تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     22-07-2026

صلۂ شہید کیا ہے…

کسی بھی جمہوری معاشرے میں حکومت‘ پارلیمنٹ اور ملکی پالیسیوں پر جائز تنقید نہ صرف حق بلکہ ضرورت ہوتی ہے۔ سوال اٹھانا سیاست کا حصہ‘ اختلاف جمہوریت کی روح اور جوابدہی عوامی نمائندوں کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے‘ لیکن اختلاف اور تضحیک میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب سیاسی زبان اس فرق کو پامال کر ے تو بحث دلیل سے نکل کر دل آزاری میں تبدیل ہو جاتی ہے‘ اور جب معاملہ ان لوگوں کا ہو جو وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دے چکے ہوں تو الفاظ کا وزن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے قصور میں ایک جلسے کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتِ حال‘ عوامی مشکلات‘ مبینہ انتخابی دھاندلی اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی۔ یہ تمام موضوعات سیاسی بحث کا جائز حصہ ہیں۔ ہر سیاسی رہنما کو یہ حق حاصل ہے‘ مگر اسی تقریر کے دوران جب یہ کہا گیا کہ سکیورٹی اہلکار ملک کیلئے لڑنے کی تنخواہ لیتے ہیں تو یہ تاثر پیدا ہوا کہ محاذ پر جان قربان کرنے کو ملازمت کی ایک عام شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ شدہ بیان کے بعد متعدد سیاسی و حکومتی شخصیات نے اسے شہدا کی قربانی کے مقام و مرتبے کو کم تر ظاہر کرنے کے مترادف قرار دیا۔ یہاں سوال کسی ایک جماعت‘ حکومت یا سیاسی شخصیت کی حمایت اور مخالفت کا نہیں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تنخواہ اور قربانی کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟ فوج‘ پولیس اور ایف سی کے جوانوں کو یقیناً تنخواہ ملتی ہے‘ جیسے استاد‘ ڈاکٹر‘ صحافی‘ مزدور اور ہر طرح کے سرکاری ملازم کو ملتی ہے‘ لیکن کیا ہر تنخواہ دار شخص سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بارودی سرنگ پر قدم رکھتا ہوا آگے بڑھے‘ خودکش حملہ آور کا راستہ روکے‘ برفانی چوٹی پر منفی درجہ حرارت میں مہینوں تعینات رہے یا اپنے بچوں سے آخری بار فون پر بات کرکے ایسے آپریشن پر روانہ ہو جائے جہاں سے واپسی یقینی نہ ہو؟ تنخواہ ذمہ داری کی قیمت ہو سکتی ہے‘ زندگی کی نہیں۔
پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال محض تقریروں‘ پریس کانفرنسوں اور سیاسی نعروں کا موضوع نہیں بلکہ خون سے لکھی ہوئی حقیقت ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق 2025ء میں 667 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں میں ایک سال میں 26فیصد اضافہ ہوا۔ یہ 2011ء کے بعد سکیورٹی فورسز کا سالانہ بلند ترین جانی نقصان تھا۔ ان میں سے ہر شخص تنخواہ دار ضرور تھا مگر اس کی جان کسی سرکاری پے سکیل کا حصہ نہیں تھی۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق 2026ء میں‘ اپریل سے جون کے دوران ملک بھر میں کم از کم 267پُرتشدد واقعات میں134 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ تقریباً 96فیصد شہادتیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز کے کسی جوان کی شہادت کی خبر میں صرف نام‘ رینک اور واقعے کا مقام بتایا جاتا ہے لیکن ان کے گھروں کے اندر ایک کرسی ہمیشہ کیلئے خالی ہو جاتی ہے‘ ایک موبائل نمبر خاموش ہو جاتا ہے‘ بچے سکول کے فنکشن میں دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور ماں رات گئے تک کسی آواز کا انتظار کرتی ہے۔ قومی پرچم میں لپٹا تابوت گھر پہنچتا ہے تو تنخواہ کے کسی ہندسے سے اس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وردی کے پیچھے بھی ایک انسان ہوتا ہے‘ جس کے خواب‘ رشتے‘ بچے‘ والدین اور مستقبل ہوتا ہے۔ مولانا صرف 24گھنٹوں کیلئے اپنے کسی صاحبزادے کو کسی محاذ پر بھیجنے کا تصور کرکے دیکھیں‘ شاید تب انہیں اندازہ ہو کہ ان ماؤں پر کیا گزرتی ہے جن کے جوان بیٹے گھر وں کو واپس آتے ہیں لیکن اپنے قدموں پر چل کر نہیں قومی پرچم میں لپٹے ہوئے۔ کسی فوجی کی ماں رات کو فون کی گھنٹی سے خوفزدہ ہوتی ہے‘ اس کی اہلیہ دروازے کی آہٹ سن کر چونکتی ہے اور اس کے بچے اپنے باپ کی واپسی کے دن گنتے ہیں۔ ایک ماں کا یہ جواب جذباتی ضرور ہے مگر اس میں ان ہزاروں خاندانوں کی آواز موجود ہے جو ہر حملے‘ ہر آپریشن اور ہر بریکنگ نیوز کے بعد اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کی بے تابی سے گزرتے ہیں۔
فوجی قیادت کے فیصلوں‘ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز اور پارلیمانی نگرانی پر سوال کرنا جمہوری حق ہے‘ منتخب نمائندوں کو اس بارے پوچھنا چاہیے کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے‘ سرحدی پالیسی کہاں ناکام ہوئی‘ بار بار ایک ہی علاقوں میں حملے کیوں ہو رہے ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں کو بہتر وسائل کیوں دستیاب نہیں۔ مگر احتساب کی بات ہونی ہے تو اس کا دائرہ صرف ایک ادارے یا ایک طبقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ عوام کو یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ دہائیوں سے اقتدار میں آنے والے سیاستدانوں کے اثاثوں میں غیرمعمولی اضافہ کیونکر ہوا؟ ان کے قریبی رشتہ دار‘ خاندان اور کاروباری مفادات چند برسوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئے؟ جن خاندانوں کے پاس کبھی محدود وسائل تھے وہ مہنگی گاڑیوں‘ وسیع کاروباری سلطنتوں اور پُرتعیش جائیدادوں کے مالک کیسے بن گئے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کے مستقل حل کیلئے مختلف ادوار میں حکومت کرنے والی سیاسی قیادت نے طویل المدتی اور مؤثر حکمت عملی کیوں نہ اپنائی؟ کیا قومی سلامتی پر یکساں پالیسی بنانے کے بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دی جاتی رہی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے عوام منتظر ہیں۔ مولانا وہ بات کیوں نہیں کرتے جو عوام پوچھنا چاہتے ہیں؟
عام شہری بھی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ 2025ء میں 580 شہری شہید اور 983 زخمی ہوئے جبکہ 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں 187 شہری جان سے گئے۔ شہدا کے احترام کا حقیقی تقاضا یہ نہیں کہ ہم صرف جنازے اٹھائیں‘ قومی پرچم لہرائیں اور چند دن بعد سب کچھ بھول جائیں۔ حقیقی احترام یہ ہے کہ ایسی پالیسی بنائی جائے جو اگلے جنازے کو روک سکے۔ دہشت گردی کی وجوہات‘ شدت پسندوں کی مالی معاونت اور مقامی آبادی کی محرومیوں پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن ملک کے تجربہ کار سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے رہنما کے الفاظ کسی عام کارکن کے الفاظ نہیں ہوتے‘ ان کا ایک ایک جملہ پورے ملک میں بحث چھیڑ سکتا ہے اور ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے احساسات کو مجروح کر سکتا ہے۔ تجربہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں کئی دہائیاں گزارنے کا نام نہیں بلکہ یہ جاننے کا نام بھی ہے کہ کون سا لفظ کہاں بولنا ہے اور کس موقع پر خاموشی زیادہ باوقار ثابت ہوتی ہے۔ اگر بیان کا مقصد ریاستی اور سکیورٹی پالیسیوں پر تنقید تھا تو اس کی واضح وضاحت ہونی چاہیے۔ اگر الفاظ کے انتخاب سے شہدا کے خاندانوں کو رنج ہوا ہے تو ان الفاظ کو واپس لینے یا معذرت کرنے میں کوئی امر مانع نہیں۔ معافی سیاسی شکست نہیں ہوتی‘ بعض اوقات ایک جملہ واپس لینا انسان کو چھوٹا نہیں بلکہ مزید بڑا بنا دیتا ہے۔ مولانا سیاست کریں‘ حکومت پر بھرپور تنقید کریں‘ اداروں سے جواب طلب کریں‘ یہ ان کا جمہوری حق ہے‘ لیکن شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ کے ایک لفظ میں محدود کرنا نہ تاریخی انصاف ہے اور نہ اخلاقی دیانت۔ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو طاقتور سے سخت سوال پوچھے‘ مگر قربانی دینے والے کے گھر کی دہلیز پر پہنچ کر اپنے لہجے کو نرم کرنا ہی انصاف اور فراست کا تقاضا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved