تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     23-07-2026

پٹرولیم مصنوعات، آسان کاروبار اور گوادر

حکومت کے نئے فیصلے کے مطابق اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ پٹرول پمپوں نے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا تھا تاہم گزشتہ روز وزیر مملکت برائے پٹرولیم سے ملاقات کے بعد یہ اعلان واپس لے لیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان اپنی فیول ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ ملکی درآمدی بل میں پٹرولیم مصنوعات کا حصہ تقریباً 15 ارب ڈالر سالانہ ہے‘ اس وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر‘ تجارتی خسارے اور مہنگائی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ ایران امریکہ کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیزل کا بین الاقوامی بینچ مارک تقریباً 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا‘ جس نے پاکستان سمیت دنیا بھر کو متاثر کیا۔ اگرچہ دنیا کے کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتیں مارکیٹ کی بنیاد پرروزانہ تبدیل ہوتی ہیں۔ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ سنگاپور‘ جرمنی‘ برطانیہ‘ فرانس اور سپین میں حکومتیں قیمت مقرر کرنے کے بجائے مارکیٹ میکانزم کے نظام پر انحصار کرتی ہیں۔لیکن پاکستان کے حالات ترقی یافتہ ممالک سے مختلف ہیں۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف خام تیل کی قیمت پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس میں پٹرولیم لیوی‘ کلائمیٹ لیوی‘ کسٹمز ڈیوٹی‘ ڈیلرز مارجن‘ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور دیگر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بھی شامل ہوتے ہیں۔ تاہم روزانہ قیمتوں کے نظام کا ایک فائدہ ذخیرہ اندوزی میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ جب قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ہر روز تبدیل ہوں گی تو مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع کمانے کے مواقع کم ہو سکتے ہیں‘ تاہم اس نظام سے پمپ مالکان اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو انوینٹری اور اخراجات کے انتظام میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب عوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام محض بڑھتی قیمتوں کی کڑوی گولی آہستہ آہستہ عوام کو دینے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ اوگرا عالمی مارکیٹ کے بینچ مارک نرخ اگر درست انداز میں عوام کے سامنے رکھے اور قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے پر مدلل وضاحت دے تو عوامی سطح پر اس نظام کی قبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت پمپ مالکان اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اس معاملے پر مکمل اعتماد میں لے کیونکہ یکطرفہ طور پر کیے گئے فیصلے کبھی پائیدار نہیں ہوتے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں آسان کاروبار سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ آسان کاروبار ایکٹ 2025ء اور کاروبار میں آسانی کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 558 اصلاحات مکمل ہو چکیں‘ 71 اصلاحات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا اور 272 مزید اصلاحات پر کام جاری ہے۔ ماضی میں کاروباری اصلاحات کے متعدد مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے۔ 2016ء کے بعد تقریباً 300 اصلاحات نافذ کی گئی تھیں جن کے نتیجے میں کاروباری ماحول کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان نے 39 درجے بہتری حاصل کی تھی اور جنوبی ایشیا کے نمایاں اصلاحاتی ممالک میں شامل ہوا تھا۔ کمپنی رجسٹریشن کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے سے کاروبار شروع کرنے کا وقت بھی نمایاں طور پر کم ہوا تھا۔ سروسز کے آن لائن ہونے سے سرمایہ کاروں کو سرکاری دفاتر کے چکر کم لگانے پڑتے ہیں۔ سرمایہ کار صرف ٹیکس رعایتیں نہیں دیکھتے بلکہ وہ یہ بھی جانچتے ہیں کہ کمپنی رجسٹر کرانے‘ فیکٹری لگانے‘ بجلی و گیس کا کنکشن حاصل کرنے اور درآمد و برآمد کے اجازت نامے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال 20 سے 25 لاکھ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں۔ ملکی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب تقریباً 64 فیصد ہے‘ جوملک کے لیے بڑی معاشی طاقت بھی بن سکتا ہے اور روزگار کے مواقع نہ ملنے کی صورت میں بڑا معاشی دباؤ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ آسان کاروبار ایکٹ اور دیگر اصلاحات اگر حقیقی معنوں میں نافذ ہو گئیں تو پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی آئے گی‘ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا اور معیشت ایک نئے ترقیاتی دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کا ایک پرچم بردار کارگو جہاز سنگاپور سے گوادر پہنچا جس پر 53 ہزار ٹن سے زائد سٹیل لدا تھا جو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ الحمریہ منتقل کیا جانا تھا۔ بظاہر یہ ایک معمولی بحری سرگرمی دکھائی دیتی ہے لیکن اس پس منظر میں پاکستان کی معاشی ترقی‘ علاقائی تجارت‘ سی پیک کا مستقبل اور گوادر پورٹ کی بڑھتی اہمیت جیسے موضوعات زیر بحث آ رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سامان گوادر کے ذریعے ٹرانس شپمنٹ کیا جا رہا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں گوادر کو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد تجارتی مرکز سمجھ رہی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ اور بحیرہ عرب میں جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ انڈسٹری دباؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز‘ باب المندب‘ بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں پر پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال کے بعد دنیا بھر کی تجارتی کمپنیاں متبادل بندرگاہوں اور محفوظ راستوں کی تلاش کیلئے کوشاں ہیں۔ ایسے حالات میں گوادر پورٹ پر بین الاقوامی جہازوں کی آمد پاکستان کیلئے خوش آئند پیش رفت ہے۔ گوادر آبنائے ہرمز سے تقریباً 220 ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ عالمی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور تجارتی ادارے اس خطے میں واقع بندرگاہوں کو خصوصی اہمیت دینے لگے ہیں۔ دنیا کی کامیاب بندرگاہوں کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ سنگاپور‘ دبئی اور روٹرڈیم جیسی بندرگاہیں صرف مقامی تجارت پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ سنگاپور کی بندرگاہ ہر سال تقریباً 40 ملین ٹی ای یوز کنٹینرز ہینڈل کرتی ہے جبکہ دبئی کی جبل علی پورٹ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی بندرگاہ بن چکی ہے۔ ان بندرگاہوں نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کیاہے۔ گوادر پورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ چین‘ افغانستان‘ وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتیٰ کہ روس کو بھی کھلے سمندر تک رسائی کا ایک مختصر راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ اگر وسطی ایشیا کی معدنیات‘ زراعت اور صنعتی مصنوعات گوادر کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچنے لگیں تو پاکستان کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ فیس اور لاجسٹک آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
ایک اور اہم خبر یہ ہے حکومت نے چاول کے برآمد کنندگان کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک سکیم میں تین ماہ کی توسیع اور اضافی رعایت کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً 20 ارب روپے کی ڈیوٹی ڈرا بیک سکیم کی مدت 30 جون سے بڑھا کر 30 ستمبر 2026ء تک کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ نان باسمتی چاول پر رعایتی ڈیوٹی ڈرا بیک تین فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ باسمتی چاول پر نو فیصد رعایت برقرار رکھی گئی ہے۔ اس اقدام سے عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی قیمتوں کو بھارتی چاول کے برابر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے صرف سبسڈی یا ڈیوٹی ڈرا بیک کافی نہیں ہوتا۔ اگر زرعی پیداوار‘ جدید بیج‘ پانی کے بہتر استعمال‘ سٹوریج سہولتوں اور لاجسٹکس کے مسائل حل نہ کیے جائیں تو طویل مدت میں برآمدات میں بڑے اہداف کو حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں چاول کی فی ایکڑ پیداوار اب بھی کئی زرعی ممالک سے کم ہے‘ جس کی وجہ سے یہاں پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے‘ ایسے میں 20 ارب روپے کی اضافی رعایت سرکاری خزانے پر ایک بوجھ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رعایت واقعی برآمدات میں اتنا اضافہ کر سکے گی کہ حکومت کو اس سبسڈی کا فائدہ زرمبادلہ کی صورت واپس مل سکے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved