تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     18-07-2026

تمہاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی!

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے بارے میں حال ہی میں کئی بیانات دیے ہیں‘ انہوں نے کہا: '' ہم آبنائے ہرمز کو اپنے انتظامات کے تحت اپنی مرضی سے چلائیں گے اور آخرکار ہم اس کا پورانظم سنبھال لیں گے ہم ''محافظ فرشتے‘‘ کا کردار ادا کریں گے‘‘۔ اوّلاً انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ''ہم بیس فیصد ٹول ٹیکس بھی عائد کریں گے‘‘۔ شاعر نے کہا ہے: تمہاری زُلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی؍ وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی۔ یعنی ایران کا ٹول ٹیکس عائد کرنا ناقابلِ قبول اور امریکہ کو بیس فیصد کی شرح سے عائد کرنے کا استحقاق حاصل ہے‘ جبکہ ایران یہ استحقاق اپنے ساحلی پانیوں میں استعمال کر رہا ہے اور امریکہ اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور یہ حق حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخرکار آبنائے ہرمز حسبِ سابق آزاد بحری تجارتی گزرگاہ ہی رہے گی‘ کیونکہ اس کے ساتھ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے یا اگر ایران کوئی ٹول ٹیکس عائد بھی کرتا ہے تو وہ قلیل مقدار میں ہو سکتا ہے۔ امریکی دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران نے کہا: بیس فیصد بہت زائد ہے‘ ہم مناسب شرح سے ٹول ٹیکس عائد کریں گے۔ اس دوران امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران بعض خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے کس قدر مؤثر ہیں اور آیا ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ یا خلیجی ممالک کا معتدبہ نقصان ہو رہا ہے یا نہیں‘ اس کی بابت کوئی قطعی معلومات دستیاب نہیں ہیں‘ بس متضاد دعوے ہیں۔ اکثر حملوں کے بارے میں خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ اپنے دافعِ میزائل نظام کے ذریعے وہ ایرانی حملوں کو بے اثر بنا رہے ہیں۔ البتہ مغربی میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ کویت کی شعبیہ بندرگاہ میں ایک ''امریکن ٹیکٹیکل آپریشن سنٹر‘‘ کو ایران نے نشانہ بنایا‘ اس میں امریکی ریزرو آرمی کے چھ فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے‘ ہلاک ہونے والوں میں سے کئی کی شناخت ہو چکی۔
الغرض امریکہ ایران کا مسئلہ شدید الجھائو کا شکار ہے‘ چونکہ ایران نے قطر کے جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے‘ اس لیے قطر نے ثالثی سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی پوزیشن بھی نازک ہے‘ کیونکہ ایران کے خلیجی ممالک اور یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے سبب پاکستان کیلئے ایران کا ساتھ دینا مشکل ہو جائے گا۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کا کتنا نقصان ہو رہا ہے‘ نیز اگر ان حملوں کے نتیجے میں ایران کا اقتصادی اور فوجی ڈھانچہ تباہ ہوتا رہا تو ایران ایسے نقصانات کب تک اور کس حد تک برداشت کر سکتا ہے۔ رابطہ کاری تو قدرے آسان ہے لیکن ثالثی مشکل کام ہے کیونکہ ثالث کو ہر فریق کے غلط کو غلط کہنا پڑتا ہے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے فریقین کو ''کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کیلئے قائل کرنا پڑتا ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت دونوں انتہاپسند واقع ہوئے ہیں اور دونوں کے بارے میں پیشگوئی کرنا یا دونوں کو کسی کم از کم قابلِ قبول ایجنڈے پر متفق کرنا اور اس پر قائم رکھنا نہایت مشکل کام ہے۔
صدر ٹرمپ نے حسبِ عادت بیس فیصد ٹول ٹیکس کا دعویٰ واپس لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور خلیجی عرب ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے اور امرِ واقع یہ ہے کہ ساری دنیا اس کی مخالفت کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا ہے: بیس فیصد ٹول ٹیکس سے دستبرداری کے عوض تیل پیدا کرنے والے ممالک اس کے مساوی رقم کی امریکہ میں سرمایہ کاری کرکے نفع حاصل کریں گے۔ خلیجی ممالک تو پہلے ہی ٹرمپ کے سابق دورے کے موقع پر بھاری سرمایہ کاری کے وعدے کر چکے ہیں۔ مگر امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے یا فاضل مالی ذخائر جمع کرنے میں ہمیشہ خطرات مضمر رہتے ہیں‘ کیونکہ وہ جب چاہتا ہے کسی فرد‘ ادارے یا ملک کے اثاثوں کو منجمد کر دیتا ہے اور دنیا میں کوئی اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ امریکہ اور ایران نے 'اسلام آبادمفاہمتی یادداشت‘ کے ختم ہونے کا دعویٰ کیا ہے‘ لیکن صدر ٹرمپ اپنے بیانات میں یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ اب بھی معاہدے کا امکان باقی ہے‘ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے ہم سے ایک بار پھر معاہدہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو ایک ہفتے کے بعد ہم ایٹمی تنصیبات اور ایرانی اثاثوں یعنی بجلی‘ پانی‘ گیس‘ پٹرول اور پیٹرو کیمیکل کی تنصیبات پر حملے کریں گے۔ نیز انہوں نے پلوں یعنی رَسل ورسائل کے ذرائع کو بھی تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ ایران کی صلاحیتِ مزاحمت ومدافعت حقیقت میں کتنی ہے اور وہ ان ممکنہ نقصانات کو برداشت کرنے کی کتنی استعداد رکھتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ایران کا بنیادی اقتصادی ڈھانچہ برقرار رہے تاکہ کسی ممکنہ حتمی معاہدے کے بعد وہ اپنی بحالی اورتعمیر نو کا اہتمام کر سکے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے اپنے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے کہ دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کی کسی بھی جارحیت کا شدت سے جواب دیا جائے گا اور اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا خطرہ مول لیا تو اس کا جواب انتہائی ہولناک ہوگا اور دشمن کو جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے: آبنائے ہرمز خطے میں دفاعی اور سٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم گزرگاہ ہے‘ جس کا تحفظ ایران کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ایران نے سفارتی مذاکرات میں ہمیشہ سنجیدگی دکھائی ہے‘ لیکن مخالف فریق نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے‘ اس لیے ایران قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنی طاقت بنا لیا ہے اور کسی بھی دوسری قوت کے مقابلے میں ساحل کے قریب ہونے کے سبب اُس کیلئے اس کا کنٹرول نسبتاً آسان ہے۔ ایران چاہتا تھا کہ عمان سے مل کر اس کیلئے کوئی طریقۂ کار وضع کرے اور درپردہ عمان کی اشیرباد بھی انہیں حاصل تھی۔ لیکن اب عمان نے ایران کے ساتھ مل کر اس کا طریقۂ کار وضع کرنے سے وقتی طور پر انکار کر دیا ہے‘ کیونکہ عمّان کیلئے خلیجی ممالک اور امریکی دبائو کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
پاکستان کیلئے امریکہ اور اسرائیل کے مقابل ایران کی حمایت آسان حکمتِ عملی ہے اور پاکستان کے عوام کیلئے بھی قابلِ قبول ہے‘ نیز پاکستان نے 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر فریقین کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے بے انتہا محنت کی ہے۔ اب فریقین کی انتہا پسندی اور غیر مصالحانہ رویے کے باعث اس کے تارو پود کا بکھرنا پاکستان کیلئے انتہائی اذیت کا باعث ہے‘ کیونکہ یہ مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدے کیلئے ایک بنیادی دستاویز ہے اور دوبارہ کسی ایسی دستاویز پر متفق ہونا مشکل ہوگا۔ نیز قطر کو بھی ثالثی میں دوبارہ شامل ہونے پر رضامند کرنا پڑے گا‘ کیونکہ سوئٹزرلینڈ کا مقام برگن سٹاک ریزورٹ جہاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد پہلا اجلاس ہوا تھا‘ وہ قطر کی ملکیت ہے اور قطر کیلئے دوبارہ اس کی میزبانی کرنا آسان ہوگا۔ اپنے عوام کی تسلی اور اُن کے جذبات کو بلند رکھنے کیلئے آتشیں بیان دینا شاید حکمتِ عملی کا حصہ ہو‘ لیکن ایران کی قیادت کو چاہیے کہ سفارتکاری کے آداب کو بھی ملحوظ رکھے۔ اسلام کی تعلیمات یہ ہیں: ''لوگو! دشمن سے ٹکرائو کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو‘ مگر جب (قضائے الٰہی سے) ٹکرائو ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘ (بخاری: 2966)۔
امریکہ میں بھی صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اہداف اورممکنہ نتائج کا جائزہ لیے بغیر اسرائیلی وزیراعظم کے ایما پر ایران پر حملہ کر دیا ہے‘ اس جنگ میں امریکہ کا زرِ کثیر صَرف ہوا اورجانی نقصان بھی ہوا ہے۔ پس ٹرمپ انتہائی ذہنی انتشار کا شکار ہیں اور شب وروز متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں‘ جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved