تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     16-07-2026

کاغذی نان اور چھدامی بھڑبھونجا

ملک میں گندم اور آٹے کی قیمت بڑھنے سے روٹی اور نان کی قیمت بھی بڑھنے لگی ہے اور یہ اضافہ اس حقیقت کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ہی روٹی اور نان کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا اور سادہ روٹی 20روپے میں جبکہ نان 30روپے میں فروخت ہو رہا تھا حالانکہ سرکاری ریٹ سادہ روٹی 14روپے اور نان 20روپے ہے۔ گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کو جواز بنا کر نان بائی ایسوسی ایشن نے روٹی کی قیمت کو پہلے 14روپے سے 20روپے کیا اور نان 30روپے میں بیچنے کا اعلان کیا تھا۔ جب اس پر انتظامیہ اور عوام کی جانب سے کوئی خاص ردِ عمل سامنے نہ آیا تو اب قیمتوں میں مزید اضافے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ سادہ روٹی شاید 25روپے کی ہو جائے اور نان 35روپے میں بکنے لگے۔ انتظامیہ نان بائیوں کو قیمتیں بڑھانے سے روک سکے گی یا نہیں‘ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ فی الحال تو عوام سہمے بیٹھے ہیں کہ اگر نان واقعی 35روپے کا اور سادہ روٹی 25روپے کی ہو گئی تو کیا ہو گا؟
ہمارے لیے تو 35روپے کا نان خریدنا شاید اتنی اچنبھے کی بات نہ ہو کہ ہم نے نان کی قیمت کے ایک روپے سے 30روپے تک پہنچنے کے پورے ارتقائی عمل کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ 1994ء کی بات ہے کہ سادہ روٹی آٹھ آنے (پچاس پیسے) کی اور نان ایک روپے کا ہوتا تھا۔ اُس سال چھوٹی عید کے بعد سادہ روٹی ایک روپے کی ہو گئی اور نان دو روپے کا ہو گیا۔ اس کے دو اڑھائی ماہ بعد ہی یعنی بڑی عید کے بعد سادہ روٹی ڈیڑھ روپے کی ہو گئی اور نان تین روپے کا کر دیا گیا تھا۔ پھر روٹی اور نان کی قیمتوں کے منہ زور گھوڑے کو روکنا کسی کے بس میں نہ رہا جس کا نتیجہ آج ہم روزمرہ خوراک کے اہم ترین جزو کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔
ہم نے تو خیر یہ سب دیکھا‘ پرکھا اور کسی نہ کسی طور برداشت بھی کر لیا‘ لیکن سوچتا ہوں روٹی کی قیمت 25 روپے اور نان کی قیمت 35 روپے سن کر ان لوگوں کا کیا حال ہوتا ہو گا جنہوں نے ہمارے دور سے بھی سستے زمانے دیکھے ہیں۔ وہ بزرگ جو اپنے زمانے میں تین پیسے اور چھ پیسے (ایک آنے ) کی روٹی خریدتے تھے یا جنہوں نے دیسی گھی آٹھ دس روپے کلو خریدا یا جو آٹا ایک روپے کا دس کلو فروخت ہونے کے چشم دید گواہ ہیں‘ وہ کیا محسوس کرتے ہوں گے؟ ممکن ہے آج کی جنریشن چھ پیسے کی روٹی کا سن کر حیران ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں کھانے پینے کی چیزیں نہایت سستی ملتی تھیں۔ اور یہ تو ایک آسان سا معاشی کلیہ ہے کہ چیزیں سستی ہوں تو قوتِ خرید خود بخود اس قدر مستحکم ہو جاتی ہے کہ عام آدمی کا ماہانہ بجٹ بہ آسانی چلتا رہے۔ یہ تب کی بات ہے جب بے لگام کمرشل ازم کا جن ابھی بوتل سے باہر نہیں نکلا تھا اور سب حلال کی کھاتے تھے‘ صرف جائز منافع کماتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں ایک آنے‘ دو آنے اور چار آنے (چوّنی) میں روٹی اور سالن مل جاتا تھا۔ تب کئی ہوٹل یا تنور تو ایسے بھی ہوتے تھے جہاں آٹھ آنے کی دال اور روٹی فری مل جاتی تھی‘ یعنی آٹھ آنے میں کوئی بھی فرد پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتا تھا۔ اب آٹھ آنے کا کوئی دھکا بھی نہیں دے گا۔
نان کی مجوزہ قیمت 35 روپے کا سن کر مجھے چھدامی بھڑبھونجا یاد آ گیا ہے۔ کیا آپ چھدامی بھڑبھونجے کو جانتے ہیں؟ میرے خیال میں تو آپ کو آگاہ ہونا چاہیے۔ نہیں جانتے تو میں بتا دیتا ہوں۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوح میں ایک رات جب نصوح کے بیٹے سلیم کو رات کے وقت بھوک لگتی ہے تو وہ اپنے بھائی سے کہتا ہے کہ ایک تدبیر سمجھ میں آتی ہے کہ جاؤں‘ چھدامی بھڑبھونجے (بھنے ہوئے چنے بیچنے والا) کے یہاں سے گرم گرم خستہ چنے کی دال بنوا لاؤں۔ بس ایک دھیلے (پیسے) کی مجھ کو تم کو‘ دونوں کو کافی ہو گی۔ کیسا وہ زمانہ ہو گا کہ ایک دھیلے کے چنے دو بندوں کے لیے کافی ہوتے تھے اور کہاں یہ وقت کہ صرف ایک نان 35 روپے کا بکنے والا ہے‘ جو ایک بندے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتا۔ نان بھی اتنے ہلکے جیسے کاغذی نان ہوں۔ ایک نان سے عام جسامت کے حامل بندے کا بھی پیٹ نہ بھرے‘ اسے دو تین کھانے پڑیں۔ تن و توش کا آدمی ہو تو چھ سات نان آسانی سے کھا لے۔ یعنی ایک وقت میں ایک آدمی کے لیے سو‘ ڈیڑھ سو روپے کے تو صرف نان ہی چاہیے ہوں گے‘ سالن کی قیمت اس پر مستزاد۔
خبر یہ ہے کہ ملک بھر میں ایک سال کے دوران آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ 10 جولائی 2025ء کے مقابلے میں 10جولائی 2026ء کے روز 20کلو آٹے کا تھیلا 1250روپے تک مہنگا ہو چکا ہے اور وفاقی ادارۂ شماریات کی دستاویزات کے مطابق کراچی کے شہری ایک سال قبل اور اب بھی ملک میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ باقی صوبوں اور شہروں میں بھی حالات اس سے مختلف نہیں ہوں گے۔ کیا اربابِ بست و کشاد سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر ملک میں ضرورت کے مطابق گندم کی وافر مقدار موجود ہے تو پھر آٹا مسلسل مہنگا کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ انتظامیہ میں سے کوئی ہے جو اس ناجائز منافع خوری کو روک سکے؟ نان روٹی کا کاروبار کرنے والوں کا شکوہ بجا ہے کہ گندم‘ آٹا اور میدہ وغیرہ مہنگا ملے تو وہ سستی روٹی کہاں سے فراہم کریں۔ اپنے پلّے سے عوام کو روٹی کھلانے سے تو رہے۔ جب حکومت گندم کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرے گی تو نان بائی یا تو نان اور روٹی کی قیمت بڑھائیں گے یا پھر ان کا حجم اور وزن کم کرتے جائیں گے۔ پھر ویسے ہی کاغذی نان اور روٹیاں کھانے کو ملیں گی‘ جیسی اب مل رہی ہیں۔ کاغذی اخروٹ تو دیکھتے تھے‘ کیا خبر تھی کہ کاغذی نان بھی کھانا پڑیں گے۔
فرضی ہے یا حقیقی‘ وَٹس ایپ پر پڑھا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک تنور والا تھا جو پانچ روپے میں روٹی بیچتا تھا۔ اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا درکار تھا جیسا کہ آج کل نان بائیوں کو درکار ہے لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی روٹی کی قیمت نہیں بڑھا سکتا تھا؛ چنانچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: بادشاہ سلامت مجھے روٹی کی قیمت 10روپے کرنی ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ 30 روپے کی کر دو۔ تنور والے نے حیران ہو کر کہا کہ بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا‘ لوگ باہر نکل آئیں گے اور احتجاج کریں گے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم اس کی فکر نہ کرو‘ میں سب کچھ سنبھال لوں گا‘ تم صرف اپنا منافع دیکھو اور روٹی 30 روپے کی کر دو۔ اگلے دن نان بائی نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی جس پر پورے ملک میں کہرام مچ گیا اور لوگ احتجاج کرنے لگے۔ عوام بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ تنور والا ظلم کر رہا ہے‘ روٹی 30 کی روٹی بیچ رہا ہے۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ تنور والے کو میرے دربار میں پیش کرو۔ سپاہی اسے پکڑ کر دربار میں لے آئے۔ بادشاہ نے غصے سے کہا: تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی؟ یہ رعایا میری ہے‘ لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو؟ بادشاہ نے تنور والے کو حکم دیا کہ تم کل سے آدھی قیمت پر روٹی بیچو گے‘ ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا۔ بادشاہ کا حکم سن کر عوام نے بادشاہ سلامت زندہ باد کے نعرے بلند کر دیے۔ اگلے دن سے روٹی 30 روپے کے بجائے 15 میں بکنے لگی‘ جو دراصل پانچ روپے سے بڑھا کر 15 روپے کی ہوئی تھی۔ عوام کی جانب سے انتظامیہ سے عرض صرف اتنی ہے کہ روٹی مہنگی ہونے کے مسئلہ بادشاہ کی طرح حل کرنے سے گریز کیا جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved