تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     18-07-2026

بابا گھر پر ہیں

میں نے اپنے ایک بے تکلف اعلیٰ افسر دوست کو اپنی بپتا سنانے کا آغاز کیا تو موصوف نے موضوع کو بھانپتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمارا قصہ سنو اس کے بعد آپ کی بات سنیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ بسم اللہ کیجئے!
قارئین کرام! یہ واقعہ سو فیصد حقیقی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل میں اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں کچھ لکھنے پڑھنے کا کام کر رہا تھا کہ اچانک محسوس ہوا کہ جیسے کچن سے بیگم صاحبہ کی ڈری سہمی ہوئی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی ہیں۔ میں اُٹھ کر کچن میں گیا تو بیگم صاحبہ کسی سے فون پر التجا کر رہی تھیں۔ خوف کی شدت سے ان کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔ انہوں نے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ اس دوران فون پر دوسری طرف جو شخص بات کر رہا تھا اس سے وہ کہہ رہی تھیں کہ میرے پاس گھر میں تو صرف 35 ہزار روپے ہیں تین لاکھ تو نہیں۔اُن صاحب کے بقول‘ میں نے سرگوشی کے انداز میں غصے سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟ بیگم نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ بیٹے حامد کی زندگی کا سوال ہے جسے کچھ لوگوں نے اغوا کر لیا ہے۔ حامد لاہور کی ایک یونیورسٹی سے ڈگری مکمل کر کے وہاں پر ہی انٹرن شپ کر رہا ہے۔ دھمکی دینے والے شخص نے ماں کو اس کے بیٹے کی آواز سنائی جو روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ماں! مجھے بچاؤ‘ مجھے بچاؤ‘ یہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔ اُن صاحب کی بیگم نے انہیں بتایا کہ کال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ سی ٹی ڈی سے تعلق رکھتے ہیں‘ آپ کے بیٹے کا نام ٹیررازم لسٹ میں تھا۔ جب ہم نے اسے ہاسٹل سے اٹھا لیا تو ابتدائی تفتیش سے ہی ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ بچہ بے قصور ہے۔ اب ہم اسے چھوڑ دیں گے مگر اس کیلئے آپ کو دو لاکھ اٹھاسی ہزار روپے دینا ہوں گے۔اُن صاحب کی بیگم نے کہا کہ گھر پر میرے پاس صرف 35 ہزار روپے ہیں۔ ''سی ٹی ڈی‘‘ والوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے گھر میں کسی اور کو نہیں بتانا۔ فون بند نہ کریں اور کسی قریبی موبائل بینکنگ شاپ سے یہ رقم ہمیں ابھی ٹرانسفر کریں جس کے بعد ہم آپ کو آپ کے بیٹے کے زندہ سلامت رہنے کی ضمانت دیں گے۔ باقی رقم بعد میں ادا کر دیں۔ اُن صاحب کی بیگم نے انہیں جلدی سے گاڑی نکالنے کو کہا۔ کئی اعزازات حاصل کرنے والے ہمارے دوست نہایت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں‘ مگر یہاں معاملہ ان کے لخت جگر کا تھا۔ وہ فوری طور پر چابی لے کر لان میں آ گئے۔ اُن کے پیچھے پیچھے حامد کی والدہ بھی اپنی چادر اور پرس سنبھالتی ہوئی گاڑی کے پاس پہنچ گئیں۔ اس دوران دل پر قابو پاتے ہوئے قدرے غور و فکر سے کام لیا تو انہوں نے اپنے ایک پولیس افسر دوست کو کال کی اور اسے بتایا کہ حامد اغوا کاروں کے نرغے میں ہے آپ اس کا فی الفور پتا لگائیں۔ پولیس افسر نے موصوف سے ان کے بیٹے کے بارے میں کچھ معلومات دریافت کیں مگر آفت کی اس گھڑی میں بھلا انہیں معلومات کا ہوش کہاں تھا۔ پولیس افسر نے کہا کہ آپ بیٹے کا موبائل نمبر ہی بتا دیں۔ ادھر حامد کی والدہ فی الفور موبائل بینکنگ شاپ پر پہنچنا چاہتی تھیں۔
پولیس افسر کو حامد کا نمبر وٹس ایپ کرتے ہوئے معاً ہمارے دوست کو خیال آیا کہ میں خود ہی کیوں نہ حامد کو فون کر لوں۔ انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ حامد کا نمبر ملایا تو ادھر سے بیٹے نے نارمل حالات میں جی ابو کہہ کر ان کی کال سنی۔اُن صاحب نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ آج ورک فرام ہوم کرنا ہے‘ اس لیے میں تاخیر سے جاگا ہوں۔ انہوں نے فوری طور پر اپنی بیگم کے ہاتھ سے ان کا فون لے کر اسے اپنے ہاتھ سے ڈھانپ لیا اور ان کی بات اپنے فون پر حامد سے کروائی۔ ماں کو حامد کی آواز سن کر بھی یقین نہ آیا کہ وہ ابھی تک اغوا کاروں کے دباؤ اور ان کی دھمکیوں کے زیر اثر تھیں۔ انہوں نے بار بار حامد سے پوچھا کہ کیا تم خیریت سے ہو۔ اس نے کہا کہ سب خیریت ہے‘ میں تو اپنے کمرے میں ہوں۔ البتہ مجھے کچھ دیر پہلے ایک کال آئی تھی اور اس نے پوچھا تھا کہ کیا تم فلاں فلاں کے بیٹے ہو؟ میں نے ہاں میں جواب دیا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ تمہارے بابا کہاں ہیں؟ تو میں نے بتایا کہ میں گھر سے باہر ہوں جبکہ بابا گھر پر ہیں۔ مکمل تسلی کے بعد اُن صاحب نے بیگم صاحبہ کا فون پکڑ کر آن ویٹنگ اغوا کاروں کی دنیا کی ہر زبان بالخصوص پنجابی مغلظات سے تواضع کی۔
گزشتہ چند برسوں سے آن لائن جرائم اور بینک فراڈ عروج پر ہیں۔ سائبر کرائمز نے سارے ملک میں مختلف انداز میں جال بچھا رکھے ہیں مگر پنجاب تو ان جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے‘ شاید اپنی خوشحالی اور کثرتِ آبادی کی بنا پر۔2025ء سائبر کرائم رپورٹ ہونے والی کامیاب یا ناکام وارداتوں کے حوالے سے ٹاپ پر رہا۔ تقریباً پونے دو لاکھ مقدمات درج ہوئے تھے۔ پنجاب میں آن لائن وارداتوں میں بالعموم یہ ملزمان پولیس ‘ ایف آئی اے یا سی ٹی ڈی کے افسران و اہلکار بن کر فون کرتے ہیں۔ یہ بالعموم آپ کے بیٹے‘ بھانجے یا کسی اور قریبی عزیز کے اپنی تحویل میں ہونے کی دلفگار خبر سنائیں گے۔ وہ آپ کو 'تھانے‘ یا کرائم کنٹرول کے کسی دفتر بلائیں گے‘ یا فوری طور پر آن لائن رقم بھجوانے کا کہیں گے۔ آن لائن وارداتوں کی دوسری قسم بینک فراڈ کی ہے۔ آپ کے اکاؤنٹ کو بظاہر بینک سے بولنے والا شخص بند ظاہر کرے گا اور پھر چالاکی سے آپ کا پن کوڈ معلوم کرے گا اور پلک جھپکتے آپ کا اکاؤنٹ خالی کر دیا جائے گا۔
اب آپ میری بپتا سنیے۔ گزشتہ ہفتے مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی! میں کیپٹن محمد زاہد فلاں ادارے سے بول رہا ہوں۔' کیپٹن صاحب‘ نے مجھے میری کئی شخصی معلومات بتائیں اور پوچھا کہ کیا یہ درست ہیں؟ جو درست تھیں ان پر میں نے جی ہاں کہا‘ بعض معلومات بالکل غلط تھیں ان پر میں نے خاموشی اختیار کی اور تصحیح نہیں کی۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ فیک کال ہے مگر ''کیپٹن صاحب‘ ‘کا اعتماد ساتویں آسمان پر تھا۔ کہنے لگے آئندہ رابطے کیلئے ہم آپ کو وٹس ایپ کے ذریعے ایک کوڈ بھیج رہے ہیں۔ اسے او کے کر دیں۔ عرض کیا جناب انہی اداروں نے ہمیں خبردار کر رکھا ہے کہ آپ نے کسی مشکوک میسج پر اوکے نہیں کرنا۔ اس پر '' کیپٹن صاحب‘‘ نے کہا کہ ہم ہی نے منع کیا تھا اب نئی ضرورتوں کے مطابق آپ ہمارے میسج کو اوکے کریں۔ اگر آپ او کے نہیں کریں گے تو اگلے آدھے گھنٹے میں آپ کے سارے اکاؤنٹ اور فون نمبر وغیرہ بند ہو جائیں گے۔ ہم نے ' 'کیپٹن صاحب‘‘ سے کہا کہ فلاں افسر ایک اہم ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں‘ اُن سے پوچھ کر اوکے کر دوں گا۔ یہ سنتے ہی ''کیپٹن صاحب ‘‘فون بند کر گئے۔ اس سے پہلے ایسی فیک کالوں کا سن رکھا تھا مگر پہلی مرتبہ کال ایسی کال وصول کی۔
اب سنیے ہمارے اعلیٰ افسر دوست والی واردات کیسے کی گئی۔ کہیں سے انہوں نے اُن صاحب اور ان کی فیملی کے نمبروں تک رسائی حاصل کی۔ ماہر سائبر ڈاکوؤں نے فون پر اُن کے بیٹے کی آواز ٹیپ کی اور پھر مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس کی روتی اور مدد کیلئے آہ و زاری کرتی ہوئی آڈیو ماں کو سنائی تو اس کا تڑپ اٹھنا عین فطری تھا۔ بقول اُن کے اپنے سمیت چار غلطیاں ہوئیں۔ ان کے خیال میں سب سے بڑی غلطی ان کے بیٹے سے ہوئی جس نے فون کرنے والوں کو شناخت معلوم کیے بغیر انہیں بتا دیا کہ ''بابا گھر پر ہیں‘‘۔ اس انفارمیشن سے مجرموں نے ساری واردات کا پلان بنایا۔ ہمارے نزدیک سب سے بڑی غلطی ایسی آن لائن وارداتوں کے بارے میں عوام میں آگہی نہ ہونا ہے۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا کو ایسی آن لائن وارداتوں کے بارے میں آگہی گھر گھر پہنچانی چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved