تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     23-07-2026

جنگ میں نئی جنگ

ایران پر امریکی حملوں میں شدت کے بعد امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے (Desalination) پلانٹس پر حملوں نے جنگ کے دوران ایک نئی جنگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نئی جنگ ہے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو بچانے کی جنگ۔ یاد رہے کہ ایران نے خلیجی ممالک کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے امریکہ کی جانب سے اپنے ایسے ہی پلانٹس پر حملوں کے ردِ عمل میں کیے ہیں۔ اگر پہلے امریکہ کی جانب سے ایران کے واٹر پلانٹس پر حملے نہ کیے جاتے تو یقینا ایران کی جانب سے بھی اس پر ردِعمل ظاہر نہ کیا جاتا۔
خطرہ یہ ہے کہ اگر سمندری پانی صاف کرنے والے ان پلانٹس کو زیادہ نقصان پہنچا‘ یا یہ سب تباہ کر دیے گئے تو خلیج کونسل کے چھ کے چھ ممالک کی سوا چھ کروڑ آبادی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ یہ پلانٹس خلیجی ممالک کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ عرب کے صحرائی علاقے میں زیر زمین زیادہ تر فوسل فیولز ہیں لیکن کچھ علاقوں میں زیر زمین پانی دستیاب ہو جاتا ہے۔ زمین کے نیچے کا پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنایا جانے والا پانی‘ دونوں مل کر اس خطے کے پانی کے ذرائع کا تقریباً 90 فیصد ہیں۔ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس پر ہونے والے حملوں نے پورے خطے میں ہر طرح کی حیات اور معیشت کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایرانی افواج پر ملک کے ایک واٹر پلانٹ کو دوسری بار نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے‘ جس کے بعد خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن یہ الزام محض ایران پر نہیں لگایا جا سکتا‘ ایران نے تو ردِ عمل دیا ہے‘ آغاز امریکہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔
دنیا کے بہت سے ممالک‘ خصوصاً وہ علاقے جہاں بارش کم ہوتی ہے‘ جہاں میٹھے پانی کے قدرتی ذخائر محدود ہوتے ہیں‘ یا جہاں زیر زمین پانی کے ذخائر نایاب ہیں‘ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والی جدید ٹیکنالوجی یعنی ڈی سیلینیشن پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈی سیلینیشن واٹر پلانٹس سمندری پانی سے نمکیات اور دیگر مضر اجزا کو الگ کر کے اسے پینے‘ زراعت‘ صنعت اور روزمرہ کے دوسرے کاموں کے لیے استعمال کے قابل بناتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں‘ خلیج کا موسم انتہائی گرم اور خشک ہے۔ یہاں بارشیں بھی بہت کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے قدرتی ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ خلیجی ممالک سمندروں کے کنارے واقع ہیں چنانچہ وہاں کی حکومتوں نے یہ کمی سمندری پانی صاف کر کے پینے کے قابل بنانے کے پلانٹ لگا کر پوری کی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کے ساحلوں پر 400 سے زیادہ واٹر پلانٹس موجود ہیں۔ پوری دنیا میں سمندری پانی صاف کرنے کی جتنی بھی صلاحیت موجود ہے اس کا 60فیصد صرف ان خلیجی ممالک کے پاس میں ہے اور یہ 60فیصد پلانٹس کُل صاف کیے گئے پانی کا 40 فیصد صاف کرتے ہیں۔ یہ پلانٹس خلیجی ممالک کے لیے کس قدر اہمیت کے حامل ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کویت پینے کے لیے 90فیصد‘ عمان 86فیصد‘ سعودی عرب 70فیصد اور متحدہ عرب امارات 42فیصد پانی انہی پلانٹس سے حاصل کرتے ہیں۔ ایران بھی اپنے ساحلی علاقوں جیسے جزیرہ قشم میں ایسے پلانٹ استعمال کرتا ہے لیکن اس کے پاس بہت سے دریا اور ڈیم بھی موجود ہیں اور میٹھے پانی کے قدرتی ذرائع بھی ہیں‘ اس لیے ایران کو ایسے پلانٹس کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا اگر یہ پلانٹس کسی بھی وجہ سے تباہ ہو جائیں تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ معیشت‘ ماحول‘ صحتِ عامہ اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلا اور نمایاں نتیجہ پانی کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آتا ہے‘ حتیٰ کہ پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں رہتا‘ نہانے اور دوسرے مقاصد کے لیے پانی کی دستیابی تو بعد کی بات ہے۔ خلیجی ممالک صفائی کے پلانٹوں سے حاصل ہونے والا پانی زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں تو جب پانی نہیں ملے گا تو ان ممالک کی جو بھی تھوڑی بہت زراعت ہے وہ شدید طور پر متاثر ہو گی۔ صنعتی ادارے اپنی پیداوار کے مختلف مراحل میں بڑی مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ بجلی گھروں‘ کیمیکل فیکٹریوں‘ خوراک تیار کرنے والی صنعتوں‘ ادویات کی تیاری اور دیگر شعبوں کے لیے مسلسل پانی کی فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ڈی سیلینیشن پلانٹس مکمل تباہ ہو گئے تو ان ممالک کی صنعتیں بھی تباہ ہو جائیں گی۔
اسلامی نقطۂ نظر سے جنگ کے دوران پانی کے حوالے سے اہم اصولوں میں دشمن پر پانی کی سپلائی بند نہ کرنا‘ عام شہریوں کی پینے کے پانی کی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچانا اور زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پانی فراہم کرنا شامل ہیں۔ اسلامی قانونِ جنگ میں دشمن کے کنویں‘ نہریں یا پانی کے ذخائر بند کرنے یا انہیں زہر آلود کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ انسان اور حیوانات پیاس سے ہلاک نہ ہوں۔ افواج کی پیش قدمی کے وقت فصلوں کو خراب کرنا‘ کھیتوں کو تباہ کرنا‘ بستیوں میں قتلِ عام اور آتش زنی کرنا اسلامی نقطۂ نگاہ سے ناجائز اور حرام ہے۔ پانی کے ذرائع کو بھی اسی حکم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے مطابق جنیوا کنونشنز کے تحت ایسے تمام ذرائع اور اشیا کو تباہ کرنا ممنوع ہے جو عام لوگوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں‘ جن میں پینے کے صاف پانی کا نظام سرِ فہرست ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جنگ کے دوران پانی کے پلانٹس‘ ڈیموں یا سپلائی لائنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی رو کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں پانی کے ذرائع کو تباہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ اور سب سے پہلی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی ایران کے ساتھ جنگ چل رہی ہے تو دنیا کی واحد سپر پاور کا سربراہ ہونے کے ناتے صدر ٹرمپ کے لیے لازمی ہے کہ وہ جنگ کے عالمی اصولوں کو سامنے رکھ کر ایران میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنانا بند کریں۔ گارنٹی ہے کہ ایران کی جانب سے بھی حملے فوراً بند ہو جائیں گے۔ باقی اگر پانی کے ذرائع پر حملہ کرنا جنگی جرم ہے تو اس کے تحت سب سے پہلے صدر ٹرمپ کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ ایران کے واٹر پلانٹس پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ عام زندگی ہی میں نہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دوران بھی اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ وہ تو نہیں ہو سکا‘ اب اسے یہ تو یقینی بنانا چاہیے کہ جو جنگ ہو رہی ہے وہ تو جنگی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved