امریکہ اور ایران میں جنگ بندی‘مذاکراتی عمل اور بعد ازاں پاکستان اور قطر کی مدد ومعاونت سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت‘ جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا ‘ پر دنیا بھر نے سکھ کا سانس لیا اور طے پایا کہ اس مفاہمتی عمل کے تحت اگلے 60 روز میں تنازعات کے حل کیلئے ایک واضح ایجنڈا سامنے آئے گا‘ جس پر عمل پیرا ہو کر معاملات حل ہوں گے۔ مفاہمتی معاہدے کے وقت بعض حلقوں کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا لیکن سفارتی اور ثالثی عمل میں متحرک ممالک مطمئن تھے کہ جنگ کے خطرات ختم ہوں گے اور معاملات آگے چلیں گے۔ کچھ حلقے اس معاہدے کو اس لیے ہدف بناتے دکھائی دے رہے تھے کہ انہیں یہ امن عمل ہضم نہیں ہو رہا تھا اور وہ اسے اپنے عزائم میں بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے‘ ان میں اسرائیل سرفہرست تھا جس نے معاہدے کے بعد لبنان اور غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے اس عمل پر ایران کو شدید تحفظات تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کے باوجود‘ اپنے مخصوص انداز میں ایران اور اس کی لیڈرشپ کو ٹارگٹ کرتے اور دھمکیاں دیتے رہے‘ جس سے معاہدے کے باوجود کشیدگی کی فضا قائم رہی۔ ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد کی خلیج‘ جو دہائیوں سے حائل تھی‘ اس میں کمی آتی نظر نہیں آ رہی تھی اور معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے امکانات بہت کم نظر آتے تھے۔ صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت‘ دونوں جانب سے جنگ بندی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور فریقین کھلم کھلا ایک دوسرے کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کرتے اور ایک دوسرے کے خلاف ممکنہ اقدامات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کیلئے پریشانی یہ ہے کہ جنگی رجحانات کے اثرات براہِ راست خطے میں تناؤ اور ٹکراؤ کا باعث بن رہے ہیں اور اس کا براہِ راست اثر علاقائی امن واستحکام اور پٹرولیم کی قیمتوں پر پڑے گا۔ نئی پیدا شدہ صورتحال نہ صرف پہلے سے زیادہ تشویشناک ہے بلکہ اب مزید خطرناک صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی دو طرفہ ناکہ بندی ہو چکی ہے اور توانائی کی رسد معطل ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور اس کے کئی حامی‘ جو پہلے ہی سے اس معاہدے کو ناکام بنانے کیلئے کوشاں تھے‘ موجودہ صورتحال پر بہت خوش نظر آتے ہیں۔ ان کے علاوہ فریقین کے اندر بھی بعض ایسے عناصر سرگرم تھے جو اس معاہدے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے اس پر اثر انداز ہونے کیلئے کوشاں تھے۔ جب دنیا میں معاہدے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا تو دونوں ممالک کے بعض حکومتی ذمہ داران اور بعض انتہا پسند عناصر اس کی ناکامی کیلئے سرگرم تھے اور اب وہ جنگ و جدل کے سماں پر اطمینان ظاہر کرتے نظر آ رہے ہیں حالانکہ انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ آنے والے حالات میں تناؤ اور ٹکراؤ کا یہ رجحان خود دونوں ممالک کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جہاں تک مذکورہ صورتحال میں پھر سے ثالثی اور سفارتی کوششوں کا سوال ہے تو پاکستان اور قطر مذکورہ صورتحال کے توڑ کیلئے دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر خلیج کی لیڈرشپ سمیت دنیا کے دیگر حکمرانوں سے رابطہ کرتے اور انہیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو دونوں ممالک میں اصل ایشو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ہے۔ اس مسئلے نے پائیدار امن کے امکانات کو بہت کم کر دیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے کمرشل جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں خلل ڈال رہا تھا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جس ایم او یو پر صدر ٹرمپ نے دستخط کیے‘ اس کے تحت 60 دن کیلئے آبنائے ہرمز سے کمرشل بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کو بحفاظت گزارنے کی ذمہ داری ایران پر تھی اور ایران نے جہازوں کی آمدورفت کیلئے سمندری حدود میں ایک راستہ متعین کر رکھا تھا۔ اس راستے کو چھوڑ کر دیگر راستے اپنانا ایم او یو کی صریح خلاف ورزی تھی اور اسی خلاف ورزی پر ایران نے بعض بحری جہازوں پر ڈرون گرائے مگر ایران کی یہ کوشش عالمی امن کو بھاری پڑی اور فریقین کے مابین پھر سے جنگی ماحول پیدا ہو گیا۔ اس وقت امریکہ ایران کے اہم اہداف کو ٹارگٹ کرتا نظر آ رہا ہے اور ایران گلف کے مختلف ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملہ آور ہے۔ مذکورہ صورتحال نے پھر سے علاقائی امن کیلئے بہت سے خطرات و خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ خصوصاً پاکستان کو اس وقت ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف ہر آنے والا دن امریکہ‘ ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر رہا ہے تو دوسری طرف پھر سے پس پردہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب بڑا سوال یہی ہے کہ پس پردہ رابطوں کا سلسلہ نتیجہ خیز بن پائے گا؟ اگر پھر سے یہ رابطے مؤثر ہوتے ہیں اور فریقین کو پھر سے جنگ بندی پر آمادہ کر لیا جائے تو اس کی کامیابی کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے؟ اب تک ہونے والے رابطے اسی صورت میں نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں کہ جب فریقین کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز برتنا چاہیں اور محدود مگر قابلِ قبول حکمتِ عملی پر اتفاق ہو جائے۔
اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بڑی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں بداعتمادی عروج پر ہے اور دونوں اپنے اندرونی دباؤ کے باعث ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فریقین کی لیڈر شپ اپنی مقبولیت پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کیلئے بڑی فکر یہ ہے کہ انہیں نومبر میں مڈٹرم انتخاب کا سامنا ہے اور ایران کے خلاف جارحیت کے نتیجے میں یہ تاثر پیدا نہیں ہو سکا کہ امریکہ کو فتح ملی ہے بلکہ الٹا یہ تاثر نمایاں رہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں ان کی پوزیشن متاثر ہوئی اور وہ پھنسے نظر آ رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر صدر ٹرمپ پر نفسیاتی کیفیت طاری ہے اور وہ جلد از جلد بڑی کامیابی کے خواہاں ہیں‘ جو فی الحال نظر نہیں آ رہی۔ دوسری جانب ایران کا عالم یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر مالی وجانی نقصان کے باوجود وہ پسپائی پر تیار نہیں۔ شہید رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں کی تعداد میں عوامی شرکت کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ایرانی حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے بلکہ قومی اتحاد ویکجہتی کا تاثر بھی پختہ ہوا ہے۔ ایران سے باہر بھی دنیا پر یہ حقیقت نمایاں ہے کہ ایران کی اصل طاقت ایرانی قوم ہے‘ جس کے جذبے اور ولولے کا اعتراف خود صدر ٹرمپ کو بھی کرنا پڑا۔ لہٰذا جب امریکہ اور ایران اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مفاہمتی عمل پر کاربند نہیں ہوں گے تو معاملات کیسے حل ہو سکتے ہیں۔ ادھر خلیجی ممالک بھی شدید تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ وسیع ہو گیا تو پورا خطہ عدم استحکام سے دوچار ہوگا اور اگر امریکہ سمجھے کہ اس کے مفادات یا اتحادیوں کو مسلسل خطرہ لاحق ہے تو وہ دباؤ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ وہ کسی طور پر نہیں چاہے گا کہ اس کی عالمی اہمیت وحیثیت پر حرف آئے اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر اس کی کمزوری عیاں ہو۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ فریقین کو اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں۔ تاہم پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب کے علاوہ یورپی یونین اور چین بھی امریکہ‘ ایران ٹکراؤ کو دنیا کیلئے خطرناک گردانتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین مفاہمت پر زور دے رہے ہیں۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ سفارتکاری ناگزیر ہے کیونکہ مسلسل تصادم کسی بھی فریق کیلئے پائیدار حل نہیں ہو سکتا‘ خود پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے مفاد میں بھی نہیں کہ امریکہ‘ ایران مذاکرات سے دور جائیں۔ اگر دونوں فریق پاکستان پر اعتماد کریں تو بات بن بھی سکتی ہے اور چل بھی سکتی ہے لیکن بنیادی فیصلے بالآخر دونوں ممالک کو خود ہی کرنے ہیں۔ پاکستان کی کوشش مفید تو ہو سکتی ہے لیکن کامیابی کا انحصار واشنگٹن اور تہران کی سیاسی آمادگی پر ہوگا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved