تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     23-07-2026

بندہ پرور کب تلک؟

بیچ بچاؤمزید کتنی مرتبہ؟ ثالثی مزید کتنی بار؟ فریقین کو ایک معاہدے پر اکٹھا کرنے کی کوششیں کتنی دفعہ اور؟ ہر کوشش کی ایک حد ہوتی ہے۔ مسلسل‘ اَن تھک کوششوں کی حد سے اوپر اگر کوئی چیز رہ جاتی ہے تو صرف مقدرات۔ جو اَنہونی ٹالنے کیلئے یہ کوششیں کی جا رہی ہوتی ہیں لیکن جو مقدر ہے‘ وہ انہونی ایک دن آپ کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
حکمرانوں اور حکومتوں کے مزاج نہیں بدلے جا سکتے۔ بالخصوص جب وہ اپنے نظریات میں پکے ہو چکے ہوں اور جب کسی قسم کی ضد اور ٹیڑھ ان کے اندر موجود ہو۔ یا طاقت کا گھمنڈ ہو‘ یا کسی بھی قسم کی انتہا پسند جذباتیت خون میں دوڑتی ہو۔ آپ کتنے بھی خلوص اور خیر خواہی سے ان کی بہتری کے لیے مشورے دیں‘ کوششیں کریں‘ بالآخر مقناطیسی سوئی قطب ہی کی طرف مڑ کر رہتی ہے۔ زمین چاہے پیروں تلے سرک جائے‘ گل محمد اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا۔
اگر کسی ذہن کے کسی گوشے میں یہ مفروضہ کلبلاتا ہے کہ 80 سالہ امریکی صدر کا مزاج ایرانی جنگ کی وجہ سے بدل سکتا ہے تو اسے اچھے دماغی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ 76 سالہ بینجمن نیتن یاہو اس عمر میں بدل جائے گا اور مسلم دنیا اور باقی دنیا کو چین سے رہنے دے گا تو اسے دماغ کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی بند کر لینی چاہئیں۔ اور یہ تو ایک طرف کی بات ہوئی۔ دوسری طرف کی بات بھی مختلف نہیں۔ 1979ء سے ایرانی حکومت کا بھی ایک مزاج ہے‘ ایک تاریخ ہے اور ایک نظریہ ہے۔ یہ نظریہ ڈھکا چھپا بھی نہیں۔ انہیں اپنا نظریہ‘ اپنا انقلاب‘ اپنا فلسفہ برآمد کرنا اور کرتے رہنا ہے۔ خواہ اس کیلئے دنیا عالمی جنگ میں کود پڑے‘ خواہ عرب دنیا سمیت مسلمانوں کا کتنا ہی خون مزید بہے۔ اور خواہ ایران اس کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن جائے۔ کتنے ہی مسلم ملکوں میں خانہ جنگی چھڑ جائے‘ بحری راستے‘ فضائی راستے بند ہو جائیں۔ خیر خواہ اور ثالث خود مصیبت کا شکار ہو جائیں۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے لیکن یہ مزاج بدلتا دکھائی نہیں دیتا۔ تو ایسے فریقین کے درمیان صلح کی کوشش دراصل خود ایک جنگ سے کم نہیں۔ کیسی کیسی اَن تھک کوششیں کی گئیں۔ پاکستان تو خیر مرکزی ثالث تھا ہی لیکن سعودی عرب‘ مصر‘ ترکیہ نے بھی جنگ بند کروانے کی کتنی کوششیں کیں۔ قطر مصالحت کیلئے بیچ میں آیا۔ اپنی جان خطرے میں ڈال کر پاکستان کی اعلیٰ ترین شخصیات بار بار ایران گئیں۔ ایرانی مقتدر شخصیات کے اسلام آباد دورے کا بندوبست پاکستان نے اس حال میں کیا کہ وہ اپنی پناہ گاہوں سے نکلنے پر قادر نہیں تھے‘ خطرہ تھا کہ کسی بھی وقت اسرائیل انہیں نشانہ بنا لے گا۔ ایرانی وفد کی فضائی‘ زمینی حفاظت کا کون سا ایسا طریقہ تھا جو پاکستان کے بس میں تھا اور اس نے نہیں کیا۔ میرے دل کی بات یہ ہے کہ اگرچہ ایرانی صدر‘ سپیکر‘ وزیر خارجہ کی طرف سے اس کا اعتراف بھی کیا گیا تاہم ان کوششوں کی جیسی قدر ہونی چاہیے تھی‘ وہ نہیں دیکھی گئی۔ اس کے برعکس ایرانی صحافیوں اور کچھ ترجمانوں کی ایسی باتیں بھی سنائی دیں جن سے دل خراب ہوئے۔ یہ باتیں کسی اور ملک کی طرف سے ہوتیں تو اتنی دلخراش نہ ہوتیں۔ اتنی کوشش کسی اور ملک کیلئے کی گئی ہوتی‘ اور ملک بھی وہ جو تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو‘ تو اس کی طرف سے زیادہ اور بہتر شکرگزاری کے جذبات ملتے۔
اَن گنت کوششوں اور جزئیات کی روداد چند جملوں میں کیسے سمیٹی جائے۔ وہ کوششیں جو بالآخر سوئٹزر لینڈ کے معاہدے تک جا پہنچیں لیکن سوئٹزر لینڈ کے برگن سٹاک ریزارٹ میں مذاکرات بھی آخر وقت تک غیریقینی رہے۔ عین وقت پر ایرانی وفد کے تمام تحفظات دور کرنا بھی پاکستان کا مقدر ٹھہرا۔ تحفظات بھی اتنے باریک اور نازک کہ کوئی اور فریق شاید اسے سوچے بھی نہیں۔ لیکن یہ تحفظات بھی حل کر دیے گئے اور خدا خدا کرکے مشترکہ اعلامیہ دونوں طرف سے جاری ہو گیا۔ اگلے 60 دن میں مزید مذاکرات کی خوشخبری بھی سنا دی گئی۔18 جون کو یہ سب ہوا اور ابھی 30 دن بھی نہیں گزرے تھے کہ اس معاہدے کی اوقات ٹکے ٹوکری والی ہو گئی۔ اس وقت تیرہ راتوں سے ایرانی شہروں پر امریکی فضائی‘ میزائل اور ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ بندر عباس‘ جزیرہ قشم‘ چابہار اور اصفہان وغیرہ میں دھماکے ہو رہے ہیں۔ درخو ون جوہری پاور پلانٹ پر امریکی حملہ ہوا ہے۔ یہ امریکی دھمکیاں تو بہت مدت سے جاری ہیں کہ پلوں‘ ڈیموں‘ بجلی گھروں سمیت ایرانی انفرا سٹرکچر کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں ایران نے کویت‘ بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ قطر جو ایک مرکزی ثالث ہے‘ اس پر بھی ایرانی حملے ہوئے ہیں۔ پراکسی کے ذریعے سعودی عرب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بحری جہازوں پر حملے ان کے علاوہ ہیں۔ کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جنگ بدستور جاری ہے‘ عرب ممالک بدستور لپیٹ میں ہیں‘ اور آبنائے ہرمز بدستور غیرمحفوظ ہے۔ باب المندب بند ہونے کا معاملہ سر پر ہے۔ تیل کا مسئلہ اسی طرح بنا ہوا ہے۔ گویا جہاں سے اونٹنی چلی تھی‘ وہیں واپس آکھڑی ہوئی۔ ایسے معاملے اور ایسے فریقوں میں ثالث کون بنے۔ وہ جو مصرع ہے ''بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک‘‘ یہاں پورا اترتا ہے۔
اس بے عقلی کا ماتم کیسے کیا جائے‘ اس سارے منظر میں اسرائیل آرام سے بیٹھا ہوا ہے۔ جو اصل ایرانی دشمن ہے‘ جس نے ایرانی قیادت کو ختم کر دیا‘ ایران میں سینکڑوں ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے‘ اس کا بال بھی بیکا نہیں ہو رہا۔ باقی لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو برباد کر رہے ہیں اور صہیونی منصوبہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایران کی غلط حکمت عملی بلکہ بے عقلی کی بات کی جائے تو جواب میں یہی سننے میں آتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ بھی تو معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں‘ وہ بھی تو خونریزی کے ذمہ دار ہیں‘ وہ بھی تو خطے کو جنگ میں جھونک رہے ہیں۔ یہ جواب خود جذباتیت اور ہوشمندی سے کوسوں فاصلے پر ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی ملک کا امریکہ اور اسرائیل پر بس چل رہا ہوتا تو کیا غزہ میں اتنی شہادتیں ہوتیں۔ کیا فلسطینیوں کی یہ حالت ہوتی۔ نیتن یاہو کے عزائم اور منصوبے تو سب کے سامنے ہیں۔ اس کی ایک پوری سفاک تاریخ ہے۔ لیکن یہ کون سی عقل کی بات ہے کہ اس کے حوالے دے کر ایران خود کو ملیا میٹ اور تہس نہس کر لے۔ کوئی ایرانی یہ تو سوچے کہ حالیہ کارروائیوں سے امریکہ یا اسرائیل کا کیا بگڑ رہا ہے‘ چند فوجی اڈے تباہ ہونے یا چند امریکی فوجی ہلاک ہونے سے کیا اس جنگ کا رخ بدل سکتا ہے؟ کیا یہ ایران کی جیت ہو گی؟ کیا اس طرح ایران اسرائیل اور امریکہ کی جارحیتوں سے محفوظ ہو جائے گا؟ ان میں سے کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب ایسی خود مختار طاقت نظر آتی ہے جسے نہ کوئی روکنے والا ہے‘ نہ کوئی اس کا ذہن بدلنے والا۔
کسی جنگ میں جذبہ بہت اچھی لیکن جذباتیت بہت بری چیز ہے۔ دنیا کو نظر آرہا ہے کہ ایران جذبات کی بنیاد پر فیصلے کر رہا ہے۔ اسلام آباد معاہدے میں ایران نے جو کچھ حاصل کر لیا تھا‘ اس پر ہم سب خوش تھے کہ ایران خود کو معاشی مسائل سے نکال کر ترقی کی راہ پر چل سکے گا لیکن ایران نے یہ سب فوائد ملیامیٹ کر دیے۔ اب جوہری ہتھیار کا معاملہ تو پیچھے رہ گیا۔ ایران سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی شکل میں بڑا جوہری ہتھیار ہاتھ آ گیا ہے‘ لیکن عرب ملکوں سمیت پوری دنیا میں ہوا کا رخ ایران کے خلاف ہے۔ ایران کے لیے جو ہمدریاں تھیں وہ کم یا ختم ہورہی ہیں۔ بات وہی ہے کہ آپ کسی کی خیر خواہی کر سکتے ہیں‘ مشورہ دے سکتے ہیں‘ مدد کر سکتے ہیں لیکن اس کا مزاج نہیں بدل سکتے۔ وقت یہ ثابت کر رہا ہے کہ ایران کا مزاج بدلا نہیں جا سکتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved