تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     21-07-2026

ہمارے ساتھی! ہمارے غم خوار!!

صحن میں لگا ہوا وہ لسوڑے کا درخت کہاں گیا جس کے سائے میں‘ چارپائی بچھا کر‘ میں نے چارلس ڈکنز‘ سٹیون سن اور جونیتھن سوئفٹ کے ناول اور برنارڈ شا کے ڈرامے پڑھے؟ صحن کے کونے میں لگا ہوا‘ رنگا رنگ پھول کھلاتا‘ گل باسی (گلِ عباسی) کا وہ پودا کہاں گیا جسے دیکھ دیکھ کر میں بڑا ہوا۔ بیری اور انجیر کے درختوں کے لاتعداد جھنڈ جن کے نیچے ہم گرم‘ چلچلاتی دوپہریں گزارتے تھے‘ کہاں غائب ہو گئے۔ کَرِیں کے وہ تنہائی پسند‘ صوفی درخت کیوں نہیں نظر آتے جن کے سائے میں‘ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک سفر کرتے ہوئے‘ ہم چادر بچھا کر سستاتے تھے اور جن پر اکا دکا‘ بہت سرخ پھول لگتے تھے یا ڈیلی کے پھل!! وہی ڈیلی یا ڈیلیاں‘ جن کا اچار آج بھی معروف ہے۔
یہ ماتمی فقرے میرے دل سے اس لیے نکل رہے ہیں کہ میں نے ایک ماتمی خبر پڑھی ہے۔ خبر پڑھ کر دل میں درد کی لہر اٹھی جو کاغذ پر منتقل ہونا چاہتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے راول جھیل کے ایریا میں درخت صرف پچاس فیصد رہ گئے ہیں۔ یہی لیل ونہار رہے تو بقیہ پچاس فیصد بھی مجرمانہ تغافل کی نذر ہو جائیں گے۔ ہم لوگ بھی عجیب ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ وہ بھی زمانہ تھا جب لوگ مرتے دم تک شجر کاری کرتے تھے۔ فارسی پڑھتے ہوئے‘ سبق میں یہ حکایت جو آئی تھی‘ آج تک ذہن پر کھدی ہوئی ہے۔ بادشاہ نوشیروان عادل نے دیکھا کہ ایک بوڑھا درخت لگا رہا تھا۔ پوچھا تمہاری ٹانگیں قبر میں ہیں۔ تمہاری زندگی میں تو یہ درخت جوان ہونے اور پھل دینے سے رہا! پھر کیوں مشقت کر رہے ہو؟ بوڑھے نے جو جواب دیا کاش ہم من حیث القوم‘ اس پر عمل کرتے!! اس نے کہا: جہاں پناہ! ہمارے بڑوں نے شجرکاری کی۔ وہ دنیا سے چلے گئے تو ہم نے ان کے لگائے ہوئے درختوں کے پھل کھائے۔ ہم درخت لگائیں گے تو ہماری آئندہ نسلیں ان کا پھل کھائیں گی!! ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ فرنگی زبان میں Next door neighbour۔ ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں۔ وہی دو پاؤں‘ وہی دو آنکھیں‘ وہی ایک ناک!! مگر پورا ملک باغ کی صورت ہے۔ کل ہی اپنے دوست اور معروف کالم نگار جاوید چودھری صاحب کو سن رہا تھا۔ وہ ماضی قریب ہی میں‘ جنگ سے پہلے ایران سے ہو کر آئے ہیں۔ بتا رہے تھے کوئی قطعۂ زمین ایسا نہیں ہے جہاں سبزی کاشت نہ کی گئی ہو یا ثمردار پیڑ نہ لگائے گئے ہوں! ہر گھر اس حوالے سے خودکفیل ہے۔ یہ تو تاشقند‘ سمرقند‘ بخارا‘ خیوا اور ترمذ میں میرا بھی مشاہدہ ہے جہاں بارہا جانا ہوا۔ ہر گھر کے وسط میں باغ ہے۔ رہائشی کمرے اس باغ کے اردگرد بنے ہوئے ہیں۔ باغ کو ''حولی‘‘ (ماحول سے) کہتے ہیں۔ اس میں ہر وہ پھل لگا ہے جو اُس علاقے میں لگ سکتا ہے۔ انگور‘ آڑو‘ سیب‘ خوبانی‘ انجیر‘ اخروٹ‘ بادام! یہی حال سبزیوں کا ہے! ہر گھر خودکفیل ہے۔
معروف ازبک ادیب اور صحافی دادا خان نوری (مرحوم) اسلام آباد تشریف لاتے تو قیام غریب خانے میں ہی کرتے۔ پہلی بار تشریف لائے تو علی الصبح سیر کے لیے نکل گئے۔ واپس آئے تو سخت غصے میں تھے۔ کہنے لگے: تم پاکستانی کتنے نالائق اور لاپروا ہو۔ ہر گھر کے سامنے‘ پیچھے اور دائیں بائیں‘ ساری زمین بیکار پڑی ہے۔ کہیں جنگل اُگا ہے۔ کہیں اینٹیں اور روڑے پڑے ہیں۔ خدا کے بندو!! سبزیاں اور پھلوں والے درخت کیوں نہیں لگاتے؟ قدرت کی دی ہوئی نعمت سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ ساری زمین تمہاری اجاڑ‘ غیر آباد پڑی ہے! دادا خان نوری کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا‘ ایک جاندار‘ خوبصورت ناشتہ کرایا اور بتایا کہ ہم ایسے ہی ہیں! اور ایسے ہی رہیں گے۔ ہمیں اسی حالت میں‘ جہاں اور جیسے ہیں‘ کی بنیاد پر قبول کرنا ہو گا! دادا خان نوری پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کی وفات پر کالم لکھا تھا جو 31 مئی 2022 ء کو روزنامہ دنیا میں شائع ہوا۔
کیا آپ نے کبھی درختوں کو غور سے دیکھا ہے؟ درخت ہمارے خیر خواہ ہیں! ہمارے دوست ہیں اور غم خوار! آپ انہیں کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟ کبھی وقت ملے تو تنہائی میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزاریے۔ ان میں آپ کو خلوص نظر آئے گا۔ یہ ہمیشہ بازوؤں کو وا کیے ہوتے ہیں۔ یہ سسکیاں بھر کر روتے بھی ہیں۔ یہ آپ کے غم میں کُڑھتے بھی ہیں۔ آپ کسی درخت کو کبھی بھی مکار اور دشمنی پالنے والا نہیں پائیں گے۔ درخت ہمارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ہماری نیتوں کی برائی کا‘ ہمارے صدق کا‘ ہماری بے بسی کا‘ انہیں سب کچھ معلوم ہے۔ غور سے دیکھیے۔ درختوں کی بہت سی قسمیں ہیں‘ اونچے سر افراز درخت! جو پُرشکوہ قطاروں میں وجیہ شہزادوں کی طرح کھڑے ہیں۔ کچھ بیچارے پستہ قد ہوتے ہیں جھکی ہوئی کمر کے ساتھ! کچھ ٹیڑھے ہوتے ہیں اکیلی پگڈنڈیوں پر ثابت قدمی سے جمے ہوئے! ہمارے گاؤں میں کچھ درخت قبروں پر جھکے ہوتے تھے۔ ان قبروں پر چراغ جلائے جاتے تھے۔ ہم ان درختوں کے تنوں کو ہاتھ لگا کر اپنے ہاتھ چومتے تھے۔ درخت زیتون کے ہوں یا بیر کے‘ انجیر کے ہوں یا شہتوت کے‘ کیکر کے ہوں یا پھلائی کے‘ شمشاد کے ہوں یا املتاس کے‘ میوہ دار ہوں یا بانجھ‘ میٹھا بُور لیے ہوں یا نوکیلے کانٹے! اُجڑے ہوئے صحن میں ہوں یا آباد پائیں باغ میں‘ جیسے بھی ہوں‘ جہاں بھی ہوں‘ مقدس ہوتے ہیں‘ پاکباز ہوتے ہیں اور انسانوں کے دوست ہوتے ہیں۔ درخت نبیوں کے ساتھی اور ولیوں کے مددگار ہیں‘ درخت پرندوں کے گھر ہوتے ہیں اور معصوم بچوں کے امانت دار۔ درختوں سے بنی لاٹھیوں سے اندھوں نے روشنی پائی۔ درختوں کے سائے تلے مرنے کی بیعتیں ہوئیں اور محبت کے قول وقرار! درختوں کی چھال پر عاشقوں نے معشوقوں کے نام کھودے ہیں! ہمارے پاؤں ہیں‘ ہم چل کر اپنی زمینوں سے‘ اپنے پیاروں سے دور چلے جاتے ہیں۔ مگر درخت اُس زمین سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتے جس میں ان کی جڑیں ہوتی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں کچھ عرصہ قبل‘ ماضی قریب میں‘ درختوں کا قتلِ عام ہوا! لاکھوں درخت قتل کر دیے گئے۔ میڈیا نے آہ وفغاں کی۔ پارلیمنٹ میں بھی شور کی گونج سنائی دی۔ یہ قتلِ عام سرکار کے اپنے کارندوں نے کیا اور کرایا تھا۔ کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ الٹا‘خلعتیں بانٹی گئیں۔ نوکر شاہی کے جو ارکان ذمہ دار تھے انہیں مزید پوسٹوں سے نوازا گیا۔ مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہ سوال سب سے پہلے میں اپنے آپ سے کرتا ہوں۔ پھر آپ سے! میں نے خود گزشتہ ایک سال میں کتنے درخت لگائے؟ کتنے پودے کاشت کیے؟ کتنے بیج زمین کی گود میں بھرے؟ یہی سوال آپ بھی اپنے آپ سے کیجیے۔ ہم سب درختوں کی خطرناک کمی کے ذمہ دار ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کو شجرکاری کی تربیت دے رہے ہیں؟ کیا ہم نے بچوں کو بتایا ہے کہ درخت کاٹنا قومی جرم ہے؟ کہ درخت کاٹنا قتل کے مترادف ہے؟ حکومتیں تو مجرم ہیں ہی! کیا ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے گھر کے اندر‘ اور گھر کے باہر‘ جہاں جہاں خالی جگہ ہے‘ سبزی کاشت کی ہے؟ پودے لگائے ہیں؟ خود نہیں کر سکتے تو مالی سے کرائیے۔ لازم نہیں کہ مالی ہر روز آئے۔ ہفتے میں دو بار ہی آئے تو آپ کا گھر‘ اور گھر کے باہر خالی جگہ سبزیوں‘ پھولوں اور پھلوں سے بھر سکتی ہے۔ جہاں ہر ماہ آپ موبائل فون کے کارڈ پر‘ پیزوں اور برگروں پر‘ ڈھابوں اور ریستورانوں میں بیٹھ کر چائے اور کافی پر‘ اچھی خاصی رقم لگا سکتے ہیں وہاں چند ہزار مالی کے لیے بھی مختص کر سکتے ہیں! بیج اور کھاد پر بھی خرچ کر سکتے ہیں۔
درختوں کی کمی ہماری زندگیوں کے لیے خطرناک ہے! خدارا مسئلے کو سمجھیے اور دوسروں کو سمجھائیے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved