تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     14-07-2026

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

بات ہو رہی تھی وی سی صاحب کی جانب سے اخبارات کو بھیجی گئی پریس ریلیز کی‘ جو ابھی شائع تو نہ ہوئی تھی مگر دوستوں کے ذریعے ہمارے علم میں آ چکی تھی۔ اس پر ہم نے وی سی صاحب کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق وی سی صاحب نے ایک ٹربیونل مقرر کیا تھا جس کے ذمہ طلبہ یونین کے جملہ انتخابات کی تفتیش اور چھان بین تھی۔ اس وقت یونین کے انتخابات ہوئے دو دن گزر چکے تھے۔ اُس رات ہم لوگ علامہ صاحب کے ہاں پہنچے‘ ہم نے چوکیدار کے ذریعے اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی۔ علامہ صاحب نے دروازہ کھلوایا اور ہمیں اندر بلوایا۔ ان کے صاحبزادے نعمان بھی موجود تھے۔ میں نے علامہ صاحب سے عرض کیا کہ اپنی آج کی جاری کردہ پریس ریلیز واپس لے لیں کیونکہ وہ ہمارے مطالبات کو بالکل نظر انداز کر کے یکطرفہ فیصلے پر مبنی ہے۔ میں نے یہ بھی درخواست کی کہ پروفیسر امتیاز علی شیخ صاحب کو بھی بلا لیا جائے اور ان سے بھی اس موضوع پر مشورہ کر لیا جائے۔ پروفیسر امتیاز علی کی رہائش بالکل سامنے تھی اور وہ جامعہ کے انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر تھے۔ چنانچہ شیخ صاحب کو بھی بلوایا گیا مگر علامہ صاحب نے پریس ریلیز واپس لینے سے انکار کر دیا۔ خدا کی قدرت کہ وہ علامہ صاحب جو ڈپلومیسی کے بادشاہ تھے اور ہر کسی کو بیٹا کہا کرتے تھے‘ اس رات عجیب سخت موڈ میں تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ تقدیر ہر چیز پر حاوی اور محیط ہے۔
جب یہ نظر آنے لگا کہ علامہ صاحب کسی صورت بات ماننے کو تیار نہیں تو ایک جوشیلے نوجوان نے ڈرائنگ روم میں پڑی ہوئی تپائی اٹھا کر لکڑی کی سکرین پر دے ماری۔ یہ سکرین پارٹیشن کے طور پر ڈرائنگ روم کے درمیان رکھی ہوئی تھی۔ اخروٹ کی لکڑی سے بنی ہوئی سکرین کہیے یا کرٹن‘ نیچے گرا تو پاس پڑے ہوئے ٹی وی سیٹ سے بھی ٹکرایا۔ عین اسی لمحے دروازے کے پاس بیٹھے ایک نوجوان نے دروازے کی سیڑھیوں پر پڑا ہوا ایک گملا دوسرے گملے کے اوپر دے مارا۔ یہ سب کچھ چند لمحوں میں اس طرح ہوا کہ مجھے سمجھنے کا موقع بھی مل سکا؛ البتہ جو کچھ ہوا اس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں نے یہ ناروا حرکت کرنے والوں کو ڈانٹا اور صورتحال کو فوراً قابو میں کر لیا۔ مگر جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔
مجھے اس واقعہ پر اُس وقت بھی افسوس تھا‘ اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ میں اصل واقعات اپنی یادداشت کی حد تک بلاکم وکاست پیش کر رہا ہوں۔ مجھے ان میں سے کچھ بھی قارئین سے چھپانا نہیں۔ جو کچھ ہوا وہ میرے نزدیک میرے درخشندہ تعلیمی اور سیاسی ریکارڈ پر ایک دھبہ ہے‘ مگر جو مرچ مسالا اور حاشیہ آرائی اخباری اور زبانی بیانات میں کی گئی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ نہ تو کوئی باقاعدہ سکیم تھی کہ ایسا کیا جائے گا اور نہ ہی میرے وہم وگمان میں تھا کہ میرے ساتھی جوش میں آ جائیں گے اور علامہ صاحب اس قدر سختی دکھائیں گے۔
میں دوبارہ بھی اگر الیکشن لڑتا تو یقینا زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوتا‘ جیسا کہ اگلے سال ہوا۔ جہانگیر بدر دوبارہ میدان میں آئے اور ہمارے نامزد کردہ نمائندے حفیظ خان کے ہاتھوں زیادہ بڑے مارجن سے شکست کھا گئے۔ موصوف کے ووٹ پہلے سال سے کافی کم ہو گئے حالانکہ جامعہ کے مجموعی ووٹ اب زیادہ ہو چکے تھے۔ میں جس وجہ سے اس فیصلے کو تبدیل کرانا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ میرے خیال میں وہی پرانا ڈرامہ دوبارہ سٹیج کیا جا رہا تھا۔ چند سال قبل بھی یونین کے الیکشن کو متنازع بنا کر سٹوڈنٹ یونین پر ہی پابندی لگا دی گئی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ چند سال پہلے والا ڈرامہ اب پھر نہ دہرایا جائے مگر وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔
جب وہ افسوسناک واقعہ ہو چکا تو علامہ صاحب نے کہا: اچھا میں پریس ریلیز واپس لیتا ہوں‘ اخبارات کو ٹیلی فون کرو۔ میرے مطالبے پر پروفیسر امتیاز علی شیخ بھی آ چکے تھے۔ میں نے انہیں پورا واقعہ سناتے ہوئے علامہ صاحب سے کہا: آپ نے اپنی بھی سبکی کرائی اور میرے بھی پلّے کچھ نہیں چھوڑا‘ کیا اچھا ہوتا آپ بروقت یہ عرض مان لیتے۔ ہمارے ایک ساتھی اشفاق حسین نے اخبارات کو ٹیلی فون کیے اور علامہ صاحب نے تمام اخبارات کے ذمہ داران سے خود بات کی کہ میں نے جو پریس ریلیز بھیجی تھی‘ اسے اخبار میں شائع نہ کیا جائے۔
مذکورہ واقعے میں جو کچھ ہوا وہ ایک استاد کی توہین کے مترادف ہے اور اس پر کوئی مجھے جو کچھ بھی کہے‘ میں اس کے سامنے کوئی حجت پیش نہیں کروں گا لیکن خدا گواہ ہے کہ اُن اخباری اور سرکاری بیانات میں ذرہ برابر بھی سچائی نہیں جن میں یہ کہا گیا تھا کہ طلبہ نے علامہ صاحب پر ہاتھ اٹھایا‘ یا ان کی داڑھی پکڑی‘ یا گھر کے شیشے توڑ دیے‘ یا ان کی ٹیلی فون لائن کاٹ دی۔ جو کچھ ہوا وہ میں نے بلاکم وکاست اوپر بیان کر دیا۔ علامہ صاحب نے عدالت میں جو بیان دیا تھا‘ وہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس کو دیکھنے سے بھی حقیقت کی جھلک نظر آ سکتی ہے۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ اگر ہماری نیت توڑ پھوڑ کی ہوتی تو میں اور تنویر عباس تابش یا ڈاکٹر محمد کمال وی سی صاحب کے گھر نہ جاتے بلکہ ایسے طلبہ کو بھیجا جاتا جن کی شناخت نہ ہو سکتی۔ پھر بعض لوگوں نے اس بات کو بھی خاصی ہوا دی کہ رات ہی کو علامہ صاحب کے گھر جانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ ایک تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ میں اس سے قبل بھی بارہا رات کو علامہ صاحب کے ہاں ملنے کے لیے جا چکا تھا۔ رات کو یہ پہلی ملاقات تھی نہ اس میں کوئی اچنبھا تھا۔ دوسرا‘ ہماری درخواست پریس ریلیز رکوانے کی تھی جو اخبارات کے دفاتر میں شام کو بھیجی جا چکی تھی اور اگر اسی وقت ہم علامہ صاحب کی خدمت میں حاضر نہ ہوتے تو وہ اخبارات میں شائع ہو جاتی۔ عام فہم بات ہے کہ کسی اعلان کے شائع ہو جانے کے بعد اسے بدلنا مشکل اور مضحکہ خیز ہوتا ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ قبل از اشاعت اسے تبدیل کر دیا جائے۔ ایک اور بات جو قابلِ غور ہے وہ ہمارا یہ مطالبہ تھا کہ پروفیسر امتیاز علی صاحب کو بھی بلوا لیا جائے۔ اور عملاً انہیں بلوایا بھی گیا۔ صاف ظاہر ہے کہ توڑ پھوڑ کا ارادہ کر کے آنے والے اپنے خلاف اتنے اہم اور اعلیٰ منصب پر فائز گواہوں کو خود نہیں بلایا کرتے۔ پروفیسر امتیاز علی نے بھی علامہ صاحب سے عرض کیا کہ پریس ریلیز بھیجنے سے قبل الیکشن کمیشن سے مشورہ ہو جاتا تو بہتر ہوتا۔
علامہ صاحب کے ہاں سے نکلنے کے بعد طلبہ اپنے اپنے ہاسٹلوں میں چلے گئے۔ جو ناخوشگوار واقعہ ہو چکا تھا اس پر میں نے باہر نکل کر اپنے دوستوں سے بھی ناراضی کا اظہار کیا۔ رات بھر اس کا اثر میرے ذہن پر رہا۔ اگلے روز میں صبح سویرے علامہ صاحب سے ملنے ان کے دفتر گیا کہ اس ناخوشگوار واقعے پر دوبارہ ان سے معذرت کر کے معافی مانگوں۔ پتا چلا کہ علامہ صاحب ایس ٹی سی (نیو کیمپس) میں پولیس افسروں کے ساتھ ملاقات میں مصروف ہیں اور تھوڑی دیر تک آنے والے ہیں۔ میں نے کافی دیر انتظار کیا۔ میرے ساتھ دو تین ساتھی اور بھی تھے۔ ہم علامہ صاحب کے اولڈ کیمپس والے دفتر کے باہر بیٹھے تھے کہ علامہ صاحب پولیس افسروں کی معیت میں تشریف لائے اور دوسرے دروازے سے اندر چلے گئے۔ پولیس کے کافی سپاہی ادھر ادھر چوکس کھڑے تھے۔ میں نے علامہ صاحب کو پی اے کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ میں مختصر ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ اندر سے اطلاع آئی کہ آج وہ ازحد مصروف ہیں اور ملاقات نہیں ہو سکتی۔ اسی دوران جہانگیر بدر اور ان کے چار پانچ ساتھی وہاں آ گئے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ بارک اللہ خان بھی ان کے ساتھ تھے۔ یہ سب لوگ ہمارے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ایک دو منٹ نعرے لگانے کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔ میرے ساتھ اس وقت میڈیکل کالج کے تین طلبہ ڈاکٹر محمد یونس‘ ڈاکٹر محمد رفیق خیالی اور ڈاکٹر خالد نواز تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ ملاقات کا امکان نظر نہیں آتا‘ لہٰذا اب ہمیں بھی یہاں سے چلنا چاہیے ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved