امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پسِ پردہ طویل سفارتکاری کے بعد 17 جون 2026ء کو ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے‘ اس میں وزیراعظم پاکستان‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ طویل سفارتکاری کا بڑا دخل تھا۔ آخری مرحلے میں قطر بھی اس میں شامل ہو گیا اور باقاعدہ مذاکرات کے پہلے اجلاس کیلئے سہولتیں بھی قطر نے فراہم کیں۔ یہ دستاویز طویل سفارتکاری اور عرق ریزی کے بعد مرتب ہوئی اور فریقین نے اس پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد دنیا کو یہ بشارت سنائی گئی کہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بلا روک ٹوک تجارتی بحری جہازوں کی آمد ورفت کیلئے کھلی رہے گی اور تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت شروع بھی ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معتدبہ کمی آئی۔ عالمی سٹاک مارکیٹوں میں استحکام کے آثار نمودار ہوئے اور دنیا نے اطمینان کا سانس لیا۔ لیکن اس عالمی قرار وسکون کو چند ہی دن گزرے تھے کہ امریکہ اور ایران کے مابین پھر اختلافات رونما ہونے لگے اور 12جولائی کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو ''تاحکم ثانی‘‘ یا ''امریکی مداخلت ختم ہونے تک‘‘ بند کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان ایک تجاری جہاز پر وارننگ شاٹ فائر کرنے کے بعد کیا گیا‘ اس کے بعد ایران نے خطے کے ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے بھی بڑھا دیے ہیں۔ اس کے برعکس امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اور صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور بحری ٹریفک جاری ہے‘ امریکہ نے ایران کے دعووں کو ردّکرتے ہوئے مزید حملے بھی کیے ہیں۔ دراصل اس اختلاف کا سبب ''مفاہمتی یادداشت‘‘ کی شِق نمبر5 ہے‘ اس میں لکھا ہے: ''مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران تجارتی جہازوں کوکسی ٹول ٹیکس کے بغیر 60دن تک خلیجِ فارس سے بحرِ عمان تک آمدورفت کیلئے محفوظ گزرگاہ دینے کی خاطر اپنی بہترین کاوشیں کرے گا‘‘۔ پس اس کی تعبیر وتشریح میں امریکہ اور ایران کا اختلاف ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس شِق کی رُو سے آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول تسلیم کر لیا گیا ہے‘ لہٰذا آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت اس کے قائم کردہ نظام کے تابع ہو گی۔ ایران نے یہ اعلان کیا کہ تمام مال بردار بحری جہاز اُس کے متعلقہ نظام کے ساتھ رابطہ کریں گے اور ایران انہیں محفوظ راہداری دے گا‘ اس گزرگاہ کا تعیّن ایران کرے گا اور یہ صرف آبنائے ہرمز کی ایرانی حدود میں ہو گی‘ عمّانی حدود میں نہیں ہو گی۔ بہتر ہوتا کہ ایران کی اس تعبیر وتشریح کو قبول کر لیا جاتا اور دنیا کیلئے مسائل پیدا نہ ہوتے۔ آخر 60 دن ہی کی تو بات ہے‘ تفصیلی مذاکرات میں اس ابہام کو دور کیا جا سکتا تھا۔ مگر امریکہ نے ایران کی اس تشریح کو قبول نہ کیا۔ لہٰذا بعض تجارتی بحری جہاز عمان کی حدود کو استعمال کرنے لگے‘ اولاً ایران نے انہیں خبردار کیا‘ مگر جب انہوں نے ایرانی تنبیہ پر توجہ نہ دی تو ایران نے اُن پر ڈرون یا میزائل داغ دیے۔ اسے امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا اورامریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی صدر کی ہدایت پر ایران پر براہِ راست بمباری شروع کر دی۔
نہر سویز اور نہرِ پانامہ پر ٹول ٹیکس لیا جاتا ہے‘ لیکن آبنائے ہرمز اور ان دو نہروں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ یہ نہریں زرِ کثیر صرف کر کے انسانوں نے بنائی ہیں اور ان کی نگہداشت پر بھی زرِ کثیر صَرف ہوتا ہے‘ کیونکہ تجارتی بحری جہازوں کیلئے گہرائی کو ایک خاص حد تک قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے‘ جبکہ ''آبنائے ملاکا‘‘ اور ''آبنائے ہرمز‘‘ قدرتی بحری گزرگاہیں ہیں‘ یہ انسانوں کی بنائی ہوئی نہیں ہیں۔ لہٰذا آبنائے ہرمز کو نہر سویز یا نہرِ پانامہ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ قیاس کرنے کیلئے مَقیس (Analogized) اور مَقیس علیہ (The Basis for analogy) کے درمیان علّتِ مشترکہ (Common cause) کا ہونا ضروری ہے‘ جبکہ یہاں کوئی علتِ مشترکہ نہیں ہے۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ملکوں کو اپنی سرحدوں سے متصل سمندروں کو اپنی ملکیت یا زیرِ تصرف قرار دینے کیلئے ایک حد 12 ناٹیکل میل یعنی 22 کلومیٹر مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد 12 ناٹیکل میل کی مسافت متصل علاقہ کہلاتا ہے۔ نیز عالمی قوانین کے مطابق اس پر کسٹم‘ امیگریشن اور ٹیکس کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
الغرض یہ دلائل کا ٹکرائو ہے اور ایسا نہیں ہے کہ ایران کے پاس اپنا استحقاق جتانے کیلئے سرے سے کوئی دلیل ہی نہیں ہے۔ اس کے برعکس امریکہ‘ مغربی ممالک بلکہ دنیا بھر کے ممالک اسے آزاد بحری گزرگاہ قرار دینے اور قائم رکھنے پر مُصِر ہیں۔ لہٰذا اس قضیے کا حل آسان نہیں ہے‘ البتہ تفصیلی مذاکرات میں کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے‘ بشرطیکہ فریقین کی نیت صحیح ہو اور انہیں مسائل پیدا کرنے کے بجائے اُن کے حل میں دلچسپی ہو۔ بحیثیتِ قوم امریکہ کی نفسیاتی بیماری یہ ہے کہ وہ ''حق طاقت ہے‘‘ کے اصول کو نہیں‘ بلکہ ''طاقت حق ہے‘‘ کے اصول کو بزورِ قوت منوانے پر تلا بیٹھا ہے اور موجودہ کئی عالمی مسائل کی بنیاد یہی ذہنی ساخت ہے۔ امریکہ دنیا کی قیادت چاہتا ہے اور وہ اس کے استحقاق کیلئے صرف طاقت کو کافی سمجھتا ہے‘ جبکہ قابلِ قبول عالمی قیادت کیلئے طاقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی جواز بھی ہونا چاہیے اور امریکہ اس کا قائل نہیں ہے تاوقتیکہ اس سے برتر کوئی طاقت یا عالمی قوتیں مل کر اس کے مؤقف کے آگے سدِّ راہ نہ بن جائیں۔
چین بلاشبہ دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے اور دوسری بڑی فوجی قوت بننے کے مرحلے میں ہے‘ لیکن تاحال وہ امریکہ کے مساوی مادّی‘ اقتصادی اور حربی قوت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چاہے تو تائیوان کو چند گھنٹوں میں زیر کر دے مگر وہ امریکہ اور مغربی قوتوں سے ٹکرانا نہیں چاہتا‘ لہٰذا وہ حکمت سے کام لیتے ہوئے مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے۔ اسے ہانگ کانگ اور مکائو کے جزیروں کو اپنے زیرِنگیں لانے کیلئے طویل انتظار کرنا پڑا‘ ہانگ کانگ کیلئے تقریباً ایک صدی اور مکائو کیلئے اس سے بھی طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا۔ مگر اُس نے اِس کیلئے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا‘ یہ اس کی دور اندیشی کی دلیل ہے۔ دنیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ امریکہ دور اندیش نہیں ہے‘ بلکہ کوتاہ اندیش ہے اور ہر وقت ہتھیلی پہ سرسوں جمانے کا شوقین اور دعویدار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو ناقابلِ تسخیر یا فوجی اعتبار سے ناقابلِ رسائی سمجھا جاتا تھا‘ لیکن اسرائیل امریکہ کے خلاف حالیہ ایرانی جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ دونوں قوتیں ناقابلِ رسائی نہیں ہیں۔ اگرچہ ایران ان دونوں ممالک کو تاحال کوئی ناقابلِ تلافی یا مُعتَدبہ نقصان نہیں پہنچا سکا‘ لیکن ان کو چھوا ضرور ہے‘ سو ناقابلِ رسائی ہونے کا اَفسوں ٹوٹ گیا ہے۔ ایرانیوں کی پرواز کافی بلند ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا: ''محبت مجھے ان جوانوں سے ہے؍ ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: ''ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں؍ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ٭قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر؍ چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں ٭اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم؍ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں ٭تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا؍ ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں‘‘۔
الغرض بلند ہمتی اور بلند پروازی بجا طور پر قابلِ قدر اور قابلِ تحسین وصف ہے‘ لیکن بلند ہمتی اور بلند پروازی اس حد تک ہونی چاہیے کہ پرواز بھی جاری رہے اور شاہین کواس قدر نقصان بھی نہ ہو کہ گر کر وہ اپناہی خاتمہ کر بیٹھے یا اُس کے ہاتھ سے معاملات کی باگ ڈور نکل جائے۔ حتمی معاہدے کیلئے ''کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کی صلاحیت باقی رہنی چاہیے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ایران ایسے اقدامات نہ کرے کہ پوری دنیا اُس کی مخالف ہو جائے‘ پڑوسی خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے تعلقات استوار نہیں ہیں‘ بلکہ ایک طرح سے خوف پر مبنی ہیں‘ پس لازم ہے کہ ''جیو اور جینے دو‘‘ کی کوئی صورت پیدا ہو اور پُرامن بقائے باہمی کا کوئی راستہ نکل آئے۔ کوئی بعید نہیں کہ یہ ممالک اس کے عوض مشکل دورسے نکلنے تک ایرانی معیشت کو سہارا دینے پر بھی آمادہ ہو جائیں۔،
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved