تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     17-07-2026

اے پُتّر ہٹّاں تے نئیں وکدے…

ستمبر 1965ء کے دن بھی کیا یادگار دن تھے۔ میری عمر تب چھ سات سال تھی۔ انڈیا کے خلاف افواجِ پاکستان کے ساتھ ساری قوم یکجہت اور یک رنگ تھی۔ میجر عزیز بھٹی کی شہادت کا نرالا رنگ زباں زدِ عام تھا۔ چونڈہ کے مقام پر دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ کی گھن گرج تھی۔ شیر دل جوانوں کی قربانیوں سے فتح ان کے سنگ تھی۔ لاہور ریڈیو سے ایک ترانہ بار بار کانوں میں رَس گھولتا تھا: ''اے پُتّر ہٹّاں تے نئیں وکدے، کی لبھنی ایں وچ بازار کُڑے‘‘۔ اردو میں اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ مائوں کے یہ شیر دل جگر گوشے جو ''لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی اساس کے حامل پاک وطن کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں‘ ان کی قیمت منڈیوں اور بازاروں میں نہیں لگ سکتی۔ اور تم لوگ ان کی قیمت کرنسی کے کاغذوں پر لگا رہے ہو؟ تعجب ہے ایسی سوچ پر۔ قارئین کرام! صوفی تبسم کو اللہ تعالیٰ فردوس میں مسکراہٹ عطا فرمائے۔ ان کے قلم سے ایسے الفاظ رقم ہوئے کہ وہ جواب ہیں ہر ایسی سوچ کا... جی ہاں! ساٹھ سال بعد بھی ہر اُس فکر اور اپروچ کا‘ جو شہدا کے پاکیزہ خون کو بازار کے کاغذی پُرزوں کے ساتھ میزان میں رکھے۔ لوگو! ذہن میں بٹھا لو۔ شہیدوں کے خون کا خریدار خود خالق کائنات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ ہو بھی کیسے؟ کوئی قیمت دے ہی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں کا کاروبار میں نے کیا ہے۔ سورۃ التوبہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہلِ ایمان سے ان کی جانیں بھی‘ اور ان کے مال بھی‘ اس قیمت پر کہ ان کیلئے جنت ہے۔ وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں‘ پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں‘ یہ وعدہ اللہ کے ذمہ ہے سچا تورات‘ انجیل اور قرآن میں‘ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ؟ پس خوشیاں مناؤ اپنی اس تجارت پر جس کا سودا تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہی ہے بڑی کامیابی‘‘ (آیت: 111)۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ''فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْن‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ اب ذرا حدیبیہ کا منظر ذہن میں لائیں۔ قرآن مجید کی ''سورۃ الفتح‘‘ کو سامنے رکھیں۔ مولا کریم آگاہ کرتے ہیں: ''(میرے رسولﷺ) کوئی شک و شبہے میں نہ رہے۔ وہ افراد جو آپ (کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر) اپنی قیمت لگوا رہے تھے تو وہ اللہ سے کاروبار کر رہے تھے‘‘۔ جی ہاں! بات واضح ہو گئی قیمت اللہ لگاتا ہے۔ مگر قیمت لگتی اُس کی ہے جو حضورﷺ کے راستے پر لڑتا ہے۔ اپنے وطن کے باسیوں کی عزت‘ ان کے مال اور جان کی حفاظت کیلئے لڑتا ہے۔ ایمان‘ تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر لڑتا ہے۔ اپنی بٹالین کا نام ''فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْن‘‘ رکھتا ہے۔ ان کے گھوڑوں کے ٹاپوں سے جو دھول اٹھتی ہے‘ اللہ کریم ''العادیات‘‘ میں اس کی قسم اٹھاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حق کی خاطر ان کے جو قدم اٹھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی اہمیت وعظمت کا احساس و ادراک کراتے ہیں۔
ایک دن احباب کی مجلس میں موجود تھا۔ پاک فضائیہ کے ایک ٹیکنیشن بھی وہاں موجود تھے۔ پاک فضائیہ کے ایک شیر دل پائلٹ کا واقعہ سناتے ہوئے بتانے لگے: پائلٹ جب جہاز کو فضا سے رَن وے پر اتارنے لگا تو اس کے پچھلے حصے میں آگ لگ گئی۔ اسے صورتحال بتائی گئی کہ وہ جمپ لگا دیں مگر پائلٹ کی کوشش یہ تھی کہ پاک وطن کا انتہائی قیمتی طیارہ کسی طرح بچ جائے۔ وہ رَن وے کے قریب تھا مگر جب تک طیارہ رَن وے پر رکا تب تک دروازہ کھلنے کا آٹو میٹک سسٹم آگ کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا تھا۔ طیارہ لینڈ کرتے ہی ہم آگ بجھانے لگ گئے مگر ایک ماں کا لخت جگر‘ باپ کا جگر پارہ‘ بچوں کا باپ‘ ایک خاتون کے دل کا راج‘ ملک کا ایک طیارہ بچاتے بچاتے شہید ہو گیا۔ ہم سب اہلِ مجلس کی آنکھوں میں ایسے عظیم سپوتوں کیلئے عقیدت و محبت کے پانیوں کی تیرگی تھی۔ زبان پر خراجِ تحسین کی تنویر تھی۔ اسی طرح راشد منہاس کی عظمت کو سلام کہ اس نے پاکستان کا طیارہ بھارت نہیں جانے دیا اور غدار انسٹرکٹر پائلٹ سے لڑ کر‘ اس طیارے کو پاک وطن کی پاک سرزمین پر گرا کر اہلِ پاکستان کی عزت وآبرو کو اوجِ ثریا کے عروج سے ہمکنار کر دیا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم کے کلام کو نور جہاں مرحومہ کے بول نے کیا دوام بخشا ''اے پُتّر ہٹاں تے نئیں وکدے، کی لبھنی ایں وچ بازار کُڑے‘‘۔ مجھے یاد آیا! میرے ابا جی حضرت مولانا نذیر احمدؒ نے خطبہ جمعہ میں شہدا کی یادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ بالا پنجابی شعر پڑھا۔ آج ہو سکتا ہے کہ فتوے لگنا شروع ہو جائیں مگر تب برداشت تھی‘ سینے فراخ تھے‘ تنگ نظری سے وہ معاشرہ آزاد تھا۔ نور جہاں اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو 23 دسمبر 2000ء کا دن تھا۔ رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ تھی۔ اللہ ہی اپنی مہربانیاں جانے کہ وہ کہاں کہاں کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے؟
آج سے کوئی پچیس‘ ستائیس سال پہلے کی بات ہے۔ لاہور میں آرمی کی ہائوسنگ سکیم میں تین تین منزلہ اپارٹمنٹ تھے۔ میں نے کرائے پر ایک اپارٹمنٹ لیا۔ یہاں پر شہدا کی فیملیز بھی رہتی تھیں۔ ان میں ایک فیملی میجر سبکتگین شہید کی تھی۔ وہ سیاچن میں شہید ہوئے تھے۔ لڑائی جاری تھی‘ فائرنگ ہو رہی تھی۔ کہا گیا کہ فائرنگ ذرا رک لینے دیں مگر وہ اپنی منزل پر جا کر پوزیشن لینا چاہتے تھے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر شوقِ شہادت لیے وہ بڑھتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت عطا فرما دی۔ شادی کو پانچ سال ہوئے تھے‘ چار بیٹیاں اللہ نے دیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی پانچ ماہ کی تھی۔ میجر شہید کی بیوہ اور ہم لوگ پڑوسی تھے۔ محترمہ ریحانہ کے ساتھ میری اہلیہ بشریٰ کی دوستی ہو گئی۔ میرے دو بیٹے ان کے پاس پڑھنے جاتے تھے۔ محترمہ ریحانہ نے اپنے شہید شوہر کے بوٹ دروازے پر رکھے ہوتے تھے۔ وہ روز جوتے پالش کرکے یہاں رکھ دیتیں اور ننھی بچیوں کو حوصلہ دے کر کہتیں کہ ان کے شوہر کے شوز موجود ہیں‘ وہ اللہ سے ملنے گئے ہیں۔ بس ملاقات لمبی ہو گئی ہے‘ صبر کرو۔ محترمہ ریحانہ صحافی تھیں۔ ریڈیو اور ٹی وی پر ان کی معاشرتی تحریریں ڈرامے بن کر چلتے تھے۔ میری اہلیہ بھی صحافت کرتی تھیں‘ انہوں نے میجر صاحب پر ایک کالم بھی لکھا۔ آج کالم لکھنے سے قبل ہم میاں بیوی نے ریحانہ باجی سے رابطہ کیا۔ کہنے لگیں: جب سے میں نے 'شہدا اور منڈی کی کرنسی‘ کی بات سنی ہے دل زخمی ہے‘ آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اپنی جوانی کی حفاظت کی۔ پھر بچیوں کی جوانیوں کی حفاظت کی‘ ان کو پڑھایا لکھایا‘ چاروں کو ڈاکٹر بنایا۔ بڑی بیٹی لیفٹیننٹ کرنل ہے۔ دوسری گائناکالوجسٹ ہے۔ ایک چائلڈ سپیشلسٹ ہے۔ چوتھی بھی اپنے شعبے کی ماہر ہے۔ سب کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ چاروں ملک وقوم کی خدمت کر رہی ہیں۔ میرا پیغام یہ ہے کہ شہدا کی عزت کو ہاتھ سے جانے نہ دیں‘ سچے مسلمان اور پاکستانی بنیں۔
محترمہ ریحانہ باجی‘ جو اَب بزرگی کی عمر میں ہیں‘ بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں ہیں‘ ایسے حالات میں یقینا شوہر بھی یاد آتے ہیں کہ بڑھاپا ایک دوسرے کا سہارا ہوتا ہے۔ بیٹا بھی کوئی نہیں کہ بیٹا ہو تو گھر آباد رہتا ہے۔ انہوں نے دعوت دی کہ ذرا مل بیٹھا کریں۔ ان کی بہن بشریٰ امیر دیر تک باتیں کرتی رہیں۔بہرحال! ہم لوگ وارثانِ شہدا کے زخموں پر مرہم نہ رکھ سکیں تو کم از کم خاموش رہیں۔ یہ ملک و ملت کے محسن ہیں۔ ریحانہ باجی نے یہ بھی بتایا کہ چند سال قبل میری بینائی بالکل ختم ہو گئی تھی۔ میں نے اپنے اللہ کے حضور فریاد کی کہ اے مولا کریم! میری آنکھوں کو روشن کر دے میں اب صرف قرآن پڑھوں گی۔ آپ دونوں کا فون آیا تو میں قرآن ہی پڑھ رہی تھی۔ میں نے کہا: میری بہن تو اللہ کی ولی ہے‘ کرامت کا اظہار ہو گیا ہے۔ اللہ اللہ! شہیدوں کے ایسے ورثا سے تو دعا کرانی چاہیے۔ یاد رہے! شہدا کی بیوگان کو اللہ کے رسولﷺ نے اُمت کی مائیں کہا ہے۔ یہ ایک اعزاز ہے۔ پاک وطن کے شہیدوں کو سلام کہ ان کی تکریم سے ہماری تکریم وابستہ ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved