تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     19-07-2026

حضرت مولانا کا جوشِ خطابت

مولانا فضل الرحمن نے قصور میں جمعیت العلمائے اسلام کے کارکنوں کے ایک پُرجوش اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہا تھا‘ اور کیا نہیں کہا تھا‘ وہ کیا کہنا چاہتے تھے اور کیا کہہ گزرے‘ جوشِ خطابت میں اُن سے چند جملے سرزد ہو گئے یا وہ دانستہ تیر اندازی کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے فوجیوں کی تنخواہ وصولی کو ایک طعنے کے طور پر استعمال کیا یا محض ایک حقیقت کو بیان کرنا مقصود تھا‘اس سب سے قطع نظر یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ افواجِ پاکستان کو ان کی بنیادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا رہے تھے‘ تو زیادہ بہتر اور مناسب الفاظ استعمال کر سکتے تھے۔ان کے لہجے اور الفاظ کی ترتیب سے شبہات پیدا ہوئے‘ جس سے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ کسی بھی خدمت کے معاوضے کے طور پر تنخواہ وصول کرنا ہر شخص کا آئینی‘ قانونی بلکہ شرعی حق ہے۔ کاروبارِ مملکت اسی بنیاد پر چل رہا ہے۔ صدرِ مملکت بھی تنخواہ یافتہ ہیں اور وزیراعظم بھی۔ جج حضرات تنخواہ وصول کرتے ہیں اور ارکانِ اسمبلی بھی‘اس لیے کسی تنخواہ یافتہ پر نہ تو یہ الزام لگایا جا سکتا ہے نہ اُسے طعنہ بنایا جا سکتا ہے کہ وہ تنخواہ لیتا ہے۔ اگر خدمات کے عوض تنخواہ لینے کا حق ساقط کر دیا جائے تو ریاست کا نظم و نسق چوپٹ ہو جائے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں تنخواہ لی جاتی ہے اور جو شخص اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرتا ہے‘ تنخواہ کے علاوہ اپنے منصب سے کوئی اور فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا اُسے دیانتدار سمجھا جاتا ہے۔وہ صادق اور امین کہلاتا اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ افواجِ پاکستان کے افسر اور جوان بھی اپنی خدمات کا معاوضہ لیتے ہیں‘ لیکن ان کا امتیاز یہ ہے کہ ان کی ''شرائطِ ملازمت‘‘ میں جان کی بازی لگا دینا بھی شامل ہے۔کسی جج‘ وزیر یا سیکرٹری سے یہ تقاضہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دفاعِ وطن کیلئے سرحدوں پر مامور ہو جائے اور جان پر کھیل کر ان کی حفاظت کرے۔
افواجِ پاکستان میں جو بھی شامل ہوتا ہے‘وہ اپنی مرضی سے اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ اسے مار باندھ کر بھرتی نہیں کیا جاتا۔ اس کا اپنا ولولہ اور شوق اسے سرفروشوں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ اگر پیش کش قبول کر لی جائے تو اس سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وقت آنے پر وہ جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔پاکستان جیسا ملک جو بیرونی اور اندرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے‘اس کی حفاظت کا جذبہ اس کے محافظوں میں فزوں تر ہے۔ سرحدوں پر کوئی چیلنج درپیش ہو یا اندرون ملک شورش برپا ہو رہی ہو یا دہشت گردی حملہ آور ہو تو افواجِ پاکستان ہی کو آواز دی جاتی ہے اور انہی سے توقع رکھی جاتی ہے کہ ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیں۔
افواجِ پاکستان کے علاوہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکار بھی سر ہتھیلی پر رکھے رہتے ہیں اور بدقماشوں سے نبٹتے نبٹتے اپنا خون بے دریغ لٹا دیتے ہیں۔پاکستان کو اپنے شہیدوں اور غازیوں پر فخر ہے اور آج پوری دنیا میں ہم پورے قد سے کھڑے ہیں تو ہماری مسلح افواج کی استعداد کا اس میں بڑا حصہ ہے۔ اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کو حال ہی میں شکست سے جس طرح دوچار کیا گیا‘ اس نے ہماری دھاک بٹھا دی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران جنگ کے دوران جو مصالحانہ کردار ادا کیا‘ وہ بھی اسی لیے ممکن ہوا کہ ایک طاقتور ریاست کی طاقتور فوج ان کی پشت پر تھی۔ افواجِ پاکستان کا جذبۂ شہادت تنخواہ کا پیدا کردہ نہیں ہے‘ لیکن تنخواہ ان کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے۔ اسے ان کے حضور ایک معمولی سا نذرانۂ عقیدت تو قرار دیا جا سکتا ہے‘ خون کا معاوضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حضرت مولانا فضل الرحمن کے لہجے سے غلط فہمی پیدا ہوئی‘مناسب ہوتا کہ وہ فوراً اس کی وضاحت کر دیتے‘انہوں نے اسے ضروری نہیں سمجھا تو اسے کوتاہی سمجھا جائے گا بہادری نہیں۔ بہادری تو یہ ہوتی ہے کہ اگر بھول چوک سرزد ہو جائے تو ڈنکے کی چوٹ اس کا ازالہ کر دیا جائے۔مولانا عبدالغفور حیدری جیسے جانثار لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر آئے اور مولانا کے حق میں الفاظ کا انبار لگانے لگے‘ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنے تک کی دھمکی دے ڈالی ؎ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟ ارے حضرت‘ آپ کی عمر بھی دشت ِ سیاحت کی سیاحی میں گزر گئی ہے لیکن یہ سلیقہ کیوں بھلا دیا گیا کہ کیا بات‘ کس وقت کہنی چاہیے۔ ملک میں خدانخواستہ مارشل لاء لگا ہوا تو ہے نہیں‘ بری بھلی جمہوریت چل رہی ہے۔ دستور کے تابع نظام قائم ہے۔ جملہ امور کی ذمہ داری وزیراعظم اور ان کے رفقا نے سنبھال رکھی ہے۔ احتجاج کرنا ہے تو وزیراعظم سیکرٹریٹ کے باہر کھڑے ہو کر دل ٹھنڈا کر لیجیے‘ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھڑاس نکال لیجیے۔بہرحال ایک طرف غالی مداح نظر آئے تو دوسری طرف حملہ آوروں کی یلغار دیدنی تھی۔ طرح طرح کے الزام لگائے گئے‘ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جانے لگے‘ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا ڈالے گئے‘ گویا گھمسان کا رن پڑ گیا۔ توازن اور اعتدال سے بات کرنیوالے بھی موجود تھے اور ہیں‘ لیکن ہر حد سے گزرنے والے کہیں زیادہ سرگرم نظر آئے۔
مولانا فضل الرحمن کوئی گملے کا پودا تو ہے نہیں کہ انہیں اپنی مرضی سے اٹھایا اور بٹھایا جائے۔ ان کی اپنی شخصیت ہے‘ تاریخ ہے‘ کردار ہے‘وقار ہے اور اعتبار بھی۔انہوں نے کئی عشرے پاکستانی سیاست کی نذر کیے ہیں۔اپنے جلیل القدر والد مولانا مفتی محمود مرحوم کے نقش قدم پر چلے ہیں اور ان کی وراثت کی حفاظت کی ہے۔ جب دہشت گرد گروہوں کے جتھے ''اسلامی انقلاب‘‘ برپا کرنے کے لیے دھما چوکڑی مچائے ہوئے تھے اور اپنی مرضی پورے ملک پر مسلط کرنے کے در پے تھے‘مولانا کی آواز اُن آوازوں میں نمایاں تر تھی‘ جو اُن کا راستہ روکنے والوں کو حوصلہ بخش رہی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن اور اُن کے رفقا نے خود کش حملوں کا سامنا کیا‘ ان کے متعدد رفقائے کار اور کارکن قربان ہو گئے لیکن انہوں نے دستور اور قانون کی حاکمیت کا پرچم بلند رکھا۔ وہ جمہوری راستے سے تبدیلی لانے کے لیے کمر بستہ ہیں اور یوں معاشرے کو استحکام دینے میں لگے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی محبت میں اپنے کالے بال سفید کر لیے ہیں۔ جوانی اس کی مالا جپتے گزار دی اور اب بڑھاپے کو اس سے بہلا رہے ہیں۔ مدرسوں کے ہزاروں طالب علموں کے ہاتھوں میں انہوں نے کتابیں تھمائی ہیں۔طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری کو تسلیم کیا ہے‘افواجِ پاکستان کو سر آنکھوں پر بٹھائے رکھا ہے۔ ان جیسے شخص سے اگر کوئی بھول چوک ہو جائے‘ الفاظ کے انتخاب میں کوتاہی ہو جائے تو ان کے پورے کیریئر کو نظر انداز کر کے ان کی شخصیت کو مسمار کرنے پر لگ جانا بجائے خود ایک خود کش حملہ ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھانا ہے تو ہر شخص اور ہر ادارے کو آئین کی پابندی کرنا ہو گی۔ایک دوسرے کا احترام کر کے اور ایک دوسرے سے مکالمہ کر کے‘ایک دوسرے کی بات سن کر اور سمجھ کر ہی ہم اپنے جسد ِ قومی کو توانا کر سکتے ہیں۔یاد رکھیے‘ شک کا فائدہ دے کر قتل تک کے ملزم کو بری تو کیا جا سکتا ہے‘سزا نہیں دی جا سکتی۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved