اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیاء کرام علیہم السلام کو معبوث فرمایا اور ان میں سے بعض جلیل القدر انبیاء کرام پر الہامی کتابوں کو بھی نازل کیا‘ جو وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہو گئیں لیکن نبی کریمﷺ کے قلبِ اطہر پر نازل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید کا یہ اعزاز ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الحجر کی آیت: 9 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘۔ قرآن مجید کا یہ پیغام قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التکویر کی آیت: 27 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''یہ تو تمام جہان والوں کے لیے نصیحت نامہ ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے جمیع انسانیت کی رہنمائی کے لیے اترنے والی اس کتاب پر انسانیت کو مکمل توجہ دینی چاہیے لیکن ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ انسانوں کی کثیر تعداد قرآن مجید کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن نبی کریمﷺ کے اس شکوے کا قرآن مجید میں ذکر کرتے ہیں کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی قوم کی قرآن مجید سے دوری کا ذکر کریں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیت: 30 میں بیان فرماتے ہیں: ''اور رسول کہیں گے کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
اہلِ اسلام کو قرآن مجید کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن مجید کے حوالے سے ہم سب پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ قرآن مجید پر ایمان لانا: قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 2 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حقیقت کو بھی واضح فرمایا کہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک ایسی کتاب ہے جس کو علمائے بنی اسرائیل بھی اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے اہلِ علم کی قرآن مجید کے حوالے سے معرفت کو سورۃ البقرہ کی آیت: 146 میں کچھ یوں بیان کیا گیا: ''جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر چھپاتی ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشعراء کی آیات: 192 تا 197 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور بے شک وشبہ یہ ( قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے۔ اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔ آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں۔صاف عربی زبان میں۔ اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکرہ ہے۔ کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیتِ قرآن تو بنی اسرائیل کے اہلِ علم بھی جانتے ہیں‘‘۔
2۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام پر ایمان لانے کے بعد اس کی تلاوت کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کلام حمید میں تلاوت کرنے والوں ہی کو کتاب پر ایمان رکھنے والا قرار دیتے ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 121 میں ارشاد ہوا: ''جنہیں ہم نے کتاب دی اور وہ اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں‘ اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وہ نقصان والا ہے‘‘۔ اسی طرح حدیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو ہر حرف کے بدلے نیکیاں ملتی ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو شفا ملتی اور سکینت حاصل ہوتی ہے۔روحانی‘ نفسیاتی اور جسمانی عوارض کا خاتمہ ہوتا ہے اور دل کو اطمینان اور فرحت حاصل ہوتی ہے۔
3۔ قرآن مجید پر تدبر کرنا: قرآن مجید کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر تدبر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اہلِ ایمان کو تدبر کی دعوت دی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ص کی آیت: 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر پُرزور انداز میں قرآن مجید پر غور وفکر کی دعوت دی ہے۔ سورۂ محمد کی آیت: 24 ارشاد ہوا: ''کیا یہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے‘ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں‘‘۔ تدبر کرنے سے انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارشادات اور قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
4۔ قرآن مجید پر عمل کرنا: تدبر کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے احکامات پر عمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں ان لوگوں کی شدید مذمت کی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر ان کا عمل نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الصف کی آیات: 2 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ کو سخت ناپسند ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں یہود کے بے عمل علما کی مذمت کرتے ہوئے ان کی تشبیہ ایسے گدھے کے ساتھ دی جس پر کتابوں کے بوجھ کو لاد دیا گیا ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الجمعہ کی آیت: 5 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو، اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسی) ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔
5۔ قرآن مجید کی تعلیمات کا ابلاغ کرنا: انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے کلام کے ابلاغ کے لیے ہمہ وقت کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے متعدد مقامات پر دوسروں کو نیکی کا حکم دینے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التحریم کی آیت نمبر 6 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر‘ جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں‘‘۔
6۔ قرآن مجید کے نفاذ کے لیے کوشش کرنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو احکامات نازل کیے ہیں‘ ان کی اپنی ذات اور گرد ونواح میں بسنے والے انسانوں پر تنفیذ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکام اور معاشرے میں مقتدر لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات کو معاشرے میں لاگو اور نافذ کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں اپنے نازل کردہ احکامات کے قیام کے بہت زیادہ مثبت نتائج بتائے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 66 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اگر یہ لوگ تورات اور انجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے‘ ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے‘ ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں‘‘۔
بحیثیت مسلمان قرآن مجید کے حوالے سے ان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجید کے حوالے سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved