تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     16-07-2026

نئے زمانے کے ٹھگ

فیس بک پر ایک پیغام نے چونکا دیا۔ وہ دوست امریکہ میں مقیم تھا اور ایسا پیغام اس کی طرف سے کبھی وصول نہیں ہوا تھا۔ پیغام بھی رومن اردو میں‘ جو اس کی عادت ہی نہیں تھی۔ اس سے رابطہ بھی وَٹس ایپ پر ہوا کرتا تھا‘ فیس بک پر نہیں۔ سلام اور حال چال کے بعد اس نے فوراً ہی چیٹ پر کہا: مجھے اک فوری کام پڑگیا ہے آپ سے۔ کچھ رقم پاکستان کے ایک اکاؤنٹ میں فوری بھیجنی ہے۔ دس ہزار روپے۔ میں دو دن بعد آپ کو واپس کر دوں گا۔ میں نے پوچھا: زبیر کا کیا حال ہے‘ اور اسلم صاحب آج کل کہاں ہیں؟ جواب آیا کہ دونوں خیریت سے ہیں‘ آپ میرا یہ کام فوری کر دیں۔ میں نے ایک ہی سانس میں اسے جتنا برا بھلا کہنا ممکن تھا کہہ دیا کیونکہ زبیر اور اسلم محض فرضی وجود تھے جن کا اس دوست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جواب میں اس نے مجھے فوراً بلاک کر دیا۔ اور یوں اس جعلی آئی ڈی سے رابطہ ختم ہو گیا۔
یہ صرف ایک مثال ہے۔ ایسی بیسیوں مثالیں ہیں۔ میرے ساتھ کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ کسی جاننے والے نے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی پروفائل میں اس کی تصویر بھی لگی تھی۔ اس خیال سے کہ شاید اس جاننے والے کی سابقہ آئی ڈی میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہو گا‘ جو کہ ہو جاتا ہے‘ میں نے نئی آئی ڈی کو شامل کر لیا اور اسی شام اس نے یہ کہانی ڈال دی یعنی پیسوں کی درخواست کر دی۔ فیس بک اور ایکس وغیرہ پر چونکہ فون نمبر کی بھی ضرورت نہیں اس لیے دھوکے بازوں کا کام آسان ہو گیا ہے۔ خدا کا شکر کہ ہمیشہ یہ نوسربازی سمجھ آتی رہی اور کبھی نقصان نہیں ہوا لیکن ایسے لوگ مجھے معلوم ہیں جو دھوکے میں آگئے اور اچھا خاصا نقصان کر بیٹھے۔
جیسے جیسے جدید دور میں جائز پیسے کمانے کے نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں‘ ویسے ویسے نو سربازی کے نت نئے طریقے بھی سامنے آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور موبائل کے ملاپ نے فراڈ کے بہت سے راستے کھول دیے ہیں۔ یہ میرے ساتھ بہت مرتبہ ہوا اور میرا خیال ہے کم ہی لوگ بچے ہوں گے جن کے ساتھ یہ نہ ہوا ہو کہ اچانک کسی اجنبی نمبر سے کال آئی‘ بولنے والے نے پوچھا: آپ فلاں صاحب بول رہے ہیں۔ تصدیق کی تو پھر سوال کیا کہ آپ کا فلاں بینک کی فلاں برانچ میں اکاؤنٹ ہے۔ اس کی بھی تصدیق کر دی تو بولے: یہ اکاؤنٹ بلاک کیا جا رہا ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کی ہدایات ہیں۔ اگر آپ اکاؤنٹ بلاک نہیں کرانا چاہتے تو اس کا ایک طریقہ ہے۔ پھر وہ طریقہ بتلایا جاتا ہے جس میں کسی خاص اکاؤنٹ میں پیسے بھجوانے ہوتے ہیں۔ خدا کا شکر کہ میں اس دھوکے میں بھی کبھی نہیں آیا لیکن متعدد لوگوں کے ساتھ یہ فراڈ بھی ہو چکا ہے بلکہ اب یہ دھوکا بھی پرانا ہو گیا ہے۔ اکثر اس طریقے میں کوئی اجنبی نمبر استعمال ہوتا ہے لیکن حد ہو جاتی ہے جب بینک کا آفیشل نمبر سکرین پر آئے لیکن وہ بھی دھوکا ہو۔ اسی سے ملتا جلتا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ کو بظاہر بینک سے کال آتی ہے اور آپ سے آپ کا بینک اور اے ٹی ایم پن کوڈ پوچھا جاتا ہے جو نہایت حساس کوڈ ہے۔ اگر آپ نے غلطی سے پن کوڈ بتا دیا یا اس کے بھیجے ہوئے لنک پر کلک کر دیا تو بس منٹوں میں آپ کے پیسے غائب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ چنانچہ بہت محتاط رہنا پڑتا ہے اور بعض اوقات بینک کی اصلی کال بھی فراڈ لگتی ہے۔
یہ صرف اندیشہ نہیں حقیقت ہے۔ تین چار ماہ پہلے رات ڈھائی بجے میرے فون پر کال آئی۔ رات کی کال اور وہ بھی جب سوتے میں جگا دے‘ پریشان کن اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ کوئی صاحب بولے: میں فلاں بینک کے کراچی دفتر سے بول رہا ہوں۔ آپ کا اکاؤنٹ نمبر فلاں ہے۔ کیا آپ سعود صاحب بول رہے ہیں۔ میں انجانے خطرے سے محتاط ہو گیا۔ سب سے پہلے تو یہ تصدیق کی کہ وہ واقعی بینک والا ہی ہے۔ اس نے کہا کہ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آج رات آپ کے کارڈ سے ایک ادائیگی ہوئی ہے‘ کیا آپ نے کی ہے؟ ہمیں شک ہے کہ یہ آپ نے نہیں کی۔ میں پریشان ہو گیا۔ بات کرتے ہوئے اکاؤنٹ چیک کیا تو واقعی کئی ہزار روپے کی رقم اکاؤنٹ سے نکلی تھی۔ میں نے کہا یہ ادائیگی میں نے نہیں کی‘ یہ کوئی فراڈ ہے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ امید ہے آپ کی رقم آپ کو واپس مل جائے گی لیکن میں یہ کال متعلقہ شعبے میں ٹرانسفر کر رہا ہوں‘ وہ آپ کو اس کا طریقہ کار بتا دیں گے۔ پھر کسی اور صاحب نے بات کی۔ میں حد درجہ محتاط تھا کہ یہ فراڈ کی اطلاع ہے یا خود ایک فراڈ ہے۔ کافی دیر کے بعد جب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ اصل بینک کے لوگ ہیں تو میں نے اس کے بتائے طریقے پر عمل کیا اور کچھ دن کے بعد وہ رقم اکاؤنٹ میں واپس آ گئی۔
ایک اور نیا طریقہ جو اَب پرانا ہو چکا ہے‘ ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس سے متعلق ہے‘ جو آپ کے موبائل نمبر سے کھلتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں رقم بھجوانے کی ایک حد مقرر ہے جس سے بہت بار لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ نئے ٹھگوں نے کسی نمبر سے کال کرکے یہ حد بڑھانے کا جھانسا دینا شروع کیا اور وہ شخص جو اس حد تک تنگ تھا‘ اس دھوکے میں آ گیا اور رقم مطلوبہ اکاؤنٹ میں بھیج دی۔ ڈرامہ ایسے کیا جاتا ہے کہ اچھے بھلے ہوشیار لوگ پھنس جاتے ہیں۔ ایک اور طریقہ چل رہا ہے۔ آپ کو ایک نمبر سے کال آتی ہے کہ میں فلاں کوریئر سروس سے بول رہا ہوں‘ آپ کا پیکٹ ڈِلیور کرنا ہے اس لیے ایک لنک آپ کے وَٹس ایپ پر بھیجا ہے‘ اس پر کلک کر دیں۔ میں نے ڈانٹ کر کہا کہ اگر کوریئر سے بول رہے ہو تو پیکٹ ڈِلیور کردو‘ ایڈریس تمہارے پاس ہے‘ میں لنک پر کیوں کلک کروں۔ اس لنک پر کلک کرنے کا مطلب ہے اپنی معلومات اس ٹھگ تک پہنچا دینا۔ معلوم نہیں کتنے لوگ اس کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ خدا کا شکر کہ میں اب تک تو ایسی کالز کے باوجود محفوظ رہا ہوں۔
کافی سال پہلے میں اپنے دفتر بیٹھا ہوا تھا‘ سردی کے دن تھے‘ ایک آدمی جو حلیے سے ریٹائرڈ سپاہی یا پولیس اہلکار لگتا تھا‘ چادر کی بکل مارے داخل ہوا۔ اس نے پوچھا کہ کیا وسیم صاحب آ گئے ہیں؟ میں نے کہا: کون وسیم صاحب؟ اس نے کہا کہ میں لاہور ایئر پورٹ پر کسٹم اہلکار ہوں‘ وسیم صاحب میرے بھائی ہیں اور یہاں ملنا طے ہوا تھا۔ کیا میں یہاں وسیم کا انتظار کر لوں؟ میری اجازت پر وہ بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اپنی کہانی ڈالنی شروع کی۔ بولا: دراصل کسٹم والے جو ناجائز چیزیں پکڑتے ہیں سال بھر کے بعد اس کی نیلامی ہوتی ہے اور قیمتی چیزیں مارکیٹ سے آدھی سے بھی کم قیمت پر مل جاتی ہیں۔ وسیم کی بیٹی کی شادی ہے تو اسے بھی یہ چیزیں چاہئیں مثلاً ٹی وی‘ فریج وغیرہ۔ آپ وسیم کے دوست ہیں‘ اگر آپ کو چاہئیں تو آپ کو بھی دلوا دوں گا۔ میں کام میں مصروف تھا لیکن اس بات پر چوکنا ہو کر کام چھوڑ کر بیٹھ گیا۔ اب میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس طریقے سے فراڈ کرے گا۔ میں نے ٹی وی‘ فریج وغیرہ کے ریٹ پوچھے‘ جن کی مارکیٹ قیمت کا مجھے اندازہ تھا۔ اس نے ناقابلِ یقین کم ریٹ بتائے اور کہا کہ آج نیلامی کا آخری دن ہے۔ اگر آپ دس فیصد رقم دے دیں تو میں ابھی آپ کی چیزیں بک کروا دیتا ہوں۔ مجھے اس کا یہ فراڈ تو سمجھ آ گیا تھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ اس کی چادر میں کوئی ہتھیار نہ ہو اور میں دفتر میں اکیلا تھا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے‘ میرے بھائی کو بھی یہ چیزیں چاہئیں‘ ہم اکٹھے ہی خرید لیتے ہیں۔ یہ کہہ کر جیسے ہی میں نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا‘ وہ اتنا تجربہ کار ٹھگ تھا کہ سمجھ گیا کہ میں کسی کو بلاؤں گا۔ وہ اچھلا اور ایک سیکنڈ میں میرے دفتر سے بھاگتا ہوا نکل گیا۔ میں نے بھی اسے نہیں روکا بلکہ شکر کیا کہ ٹھگ اور اچکے سے نجات ملی۔
زبان دان رہنمائی کریں کہ ٹھگ اور اچکے کی مونث کیا ہے۔ کیا میں ٹھگنی اور اچکی کہہ لوں؟ مجھے ان کے بھی واقعات سنانے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved