صاحب کی گاڑی لگا دی جائے۔ صاحب کی گاڑی لگ گئی ہے۔ صاحب گھر سے دفتر کیلئے روانہ ہونے والے ہیں۔ صاحب دفتر کیلئے نکل پڑے ہیں۔ صاحب آنے والے ہیں اور صاحب جانے والے ہیں۔ صاحب آگئے ہیں اور صاحب چلے گئے ہیں۔ ان آنیوں جانیوں کے انداز و اطوار میں طاقت و اختیار کے راز پنہاں ہیں۔ وطنِ عزیز میں افسرانِ بالا اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کیلئے پروٹوکول ایک نشہ بھی ہے اور طاقت و اقتدار کا استعارہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر خاص و عام میں پروٹوکول کی خواہش یکساں طور پر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ایک عام آدمی بھی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنا بجلی کا بل بینک میں جمع کرانے کیلئے کھڑکی کے سامنے قطار میں کھڑا ہونے کے بجائے اندر منیجر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے منیجر صاحب کے توسط سے جمع کرائے اور وہیں بیٹھے ہوئے ادائیگی کی رسید اُس کے حوالے کر دی جائے۔ اسی طرح وکلا‘ تاجر اور کئی دیگر طبقات بھی اپنی گاڑیوں پر مخصوص طرز کی نمبر پلیٹ لگاتے ہیں جس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ جیسے وہ گاڑی کسی بڑی سرکاری شخصیت کے زیرِ استعمال ہے۔ ذاتی گاڑی پر سبز نمبر پلیٹ اور نیلی بتی کا استعمال عام بات ہے۔ بعض اوقات موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر مختلف اقسام کے سرکاری اور ذاتی حوالے درج کروا کر خود کو عوام سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف سرکاری طور پر پروٹوکول کا ایک طے شدہ نظام موجود ہے۔ سرکاری گاڑی کے آگے پیچھے سائرن‘ روڈ بند اور پولیس کے چاق وچوبند مسلح گارڈز‘ یہ تمام مناظر ہر بڑے شہر کے سرکاری دفاتر میں عام ہیں۔ اس کی چند بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے اولین وجہ نو آبادیاتی ورثہ ہے جہاں صاحب بہادر کلچر رائج تھا۔ انگریز دور میں ڈپٹی کمشنر‘ کمشنر اور گورنر کو صاحب اور لاٹ صاحب کہا جاتا تھا۔ ان بڑے عہدوں پر فائز صاحبانِ جاہ و حشمت کیلئے بڑی بڑی محلات نما رہائش گاہیں اور عالیشان دفاتر قائم کیے گئے تھے تاکہ محکوم عوام پر ان کا رعب و دبدبہ قائم کیا جا سکے اور انہیں کنٹرول کرنا آسان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی ان صاحبان کے دفتر اور سرکاری رہائش گاہ کے قریب سے بھی نہیں گزرتا تھا اور سرکاری گاڑی دیکھ کر سڑک سے دور ہٹ جاتا تھا۔ آزادی کے بعد پاکستان میں استعمار کا نظام تو بدل دیا گیا لیکن ہمارے سرکاری امور سے وابستہ صاحبان کا طرزِ عمل بدلا نہ ہی ذہن تبدیل ہوا۔ اشرافیہ اور عوام کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی جس کے نتیجے میں آج بھی افسرانِ بالا خود کو رعایا سے اوپر سمجھتے ہیں اور عوام بھی انہیں خود سے برتر سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری پروٹوکول کی دوسری بڑی وجہ سکیورٹی کے خطرات اور تحفظ کے مسائل ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملے بہت بڑھ گئے ہیں جس کے نتیجے میں کارِ سرکار سے منسلک تمام اہم اداروں اور ان میں تعینات افسران میں سرکاری گاڑیوں‘ ڈالا کلچر اور مسلح گارڈز کی مانگ بڑھ گئی۔ یہ الگ بات کہ اصل میں خطرہ صرف پانچ فیصد لوگوں کو ہے مگر 95 فیصد دیگر افسران بھی پروٹوکول کی دوڑ میں شامل ہیں کیونکہ یہ سب کچھ سٹیٹس کی علامت بن چکا ہے۔
پاکستان میں اب طاقت کا معیار گاڑی کا حجم اور مسلح گارڈز کی تعداد ہے۔ روٹ لگوا کر روڈ بند کرانا پروٹوکول کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ اس کے برعکس مغربی ممالک میں پروٹوکول کا رواج نہیں اور قانون کی عملداری سب کیلئے یکساں ہے۔ ان معاشروں میں سرکاری عہدیداروں میں خود احتسابی کا عنصر نمایاں ہے۔ عوامی سطح پر شعور زیادہ پختہ ہونے کی وجہ سے عوام کے سامنے جوابدہی بھی خاصی سخت ہے۔ اس کے نتیجے میں وہاں سرکاری وسائل کا استعمال بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے اور کفایت شعاری کو عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزرا سمیت تمام بڑے عہدوں پر فائز افراد پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ برطانیہ کا وزیراعظم پارلیمنٹ کی کینٹین سے اپنا برگر خود خریدتا نظر آتا ہے تو نیدرلینڈز کا وزیراعظم سائیکل پر سوار ہو کر دفتر جانا پسند کرتا ہے۔ ان معاشروں میں کوئی بڑا افسر یا وزیر اگر ٹریفک سگنل توڑے تو حسبِ ضابطہ قانون حرکت میں آتا ہے اور بلا تفریق و امتیاز جرمانہ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان میں سبھی پروٹوکول پسند کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں کسی بڑی شخصیت یا وزیر کی آمد کا اعلان اور استقبال کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ پہلے سے قطار بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دفتر میں بڑے صاحب کے تشریف لانے پر ہر خاص و عام کا کھڑے ہونا لازم ہے۔ بلکہ صاحب کی گاڑی ان کی رہائش گاہ سے دفتر کیلئے روانہ ہو تو دفتر کے طول و عرض میں بڑے صاحب کی آمد کا بگل بجا دیا جاتا ہے۔ دفتر کے مرکزی دروازے سے لے کر داخلی راستوں اور راہداریوں پر عام آدمی کی نقل و حرکت روک دی جاتی ہے اور جب تک صاحب بہادر اپنے دفتر میں کرسی پر براجمان نہ ہو جائیں تب تک دفتر میں نیم کرفیو نافذ رکھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں پروٹوکول ضرورت سے زیادہ نفسیات کا مسئلہ ہے۔ یہاں افسر طاقت دکھانا چاہتا ہے‘ اور عوام طاقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی بڑا افسر یا وزیر سائیکل پر سوار ہو کر دفتر کیلئے روانہ ہو تو لوگوں کی اکثریت اسے عجیب نظروں سے دیکھے گی بلکہ شاید اسے فاتر العقل شخص قرار دے دیا جائے۔ پروٹوکول کی یہ لت اب سرکاری اداروں اور افسران سے نکل کر نجی شعبے سے وابستہ افراد تک پہنچ چکی ہے بلکہ اب تو ہر دولتمند تاجر اور کاروباری شخصیت نے اپنی مہنگی گاڑی کے آگے پیچھے ڈالے اور ذاتی مسلح گارڈز کی ایک بٹالین رکھی ہوتی ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر سماجی اجتماعات میں بڑی بڑی گاڑیوں سے اترنے والے حضرات جب پنڈال میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے ذاتی محافظوں نے انہیں اپنے حصار میں لے رکھا ہوتا ہے۔ یہ ڈھونگ رچانے کا مقصد کسی خطرے سے نمٹنا نہیں بلکہ دوسروں پر اپنی طاقت‘ دولت اور سماجی حیثیت کا رعب طاری کرنا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کا شوق بھی پروٹوکول کے حصول میں شدت لایا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بیرونِ ممالک سے پاکستان آنے والے افراد میں پروٹوکول کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ اب ذاتی خرچ پر بھی پروٹوکول کا پورا نظام کرائے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ آئے روز مختلف ائیرپورٹس پر دیکھنے کو ملتا ہے جو سوشل میڈیا کی زینت بن جاتا ہے۔ بیرونِ ممالک سے وطن واپسی سے چند روز قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ ایئرپورٹ پر پھولوں کے گلدستے کون پیش کرے گا اور گل پاشی پر مامور افراد کی تعداد کتنی ہو گی۔ مزید برآں ایئرپورٹ سے گھر تک کا سفر مجموعی طور پر کتنی گاڑیوں اور کتنے مسلح گارڈز کے ساتھ طے کیا جائے گا۔ اب یہ اصول وضع کر لیا گیا ہے کہ انسان کی قدر اس کے کردار اور شخصیت سے نہیں بلکہ اس کی ظاہری بود و باش اور پروٹوکول سے ہو گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اکثر پروٹوکول کا پورا پیکیج چند گھنٹوں کے رعب و دبدبے کی نمائش کیلئے لیا جاتا ہے۔ طے شدہ پروگرام کے تحت گاڑیوں کا قافلہ ایئرپورٹ پہنچتا ہے‘ جہاں دروازے کھولنے کیلئے مسلح گارڈز بھی موجود ہوتے ہیں۔ متذکرہ شخصیت کے استقبال پر گل پاشی شروع ہو جاتی ہے‘ تصاویر بنانے کیلئے موبائل کیمرے حرکت میں آتے ہیں اور قافلہ پورے جاہ و جلال سے گھر کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر دوبارہ تصاویر بنتی ہیں اور گاڑیوں سے مسافر کا سامان نکال کر متعلقہ کمپنی کو پروٹوکول کے تمام پیکیج کی ادائیگی کر دی جاتی ہے اور یوں کرائے پر حاصل کیا گیا سارا پروٹوکول پل بھر میں ختم ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ وی آئی پی دوبارہ عام آدمی بن کر عوام میں گھل مل جاتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved