بھارت میں آج جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کا اندازہ دنیا کو چھوڑیں خود بھارت میں بھی کسی کو نہیں تھا۔ دنیا حیران ہے کہ بی جے پی‘ جو بھارت پر 2050ء تک حکمرانی کا روڈ میپ لے کر بیٹھی ہوئی ہے‘ اس وقت بدترین مظاہروں کا سامنا کر رہی ہے۔ مظاہرے کرنے والی نوجوان نسل ہے جو اتنی شدت سے حکومت سے ٹکرائی ہے کہ حکمرانوں کو اندازہ ہی نہیں ہو رہا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دو دن میں ہی ہزاروں طالب علم باہر نکل کر وزیراعظم مودی سے استعفیٰ مانگ لیں گے۔ جو بات وزیرِ تعلیم کے استعفے سے شروع ہوئی تھی وہ اب مودی کے استعفے تک پہنچ گئی ہے۔
کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا ہے؟ میں نے ایک کالم میں لکھا تھا‘ جس پر بڑی تنقید بھی ہوئی تھی اور مذاق بھی اڑایا گیا تھا کہ پاپولسٹ لیڈر اپنے معاشرے اور ممالک کیلئے ہمیشہ نقصان اور بربادی لاتے ہیں۔ ایسے لیڈر سب سے بڑی دشمنی جمہوریت کے ساتھ کرتے ہیں کہ پاپولزم کا سہارا لے کر وہ ایسے دیوتا بن جاتے ہیں جن پر بات کرنا بھی گستاخی قرار پاتا ہے اور ناقدین پر مقدمے تک درج ہو جاتے ہیں۔ ان کا احتساب کرنے کا آپ سوچ بھی نہیں سکتے‘ نہ ہی سوال اٹھا سکتے ہیں۔ وہ عوام کو بانس پر چڑھا دیتے ہیں اور انہیں عظمت کی ایسی فرضی کہانیاں سناتے ہیں جنہیں سن کر انہیں ایسا نشہ چڑھتا ہے جو برسوں تک نہیں اترتا۔ مگر جب یہ نشہ اترتا ہے تو وہ سب سے پہلے اسی پاپولسٹ لیڈر کے پیچھے جاتے ہیں اور اسے کرسی سے کھینچ کر اتار دیتے ہیں۔
پچھلے پندرہ‘ بیس برسوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں پاپولسٹ لیڈروں کو عروج حاصل ہوا ہے‘ جنہوں نے اپنے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ دنیا کی بہت عظیم قوم تھے جو دنیا پر حکمرانی کرنے کیلئے پیدا ہوئے تھے لیکن موجودہ سیاستدانوں نے ان کا اور ملک کا بیڑا غرق کر دیا۔ وہ انہیں قومی عظمت کی جھوٹی سچی کہانیاں سناتے ہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ جس مسیحا کا وہ برسوں سے انتظار کر رہے تھے‘ بالآخر وہ آن پہنچا ہے۔ یوں وہ اپنے اردگرد ایسا بڑا حلقہ بنا لیتے ہیں کہ لوگوں کو کوئی دیو مالائی کردار لگنے لگتے ہیں۔ ایک ایسا غیرمعمولی انسان‘ جو اُن کے دکھ درد دور کرے گا اور انہیں پھر سے عظیم بنائے گا۔
پاکستان میں بھی پاپولسٹ لیڈر ابھرے‘ جنہوں نے ایسی کہانیاں سنائیں اور ملک کو عظیم بنانے کے نعرے لگائے۔ یہی کام بھارت میں مودی نے کیا اور امریکہ میں ٹرمپ نے کہ امریکہ کو دوبارہ گریٹ بناؤں گا۔ یہ پاپولسٹ لیڈرز عوام کی واہ واہ اور بلّے بلّے سے چلتے ہیں لہٰذا انہیں روزانہ کچھ نہ کچھ نیا عوام کو دینا ہوتا ہے تاکہ وہ ان کے ساتھ جڑے رہیں اور اپنے دیوتا کے چوائس پر فخر کرتے رہیں۔ اس کام کیلئے میڈیا سیل بنائے جاتے ہیں‘ فوٹو شاپ کے ذریعے لیڈر کا امیج بہت بڑا بنایا جاتا ہے‘ اس کی شخصیت کے گرد ایسی طویل دیوار تعمیر کی جاتی ہے کہ جسے دیکھنے کیلئے وہ سب آسمان کو دیکھتے رہیں۔ سوشل میڈیا پر اس سے جڑی مبالغہ آمیز کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ دھیرے دھیرے عوام کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے کہ ان کا ملک اس لیڈر کے بغیر چلنا چھوڑیں‘ قائم تک نہیں رہ پائے گا۔ یوں لوگ اندر سے ڈر جاتے ہیں کہ ان کے لیڈر کو کچھ ہو گیا تو ملک نہیں رہے گا اور پھر ان کا کیا بنے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب وہ لیڈر اُن کی برین واشنگ کر کے اپنے سیاسی مخالفین یا اداروں کو ملکی ترقی کا دشمن قرار دیتا ہے اور معاشرے میں نفرت اور تقسیم کا بیج بونے لگتا ہے۔ وہ اپنا الگ سے ایک کلٹ بناتا ہے جو اس کے مخالفین کا جینا حرام کر دے۔ لوگ جمہوریت بھول جاتے ہیں اور وہ معاشرہ عدم برداشت اور نفرت پر پلنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ جمہوریت‘ جو سیاستدانوں یا عوامی نمائندوں کی جواب طلبی کی شکل ہوتی ہے‘ الٹا عوام کے گلے کا پھندا بنا دی جاتی ہے۔ ان پر سختیاں کی جاتی ہیں‘ پولیس اور اداروں کا استعمال‘ نت نئے قوانین اور پھر ان لیڈروں کا دل گھر جانے کو نہیں کرتا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو‘ جنہوں نے لیڈر کو سر آنکھوں پر بٹھایا تھا‘یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔
حسینہ واجد سولہ سال بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ مودی بارہ سال سے بھارت کے وزیراعظم ہیں۔ آپ کہیں گے کہ برطانیہ میں بھی تو تین تین ٹرم کے وزیراعظم رہے ہیں یا دنیا کے دیگر ممالک میں بھی۔ ذہن میں رکھیں کہ یورپ میں سیاسی نظام‘ قوانین اور عوام کا شعور بہت بلند ہے۔ وہاں وزیراعظم ڈکٹیٹر نہیں بن سکتا۔ برطانیہ دیکھ لیں‘ وہاں دس برسوں میں ساتواں وزیراعظم آیا ہے کہ اگر ڈلیور نہیں کر سکتے تو گھر جائو‘ کسی اور کو موقع دو۔ اب سوال اٹھے گا کہ ٹرمپ بھی تو امریکہ میں یہی کام کر رہا ہے۔ جی بالکل! مگر امریکہ میں آپ تیسری دفعہ صدر نہیں بن سکتے۔ جارج واشنگٹن نے یہ روایت قائم کی تھی۔ دو دفعہ صدر بننے کے بعد اسے تیسری دفعہ الیکشن لڑنے کو کہا گیا تو اس نے کہا: نہیں! بس دو دفعہ کافی ہے‘ اب کوئی نیا بندہ میری جگہ لے۔ یہ روایت اس وقت سے چلی آ رہی ہے کہ جمہوریت میں ایک بندے کا طویل عرصے تک کا اقتدار میں رہنا ملک‘ معاشرے اور جمہوریت کیلئے خطرناک ہوتا ہے۔ جمہوریت تو لائی گئی تھی بادشاہوں کے خلاف‘ جو پچاس پچاس سال تک ملک پر حکمرانی کرتے‘ وہ مرتے یا بغاوت ہوتی تو ہی اقتدار بدلتا تھا اور پھر اگلا بادشاہ بھی چالیس‘ پچاس سال تک کے لیے قابض ہو جاتا۔ جمہوریت میں یہی تصور تھا کہ لوگ مسلسل حکمرانوں کو بدلتے رہیں‘ بغیر تشدد یا جنگوں کے لیکن جب لیڈر خود ڈکٹیٹر بن جائیں تو پھر بغاوتیں ہونا فطری ہے۔ اگر عرب سپرنگ دیکھیں تو اس تحریک کے پیچھے بھی یہی سوچ تھی کہ لوگ برسوں سے ایک ہی چہرہ دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکے تھے‘ ورنہ جن ممالک میں بغاوتیں ہوئیں وہ نہ تو غریب ملک تھے اور نہ ہی وہاں روٹی پانی کا مسئلہ تھا۔
بھارت میں مودی اور ان کی پارٹی نے جو کلچر روشناس کرایا‘ اس کا نتیجہ ایک دن یہی نکلنا تھا جو اب نکل رہا ہے۔ عظمت کی کہانیاں سب کو اچھی لگتی ہیں لیکن جب پوری نسل کو لگے کہ ہر سال مقابلے کے امتحان کے پیپر لیک ہو کر چند طاقتور طبقات کے بچوں کو میسر ہو جاتے ہیں اور وہ سرکاری نوکریاں لے رہے یا بڑے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل ہو رہے ہیں اور عام لوگ پیچھے رہ گئے ہیں تو پھر وہ آپ کا تختہ الٹ دیتے ہیں۔ پھر ''مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ کا نعرہ انہیں فراڈ لگتا ہے۔ اسی مودی کے دور میں بھارت کی تاریخ کا اتنا بڑا مظاہرہ ممکن ہوا ہے۔ بھارت میں سکول‘ کالج اور یونیورسٹی تک کے بچے مظاہروں میں شریک ہیں‘ جنہوں نے حیرت انگیز طور پر اتنا بڑا مظاہرہ کر لیا جس پر دنیا دنگ ہے۔ رہی سہی کسر دہلی پولیس کے تشدد نے پوری کر دی۔ بنگلہ دیش میں بھی بات نوجوانوں کے جاب کوٹہ سے شروع ہوئی تھی جو انقلاب تک پہنچی۔ اب انڈیا میں معاملہ وزیر تعلیم کے استعفے سے وزیراعظم مودی کے استعفے تک جا پہنچا ہے۔ اگر پیپر لیک سکینڈل پر بھارتی حکومت خود کو جوابدہ نہیں سمجھتی اور وزیر تعلیم کو برطرف کرنے کے بجائے الٹا ہزاروں طالب علموں پر تشدد کراتی ہے تو وہ جمہوریت کے اصول کی نفی کرتی ہے‘ جہاں آپ اپنے ووٹرز کو جوابدہ ہوتے ہیں۔وزیراعظم مودی کے اندر یہ تکبر پایا جاتا ہے کہ وہ جو چاہیں کر گزریں کیونکہ وہ تو وزیراعظم نہرو سے بھی زیادہ مدت کیلئے وزیراعظم بن چکے ہیں‘ انہیں کون ہلا سکتا ہے۔ اب وہی بچے جو ان کے گن گاتے تھے‘ انہیں ولن سمجھ رہے ہیں۔ وہی نوجوان جو مودی میں اپنا مستقبل دیکھتے تھے‘ اب مودی کو کھل کر برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ یہ طالبعلم تحریک پورے بھارت میں پھیل رہی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ جو بھارتی پاکستان کو طعنے دیتے تھے کہ اس کا خزانہ خالی ہے‘ وہی آج کہہ رہے ہیں کہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان کی فنڈنگ ہے۔ مطلب جس ملک کا خزانہ خالی ہے وہ اُس بھارت میں فنڈنگ کر رہا ہے جس کے خزانے میں سات سو ارب ڈالر رکھے ہیں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved