تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     18-07-2026

بچوں پر مظالم اور معاشرے کا گہرا سکوت

ہمارے بچے محفوظ نہیں! اس پر بات کرنے پہ اکثر چپ کرا دیا جاتا ہے۔ ایسی باتیں مت کرو معاشرہ اس کو برداشت نہیں کر پائے گا‘ ہم تو بہت مہذب معاشرہ ہیں‘ یہاں تو رشتوں کا احترام ہے‘ اگر بچوں پر جنسی حملوں جیسے واقعات کو ہائی لائٹ کیا گیا تو ہماری بدنامی ہو گی۔ حالانکہ ایسے کیسز ہائی لائٹ کرنے سے بدنامی نہیں ہوتی بلکہ ایسے جرائم کرنے سے بدنامی ہوتی ہے۔ ایسے جرائم سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں بچے محفوظ نہیں تو آپ کی قوم کا مستقبل محفوظ نہیں۔ ابھی اخبار پڑھتے ہوئے میرے سامنے خبریں کچھ یوں تھیں کہ کراچی میں ایک چھ سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس کے مرنے کے بعد بھی اس سے زیادتی کی گئی اور اس کی نعش کو تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا گیا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ میرپور خاص میں جعلی عامل اور اس کے ساتھیوں نے دو کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کی‘ ایک بچی ہلاک ہو گئی جبکہ دوسری بچی کی حالت تشویشناک ہے۔ تیسری خبر یہ ہے کہ تین بچیوں کو ہسپتال لایا گیا تو ان کی والدہ نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ان کے والد نے ان کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ چوتھی خبر لاہور کی ہے جہاں ایک بچی ٹیوشن سنٹر میں مردہ پائی گئی۔ اس کے گردن پر پھندے کا نشان تھا۔ ادھر سرگودھا میں رشتہ دار نے چھ سال کی بچی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اب یہ سانحات ہو رہے ہیں تو رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ صرف خبریں نہیں بلکہ مردہ معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ اگر نئی نسل یہاں محفوظ نہیں‘ ان کو جینے کا حق حاصل نہیں تو ہمارا مستقبل کیا ہے؟ جنسی حملوں کے نتیجے میں بچے بچیاں مارے جا رہے ہیں‘ جو بچ جاتے ہیں وہ تمام عمر خوف‘ ڈر اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ساری عمر وہ اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ ان بچوں کو تحفظ دینا ہم سب کا فرض ہے۔ بچے سانجھے ہوتے ہیں‘ سب کے بچوں کا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے اپنے بچوں کا رکھتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رکھتے‘ وہ دوپہر کو خود سو جاتے ہیں اور بچوں کو باہر کھیلنے کیلئے بھیج دیتے ہیں۔ اس وقت وہ معصوم بچے گلی کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ کتنے ہی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ اوباش بچوں کے ساتھ چھیڑخانی کر رہے ہیں۔ وہ معصوم تو ان حرکات کا مطلب بھی نہیں سمجھتے لیکن ڈر ضرور جاتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کو بازار بھیجنا ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
جب روز ایسے خوفناک واقعات ہو رہے ہیں تو کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں کہ ہم نے بچوں کو محفوظ رکھنا ہے‘ انہیں کسی بھی جگہ اکیلے نہ بھیجیں نہ ہی ان کو کسی کے پاس اکیلا چھوڑیں۔ ان کو خطرات سے آگاہ کریں کہ ان کے پوشیدہ اعضا کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا‘ اگر کوئی ایسا کرے تو شور مچا دیں اور اپنے والدین کو بتائیں۔ بہت سے بچے شرمندگی کی وجہ سے سہم جاتے ہیں اور اپنے والدین کو نہیں بتاتے اس طرح مجرم نڈر ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو یہ بات سمجھائی جائے کہ وہ کسی طرح بھی قصور وار نہیں ہیں۔ اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ مجرم ہے۔ معاشرے میں غربت‘ کرپشن‘ اقربا پروری‘ ناانصافی کی وجہ سے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ بھی کہ نوجوان نسل کھیلوں سے دور ہے اور موبائل پر اپنا وقت زیادہ گزارتی ہے۔ اب وہ وہاں کیا دیکھ رہے ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم۔ ابھی جس کم سن بچے کو کراچی میں نشانہ بنایا گیا اس کے لواحقین نے یہ الزام عائد کیا کہ ملزم نے بچے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی ریکارڈنگ بھی کی اور جس طرح تکلیف دے کر اس بچے کو قتل کیا گیا اس کی وڈیو مبینہ طور پر ڈراک ویب پر سیل کی گئی۔ اس حوالے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے اداروں کو خصوصی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ یہ بہت بڑا اور خوفناک الزام ہے۔ دنیا بھر میں ایسے جرائم سامنے آئے ہیں جن میں بچوں سے جسم فروشی کرائی گئی‘ ان کو بردہ فروشی‘ سمگلنگ اور جرائم میں استعمال کیا گیا۔
بچے قالین بافی‘ بھٹوں‘ کارخانوں اور گھروں میں استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ گھریلو ملازم بچے جہاں مارپیٹ اور بھوک کا شکار ہوتے ہیں وہیں اکثر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح جو بچے اپنے گھروں میں رہتے ہیں وہ بھی خطرے کا شکار ہیں۔ اپنے بچوں کو خود ٹیوشن‘ مدرسے‘ سکول چھوڑنے جائیں۔ اگر وہ پارک یا گلی میں کھیل رہے ہیں تو ان پر نظر رکھیں۔ دادا دادی‘ نانا نانی‘ پھپھو اور خالہ کی بھی معاونت لی جا سکتی ہے۔ اگر ملازم آپ کے بچے کی دیکھ بھال کرتے ہیں تو کوشش کریں کہ خاتون ملازمہ رکھیں اور گھر میں اور باہر لاؤنج میں کیمرے نصب کریں۔ اپنے بچوں کو غیر لوگوں سے دوستی نہ کرنے دیں۔ اکثر ایسے افراد بچوں پر حملہ کرتے ہیں جن سے بچے مانوس ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گلی محلوں میں اوباش اکثر بچوں کو تنگ کرتے ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ایک بدفطرت آدمی چھوٹے بچے بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا‘ پولیس نے بروقت ایکشن نہیں لیا‘ اہل محلہ نے خود نگرانی کرکے اس آدمی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ بات پہلے چھیڑچھاڑ سے ہی شروع ہوتی ہے‘ پھر جب ان مجرموں کو موقع ملتا ہے یہ بچوں پر جنسی حملے کرتے ہیں اور ان کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس وقت عوامی اور ملکی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے درندوں سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہیں آگاہی دیں اور محفوظ ماحول دیں۔ دوسرا میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کو رپورٹ کرتے ہوئے بچے کی شناخت‘ اس کے ایڈریس کو چھپانا چاہیے۔ اس کے والدین اور رشتہ داروں سے بلاوجہ سوال نہ کئے جائیں۔ سیاستدان کیمروں اور پروٹوکول کے ساتھ ان کو پریشان نہ کریں۔ جس نے داد رسی کرنا ہوتی ہے وہ خاموشی سے بھی کر سکتا ہے۔ اکثر تھانے سے ایف آئی آرز رپورٹرز کو مل جاتی ہیں اور وہ من وعن سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اس میں نام‘ پتا اور واقعے کی تفصیل کو چھپانا ہوتا ہے۔ مجھے تو کچھ لوگوں کے ٹویٹس اور کانٹینٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ تو واقعے کو رپورٹ کرنے کے بجائے مزید ہیجان پھیلا رہے ہیں۔ واقعے کی مذمت کریں اور انصاف مانگیں لیکن جرم کرنے کا طریقہ لوگوں کو نہ بتائیں۔
بچے اس قوم کا مستقبل ہیں ان کا صحتمند‘ خوش اور نڈر ہونا بہت ضروری ہے۔ جنسی حملوں کی وجہ سے بچے ڈر اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اساتذہ‘ ڈاکٹرز‘ ماہرین سماجیات اور علما کرام بھی اپنا مؤقف پیش کریں۔ وہ وجوہات قوم کے سامنے لائیں جن کی وجہ سے کچھ مرد بچوں پر حملہ آور ہیں۔ اسی طرح حکومت‘ پولیس‘ اساتذہ‘ سماجی کارکن اور ڈاکٹرز مل کر بچوں کو بچانے کیلئے حل نکالیں۔ ہم خاندانوں اور محلوں کی صورت میں رہتے ہیں‘ کیا ہم باریاں بدل کر بھی بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتے؟ ایک ان کو سکول چھوڑ دے‘ ایک ان کو پک کر لے‘ ایک ان سب پر کھیلتے ہوئے نگرانی رکھے۔ ہم نے اپنے بچوں کو صحتمند زندگی دینی ہے۔ ان کو بولنا سکھائیں‘ ناں کہنا سکھائیں۔ گڈ ٹچ بیڈ ٹچ یعنی اچھے اور برے لمس میں فرق بتائیں۔ ان کو یہ باور کرائیں کہ کوئی ان کو چھو نہیں سکتا‘ ان کے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے اعضا کو کوئی چھو نہیں سکتا۔ گھر کا ماحول ایسا رکھیں کہ بچے آپ سے ہر طرح کی بات کر سکیں۔ بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ وہ کسی کی گود میں نہ بیٹھیں‘ کوئی انہیں بوسہ نہ دے‘ نہ ہی ان کو گلے لگائے۔ سوشل میڈیا پر کسی غیر کو دوست نہ بنائیں‘ کسی سے وڈیو کال مت کریں۔ آن لائن گیمنگ کے دوران اپنا کیمرہ اور مائیک بند رکھیں۔ اگر تمام تر احتیاط کے باوجود بھی بچہ کسی مسئلے کا شکار ہو تو اس کو الزام مت دیں۔ بچے کا طبی معائنہ کرائیں‘ پولیس کو رپورٹ کریں اور بچے کو نفسیاتی بحالی میں مدد دیں۔ یاد رکھیں کہ بچے پر حملہ صرف اجنبی نہیں کرتے یہ حملہ اکثر جاننے والوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا چپ مت رہیں‘ اپنے اور قوم کے بچوں کیلئے آواز اٹھائیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved