مجھے پارلیمنٹ کی کوریج کرتے چوبیس سال ہوگئے ہیں‘ 2002ء کے بعد میں نے تقریباً ہر پارلیمنٹ میں ایک بات مشترک دیکھی ہے۔ وہاں بیٹھے ارکان یا ان کے لیڈران میں سے کوئی نہ کوئی اس ایوان پر لعنتیں بھیج رہا ہوتا ہے یا اسے برا بھلا کہہ رہا ہوتا ہے۔ جو اس کے ممبر منتخب ہوتے ہیں‘ وہی اس پارلیمنٹ کی حیثیت اور اعلیٰ اخلاقی جواز کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں۔ ابھی مولانا فضل الرحمن کی بات سے یاد آیا کہ ہر دور میں یہ سب اپنے سیاسی گھر کو برا بھلا کہنے سے نہیں چوکتے۔ مولانا صاحب نے کہا ہے کہ ہم اس پارلیمنٹ کو ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عمران خان جب دھرنا دے کر بیٹھے تھے تو وہ روز پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے تھے۔ شیخ رشید کا دل کرتا تھا کہ وہ اس کو آگ لگا دیں‘ سب کچھ جلا دیں۔ آج کل وہی شیخ رشید گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ لوگ اور میڈیا والے مجھے بھول گئے ہیں‘ کوئی ملنے نہیں آتا۔ ان کی اس بات سے مجھے بھارتی سپر سٹار راجیش کھنہ یاد آتے ہیں‘ 2012ء میں جن کی موت پر ان کے دوست کا کہنا تھا کہ اپنی جوانی میں راجیش کو یقین تھا کہ نہ وہ بوڑھا ہو گا نہ ہی اسے موت آئے گی کہ اس کا سٹارڈم ہی اتنا بڑا تھا کہ اسے لگتا تھا اپُن ہی بھگوان ہے مگر پھر امتیابھ بچن اور ونود کھنہ کے عروج نے راجیش کھنہ کو گہنا دیا۔ بعد میں شیخ رشید کی طرح‘ ان سے بھی کوئی ملنے نہیں جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ تنہائی اور ڈپریشن کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ایک دور تھا کہ بقول مشہور وِلن رضا مراد‘ بالی وُڈ میں کہا جاتا تھا ''اوپر آقا، نیچے کاکا‘‘ اور پھر وہی کاکا تنہائی میں اس دنیا سے گیا۔ آپ کہیں گے کہ بات کہاں سے کہاں چلی گئی لیکن کیا کریں کہ اپنے اپنے وقت پر سب کو یہ لگتا ہے کہ وہی اس دنیا کو چلاتے ہیں‘ وہی اَن داتا ہیں‘ ان کے لفظوں اور رویوں میں راجیش کھنہ والی جھلک آتی ہے کہ ان پر زوال نہیں آئے گا۔ اب ذرا مولانا صاحب کا بیان سنیں کہ میں اس پارلیمنٹ کو اپنی ٹھوکر پہ رکھتا ہوں۔ بہت سارے لوگ کہیں کہ یہ دھاندلی زدہ پارلیمنٹ ہے‘ فارم سینتالیس والے ارکان بیٹھے ہیں‘ اس پارلیمنٹ کا کیا تقدس اور کیا احترام۔ مان لیا کہ ایسا ہی ہوگا لیکن پھر آپ اس پارلیمنٹ کا حصہ کیوں ہیں جو جعلی مینڈیٹ سے بنی ہے اور آپ کے بقول‘ وزیراعظم کا مینڈیٹ بھی مشکوک ہے۔ مان لیا کہ مولانا صاحب ایک اصولی بات کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنی قدر کھو چکی ہے لہٰذا اس کی کیا حیثیت‘ لیکن پھر سیاسی اور انسانی اخلاقیات کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور مولانا صاحب کو ان پر زیادہ عمل پیرا ہونا چاہیے کہ وہ ایک بڑی مذہبی شخصیت بھی ہیں بلکہ ان کا سارا ووٹ بینک مذہبی ہے۔ ایک عام سیاستدان اور ایک مذہبی رہنما میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے اور وہ الگ لگنا اور بہتر نظر آنا چاہیے۔
مولانا صاحب کے پاس ایک بڑا موقع تھا کہ وہ اپنا اور اپنی پارٹی کا جھنڈا سیاسی واخلاقی طور پر بلند کرتے لیکن اس کو بھی انہوں نے سیاسی موقع جانا‘ نہ کہ اپنی اور پارٹی کی ساکھ کو بہتر کرنے کا موقع۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ مثال قائم کرتے اور ثابت کرتے کہ جو کام شہباز شریف یا آصف زرداری کرتے ہیں وہ کام ایک مذہبی لیڈر نہیں کرتا‘ چاہے وہ سیاستدان ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے عمل سے بتاتے کہ یہی فرق ہوتا ہے جب کوئی مذہبی لیڈر سیاست میں آتا ہے تو اخلاقی‘ سیاسی اور ذاتی اخلاقیات کے لحاظ سے وہ دنیاوی فوائد کے شکار سیاستدانوں سے بہتر ہوتا ہے۔ مذہبی جماعت اپنا سیاسی نقصان کر لے گی لیکن وہ ایسا مفاد نہیں لے گی جو ناجائز ہو۔ لیکن مولانا صاحب اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ موقع تھا جب پی ٹی آئی کی خواتین کی مخصوص سیٹیں چھین کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو دی گئیں۔ اس وقت مولانا کی پارٹی نے بھی پی ٹی آئی کی خواتین کی سیٹوں پر ہاتھ اسی طرح صاف کیا جیسے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے۔ پی ٹی آئی کو وہ سیٹیں نہ دینے کی وجہ تکنیکی تھی مگر پھر سوال یہ ہے کہ اگر وہ سیٹیں عمران خان کی پارٹی کو کچھ لیگل ایشوز سے نہیں مل رہی تھیں تو پھر نواز شریف یا زرداری صاحب کی پارٹی کا ان پر کیا حق بنتا تھا؟ سب توقع کر رہے تھے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی والے کہیں گے کہ یہ سیٹیں ہمارے ووٹوں کے بدلے نہیں‘ ہم اپنا کوٹہ لے چکے‘ اگر لیگل ایشوز کی وجہ سے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو نہیں دے رہے تو ہمیں بھی مت دیں‘ ان سیٹوں کو خالی رہنے دیں۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے کہ جو چیز ہماری ہے ہی نہیں‘ ہم وہ کیسے لے لیں۔ یہ تو ایسے ہی تھا کہ کسی کا بٹوہ سڑک پر گرا ہوا آپ کو ملے تو آپ اسے اپنی ملکیت قرار دے کر جیب میں ڈال لیں اور یہ جواز پیش کریں کہ میں نے کسی کی جیب تو نہیں کاٹی‘ نہ کوئی چوری کی ہے۔ یہ سڑک پر گرا پڑا ملا تھا‘ میری قسمت کہ میں اس وقت اس طرف سے گزرا تو مجھے نظر آ گیا۔ جو باکردار ہوتے ہیں وہ بٹوے کے مالک کو تلاش کرتے ہیں یا پھر تھانے میں جمع کرا دیتے ہیں کہ کوئی رپٹ لکھوانے آئے تو اسے دے دیں۔ پی ٹی آئی کی مخصوص سیٹوں پر یہی کیا گیا کہ ان تینوں جماعتوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سے سیٹیں مانگی تو نہیں‘ اگر الیکشن کمیشن نے ہمیں الاٹ کر دی ہیں تو ہمارا کیا قصور ہے۔ یہ وہی سڑک پر گرے بٹوے والا معاملہ تھا کہ ہماری قسمت تھی ہمیں مل گیا‘ لہٰذا اب یہ ہمارا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سیاسی بدنیتی سمجھ آتی ہے لیکن مولانا صاحب نے یہ کام کیوں کیا؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی‘ مائنڈ سیٹ ایک ہی ہے کہ سڑک پر گرا بٹوہ ہمارا ہے اور ہم اسے اپنی جیب میں ڈالیں گے۔
اب مولانا صاحب اسی پارلیمنٹ پر برس رہے ہیں جہاں وہ 1988ء سے رکن بن کر آ رہے ہیں۔ اس پارلیمنٹ نے انہیں عزت دی‘ نام دیا‘ پروٹوکول دیا۔ کیا کچھ نہیں دیا؟ آج وہ کہتے ہیں وہ اسے اپنی ٹھوکر پہ رکھتے ہیں۔ یہی پارلیمنٹ انہیں ہر ماہ سات آٹھ لاکھ روپے تنخواہ دیتی ہے‘ سیشن الائونس الگ ملتا ہے‘ بلیو بلکہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ پوری فیملی کو ملتا ہے‘ گاڑیاں الگ‘ دنیا بھر کے دورے‘ ٹی اے ڈی اے... کیا یہ سب مالی فوائد‘ تنخواہیں اور مراعات بھی ٹھوکر پہ ہیں؟ مجھے ایک افسوس رہا کہ ڈکٹیٹر پارلیمنٹ کی بے توقیری ایک دفعہ کرتے ہیں جب وہ پارلیمنٹ توڑ کر خود حکومت شروع کر دیتے ہیں۔ وزیراعظم‘ کابینہ اور پارلیمنٹ سب کچھ ختم۔ لیکن سیاستدان جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر‘ دونوں جگہ ہیں‘ ہر روز اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کرتے پائے جاتے ہیں‘ جب وہ ایک ایک سال پارلیمنٹ کے اجلاس میں نہیں جاتے۔ انہیں پارلیمنٹ صرف اس وقت اچھی لگتی ہے جب خود وزیراعظم بن جائیں۔ اگر وہ وزیراعظم نہیں تو پھر پارلیمنٹ پر تبرہ پڑھیں گے‘ اس کو برا بھلا کہیں گے‘ یا ٹھوکر پر رکھنے جیسے بیانات دیں گے۔ جب یہ لوگ خود اپنے سیاسی گھر کی عزت نہیں کرتے اور اسے مقدس نہیں مانتے تو پھر باقی کیونکر اس کی عزت کریں گے یا اس کو مقدس جانیں گے؟ اگر کوئی آپ کے گھر یا گھر کے مکینوں کو گالی دے یا نقصان پہنچائے تو آپ برداشت کریں گے؟ یہ پارلیمنٹ آپ کا سیاسی گھر ہے۔ یہ بھی آپ کی فیملی کی طرح ہے‘ جس کا تقدس آپ پر فرض ہے۔ یہی وہ ایوان ہے جہاں سے آپ ہر ماہ لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں‘ جہاں سے آپ نے بیوی بچوں سمیت تاحیات بلیو پاسپورٹس لے رکھے ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں آپ کے پاس سبز نہیں بلکہ بلیو پاسپورٹ ہے کیونکہ سبز پاسپورٹ کی ساکھ خراب ہے لہٰذا آپ کو پارلیمنٹ کا ممبر ہونے کے ناتے پورے خاندان سمیت بلیو پاسپورٹ درکار ہے۔ پاسپورٹس‘ تنخواہوں‘ ترقیاتی فنڈز اور دنیا بھر کے سیر سپاٹوں کیلئے پارلیمنٹ بہت اچھی ہے ورنہ تو اسے اپنی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ لیکن سب اتنے سیانے ضرور ہیں کہ وہ صرف پارلیمنٹ کو ٹھوکر پر رکھتے ہیں‘ اس سے جڑی اپنی اور خاندان کی بے تحاشا مراعات کو کوئی ٹھوکر نہیں مارتا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved