یمن کی حوثی ملیشیا کی طرف سے بحر احمر کو بحر ہند سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ ''باب المندب‘‘ کو جہازوں کی آمد و رفت کیلئے بند کرنے کے اعلان سے ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ نے ایک نیا اور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی تیل اور گیس کی (20 سے25 فیصد) ضروریات متاثر ہو رہی ہیں‘ جبکہ آبنائے باب المندب کو بلاک کرنے سے نہ صرف دنیا کی 12 فیصد تجارت‘ جس میں سات فیصد خام تیل بھی شامل ہے‘ متاثر ہوگی بلکہ اس اقدام سے یورپ کا جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید کے ساتھ براہِ راست اور سب سے کم فاصلے والا راستہ بھی بند ہو جائے گا۔ یہ راستہ نومبر 1869ء میں بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر کو ملانے والی نہر سویز کے کھلنے سے قائم ہوا تھا۔ اس سے قبل یورپی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہازوں کو پورے براعظم افریقہ کا چکر لگا کر راسِ امید کے راستے بحر ہند اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک تک آنا پڑتا تھا۔ نہر سویز کی تعمیر اور اس کے جہاز رانی کیلئے کھلنے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والے جہازوں کو 7000 سے 9000 کلو میٹر کے فاصلے اور 10 سے 15 دنوں کی بچت ہونے لگی تھی۔ اس لیے آبنائے باب المندب کی حفاظت کیلئے اس وقت خطے کی سب سے طاقتور نوآبادیاتی طاقت‘ برطانیہ نے عدن کے مقام پر ایک وسیع فوجی اڈا قائم کر رکھا تھا۔ یمن کی آزادی سے برطانیہ کو عدن میں اپنا فوجی اڈا ختم کرنا پڑا تھا۔ اس کے بدلے برطانیہ نے بحر ہند کے تقریباً وسط میں واقع مجمع الجزائر ڈیاگو گارشیا کو ماریشس سے لیز پر لیا مگر یہاں اپنا فوجی اڈا تعمیر کرنے کے بجائے اسے امریکہ کے حوالے کر دیا۔ امریکہ نے یہاں ایک وسیع بحری اور فضائی اڈہ تعمیر کر رکھا ہے۔ ایران پر بمباری کرنے والے اکثر لڑاکا طیارے یہیں سے پرواز کرتے ہیں۔
یمن کے حوثیوں کی جانب سے اس اہم آبی راستے کو بند کرنے سے سب سے زیادہ سعودی عرب متاثر ہونے کا خدشہ ہے‘ کیونکہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے سعودی عرب کے خام تیل کی 70فیصد برآمدات بحر احمر کے ساحل پر واقع اس کی بندرگاہوں سے آبنائے باب المندب کے راستے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کو بھیجی جا رہی تھیں۔ اس کی بندش سے پاکستان کے علاوہ چین‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اور بھارت بھی توانائی کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے یہ ممالک پہلے ہی تیل کے بحران سے دوچار ہیں۔ اب آبنائے باب المندب کے بند ہونے سے جس صورتحال کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس کی وجہ سے ایران‘ امریکہ جنگ کا ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔
پاکستان‘ جس نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں‘ نے حوثی ملیشیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے باب المندب کی ناکہ بندی (جو دراصل سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے) کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر ان جہازوں کو‘ جن پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہو‘ اگر حوثیوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تو پاکستان اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال سمیت تمام ضروری اقدام کرنے میں حق بجانب ہوگا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو حوثی قبائل نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو بحیرہ احمر میں‘ سعودی عرب کے ساحل الشقیق سے 70 ناٹیکل میل دور حملوں کا نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد پاکستان بھی تیل اور گیس کی درآمدات باب المندب کے راستے حاصل کر رہا ہے۔ اب پاکستان کی اکثر تیل درآمدات بحیرہ احمر پہ واقع سعودی بندرگارہ ینبع سے آ رہی ہیں۔ حوثیوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ سعودی عرب کا رخ کرنے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر یمن کے باغی حوثیوں نے پاکستانی جہازوں کو نشانہ بنایا تو اسلام آباد کی طرف سے جوابی ردعمل ناگزیر ہو جائے گا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نہ صرف پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے سعودی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی ہے بلکہ سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین کشیدگی تصادم کی شکل اختیار کرتی ہے تو پاکستان کیلئے اس معاملے سے الگ تھلگ رہنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس سے ایران‘ امریکہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ 8 جولائی سے ایران میں نہ صرف فوجی بلکہ شہری تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ان حملوں میں لڑاکا و بمبار طیاروں اور بحری جہازوں کے علاوہ میزائل اور ڈرون بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ حملے ایران کے جنوبی حصے اور آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی ساحل پر واقع شہروں اور تنصیبات پر کیے جا رہے تھے مگر اب ان کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملہ ہوا تو امریکہ ہر حملے کے بدلے ایران کے پلوں اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ اس تناظر میں آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
آبنائے باب المندب کا اگرچہ آبنائے ہرمز سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے دنیا کے تیل کی کُل ضروریات کا 20 سے 25 فیصد گزرتا ہے اور اس کے بند ہونے سے تیل کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک توانائی کے سخت بحران میں مبتلا ہیں۔ اس کے مقابلے میں باب المندب سے گزشتہ ماہ ہر روز تقریباً 62 لاکھ بیرل تیل بیرونی دنیا کو روانہ کیا گیا۔ اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب سے گزرنے والا تیل بھی عالمی مارکیٹ میں نہ پہنچ سکا تو درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کی معیشتیں انتہائی سخت صورتحال سے دوچار ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کیلئے جو دو آئل پائپ لائنیں تعمیر کر رکھی ہیں‘ وہ عملاً بیکار ہو جائیں گی‘ کیونکہ بحر احمر سے تیل باب المندب کے راستے برآمد کرنے میں رکاوٹ ہوگی۔
یورپ کی منڈیوں میں بھی آبنائے باب المندب کی بندش پر خاص تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے‘ کیونکہ وہ اپنی ضروریات کا ڈیزل سپر ٹینکروں میں آبنائے باب المندب کے ذریعے ہی منگواتے ہیں کیونکہ یہ سپر ٹینکر نہر سویز سے نہیں گزر سکتے۔ ماہرین کے نزدیک باب المندب کے بند ہونے سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو یورپی منڈیوں میں اپنے تجارتی مال بھیجنے پر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے اور ترسیل میں تاخیر کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ باب المندب کی بندش سے وہ نہر سویز کا راستہ اختیار نہیں کر سکیں گے۔ حوثی ملیشیا نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے اُن پر حملہ کیا تو وہ اس کی تیل تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کر دیں گے۔ ایسی صورت میں پاکستان بھی جنگ میں براہِ راست شامل ہو سکتا ہے اور یہ جنگ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے باہر کے خطوں تک پھیل جائے گی۔ لہٰذا آبنائے باب المندب کی بندش ایک وسیع اور زیادہ تباہ کن جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس میں خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے ممالک بھی ملوث ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ ان کے مفادات براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اب یہ ایران اور امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ 8 جولائی سے شروع ہونے والی کشیدگی کو روک کر اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکیں گے یا دوسرے ممالک کو اپنے قومی و معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے اس جنگ میں کودنے پر مجبور کرتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved