اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو اَن گنت نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ اگر انسان اپنے داخل پر غور کرے تو دیکھنے والی آنکھ‘ سننے والے کان‘ پکڑنے والے ہاتھ‘ چلنے والے قدم‘ دھڑکتا ہوا دل اور سوچنے والا دماغ‘ یہ سب اللہ تبارک وتعالیٰ کی بے مثل نعمتیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو والدین‘ بہن‘ بھائی‘ شریکِ زندگی اور اولاد کی نعمت سے بھی نوازا ہے۔ روزگار‘ صحت اور فراغت بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ زندگی کے مختلف ادوار میں ان نعمتوں سے محروم ہو جانے کی وجہ سے تکالیف کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مادی نعمتوں کی موجودگی میں بھی غم اور پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ انسانوں کی زندگی میں آنے والی مشکلات اور پریشانیوں کے اسباب پر غور کیا جائے تو تین اہم وجوہات سامنے آتی ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش: اس زمین پر صالح و گنہگار‘ نیک اور بد‘ ہر طرح کے لوگ پیدا کیے گئے ہیں۔ بہت سے نیک لوگوں کو بھی زندگی میں مختلف طرح کی تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اہلِ ایمان کو مختلف طریقوں سے آزماتے اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ان مصائب پر کس انداز سے صبر کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 155 تا 157 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے‘ دشمن کے ڈر سے‘ بھوک پیاس سے‘ مال و جان اور پھلوں کی کمی سے‘ اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔ اسی حقیقت کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ العنکبوت کی آیات: 2 تا 3 میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے: ''کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں‘ ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقینا اللہ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کر لے گا جو جھوٹے ہیں‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ جب انسان ایمان اور یقین کے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی آزمائش کرتے ہیں۔ اس قسم کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے انسانوں کو صبر‘ توکل اور دعا کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔ جب صالح انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تکالیف کو دور کر دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کی بہت سی دعائوں کا ذکر کیا کہ جب انہیں تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا ہوا تو انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی اور اللہ نے ان کی تکالیف کو دور فرما دیا۔
2۔ گناہوں کا نتیجہ: انسان زندگی میں بہت سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام حمید میں مختلف مقامات پر اس بات کو واضح کیا کہ انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی اعمال کی وجہ سے بھی انہیں مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہیں‘‘۔ اسی طرح جب انسان اجتماعی طور پر گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے تو سماج کو اجتماعی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الروم کی آیت: 41 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ''خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ چکھا دے‘ ممکن ہے کہ وہ باز آ جائیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ النحل میں ایک ایسی بستی کا ذکر کیا جس کو امن‘ اطمینان اور رزق کی نعمتیں حاصل تھیں مگر ناشکری کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان نعمتوں کو چھین لیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 112 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اللہ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آ رہی تھی۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا‘‘۔ جب انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے تکالیف کا شکار ہو جائے تو اس کو توبہ و استغفار کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں تین کبیرہ گناہوں اور اُن کے انجامِ بد کا ذکر کیا اور اس کے بعد توبہ‘ ایمان اور اعمالِ صالحہ کے نتیجے میں ان گناہوں کی معافی کا بھی ذکر فرمایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 68 تا 70 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے‘ نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ اسے قیامت کے دن دُہرا عذاب دیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں‘ ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے (اور) اللہ بخشنے والا‘ مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔
3۔ مجرموں کے لیے عذاب کا کوڑا: بعض لوگ برائی پر اصرار کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی اور بغاوت کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کئی مرتبہ ایسے مجرموں کو دنیا میں بھی مختلف طرح کی تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا کرتا اور بعد میں آنے والوں کے لیے انہیں نشانِ عبرت بنا دیتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ العنکبوت میں بہت سے ایسے گروہوں کا ذکر کیا جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ العنکبوت کی آیات: 36 تا 40 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا‘ انہوں نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے (مردہ ہو کر) رہ گئے۔ اور ہم نے عادیوں اور ثمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ظاہر ہیں اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راہ سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے۔ اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی‘ ان کے پاس موسیٰ کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے‘ پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے۔ پھر ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کر لیا‘ ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا‘ اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں‘‘۔ مجرموں کی بداعمالیوں پر اللہ تبارک وتعالیٰ وقتی طور ان کو ڈھیل دیتے ہیں لیکن جس وقت وہ نافرمانی پراصرار کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو اپنے غضب کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔
اگر انسان پریشانیوں اور تکالیف کے اسباب پر غور کرنا چاہے تو کلام اللہ میں اس حوالے سے بہترین رہنمائی موجود ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو تکالیف اور پریشانیوں سے محفوظ فرمائے اور جن تکالیف اور پریشانیوں کا ہمیں سامنا ہے‘ ان سے نجات دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved