تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     17-07-2026

ایران امریکہ ایم او یو ختم؟

ایران اور امریکہ کے مابین فریم ورک معاہدے پر فریقین کے دستخط کو ابھی ایک ماہ کا بھی عرصہ نہیں ہوا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے۔ آبنائے ہرمز کے ساتھ ملنے والے ایرانی ساحل پر واقع ایران کی دفاعی تنصیبات اور بندرگاہوں پر امریکی حملوں کا سلسلہ سات اور آٹھ جولائی کو شروع ہوا تھا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ حملے ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں متبادل راستہ اختیار کرنے پر دو جہازوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں شروع کیے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق 80 ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مگر تازہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکہ نے ایران کے وسطی اور شمالی حصوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کے نشریاتی ادارے سی این این نے امریکہ کے دفاعی حلقوں کے حوالے سے یہ خبر بھی دی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملوں کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ایک امریکی اخبار نے امریکی دفاعی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیروں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کی عسکری قوت کو کمزور کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں سے تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکر آزادانہ طور پر گزر سکیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو بین الاقوامی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی جو اجازت دی تھی‘ وہ بھی واپس لے لی ہے اور اس کے ساتھ ایران کی بحری ناکہ بندی کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ 17 جون کو ایران اور امریکہ نے جس ایم او یو پر دستخط کیے تھے وہ عملاً اب معطل ہو چکا ہے۔ ایران کی طرف سے بھی یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ان اقدامات سے ایم او یو غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات سے بھی یہ تاثر جاتا ہے کہ ایم او یو ختم ہو چکا ہے کیونکہ اب صدر ٹرمپ صرف آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور بلا روک ٹوک جہاز رانی کی حمایت نہیں کرتے بلکہ ایران کے ساتھ ایک نئی ڈیل کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ جس پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے ایران کو اسی طرز کی دھمکی دی ہے جو انہوں نے اپریل میں جنگ بندی سے پہلے دی تھی۔ یعنی ایران کے تمام پلوں‘ ریلوے نیٹ ورکس اور پاور پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس تناظر میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد جاری رہنا چاہیے۔ پاکستان مسائل کے حل کیلئے مذاکرات پریقین رکھتا ہے‘ ایران امریکا تنازع کسی کے مفاد میں نہیں‘پاکستان آبنائے ہرمزسے تجارت اورتیل کی بہ آسانی ترسیل پریقین رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ جون میں ایران اور امریکہ کے مابین طے پا جانے والے ایم او یو کو سوائے اسرائیل کے‘ باقی ساری دنیا میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔ ان میں امریکہ کے اتحادی نیٹو کے رکن ممالک بھی شامل تھے۔ خود صدر ٹرمپ نے ان الفاظ میں ایم او یو کا دفاع اور تعریف کی تھی: ''ایم او یو کے تحت امریکہ نے وہ تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں جو وہ ایران کے ساتھ جنگ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا تھا‘‘۔ یعنی ایران کے ساتھ تنازع کا خاتمہ‘ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور اس بات کی ضمانت لینا کہ ایران کبھی ایک ایٹمی طاقت نہیں بنے گا۔ مگر 8 جولائی کو ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ''ایم او یو کی اب کوئی حقیقت نہیں رہی‘ امریکہ ایران کے ساتھ اپنی شرائط پر نئی ڈیل چاہتا ہے اور اگر اس نے ایک ہفتے تک اس پر آمادگی ظاہر نہ کی تو اس کے مواصلاتی نظام کے علاوہ توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا‘‘۔ گزشتہ تیرہ ماہ کے دوران امریکی صدر کی جانب سے ایران سے متعلق اپنے ہی بیانات سے مکرنے کی یہ تیسری بڑی مثال ہے۔ پہلی مثال گزشتہ سال جون میں امریکہ کے بھاری بمبار بی ٹو طیاروں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ تھا‘ حالانکہ اس وقت جنیوا میں ایران اور امریک کے مندوبین بات چیت میں مصروف تھے۔ اس موقع پر چین کی طرف سے کہا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران پر یہ حملہ کرکے بین الاقوامی سیاست میں اپنی ساکھ ختم کر دی ہے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسرا واقعہ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ ہے۔ اس حملے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے۔ پاکستان اور دیگر ملکوں کی کوششوں سے فریقین کیلئے قابلِ قبول ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا۔ اس پر عملدرآمد کی خاطر 60 دن کا ایک شیڈول بنایا گیا لیکن ابھی تین ہفتے بھی نہیں ہوئے تھے کہ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا‘ جو ٹرمپ کے اپنے بیان کے مطابق پچھلے حملوں سے زیادہ سخت ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے میں امریکی حملوں کے نتیجے میں دفاعی تنصیبات کی تباہی کے علاوہ ایران میں جانی نقصان بھی ہوا ہے‘ لیکن ان حملوں سے امریکہ بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی کسی بات یا وعدے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی طاقت اور فوج کے بل بوتے پر امریکہ ایران کو ناقابلِ تصور نقصان پہنچا سکتا ہے‘ مگر اخلاقی طور پر صدر ٹرمپ شکست کھا چکے ہیں۔ اب کوئی بھی ملک امریکی صدر کی بات پر اعتبار نہیں کرے گا۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اس کے مفادات صرف مشرقِ وسطیٰ یا خلیج فارس ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایران واحد ملک نہیں جس کے ساتھ امریکہ کو ڈیل کرنا پڑ رہی ہے۔ دنیا کے ہر خطے کے ممالک کو امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتی ہے‘ مگر ایسا کرتے وقت ان کے ذہن میں صدر ٹرمپ کی شخصیت کی وہ خصوصیات ضرور ہوں گی جن کا مظاہرہ انہوں نے ایران کے حوالے سے کیا ہے۔ دنیا ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے خود ایم او یو کو اپنی فتح قرار دیا تھا تو پھر اس پر عملدرآمد کیلئے طے شدہ شیڈول فقط ایک میٹنگ سے آگے کیوں نہیں بڑھ سکا؟
امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کے نئے سلسلے نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں بہت خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے الٹی میٹم پر عملدرآمد کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ اب یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ وسیع کیا اور زمینی فوجیں داخل کر دیں تو جنگ خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کا پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا کیونکہ یمن میں ایران کے حامی حوثی قبائل بھی حرکت میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ حملہ کیا ہے۔ ادھر عراق میں ایران کے حامی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ ''اگر ایران کے خلاف امریکہ نے جنگ کا دائرہ وسیع کیا تو وہ فوری طور پر اس میں شامل ہو کر ایران کا ساتھ دیں گے‘‘۔ ایران نے امریکہ کے تازہ ترین حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرکے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس سے تیل اور گیس کی سپلائی بند کر دی ہے۔ اگر امریکی حملوں میں تیزی آئی تو یمن کے حوثی بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کو ملانے والی آبی گزرگاہ باب المندب کو تجارتی جہازوں کے لیے بند کر سکتے ہیں۔ اس سے عالمی معیشت اور خصوصاً ان ملکوں پر‘ جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بیشتر حصہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس سے برآمد کرتے ہیں‘ بری طرح اثر پڑے گا اور دنیا پہلے کے مقابلے میں کہیں بڑے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved