیشن کی ساکھ کو تحفظ اور فروغ دینے اور کیپٹل مارکیٹس کو ترقی دینے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے بغیر نیک نیتی پر مبنی اصلاحات بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھی جاتی رہیں گی اور اکثر صورتوں میں یہ شک جائز بھی ہوگا۔
(یہ مضمون ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت سے لکھا گیا)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved