قیصر شریف کی سسکیوں بھری فون کال سماعت اور اعصاب کے لیے کسی دھماکے سے ہرگز کم نہ تھی۔ ''امیر العظیم بھائی نہیں رہے‘‘۔ یوں محسوس ہوا کہ آج پھر تھوڑا سا مر گیا ہوں میں! کسی اپنے اور پیارے کی موت جہاں دل کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے وہاں اس کی تلخی اپنے اندر بھی سرایت کر جاتی ہے‘ ہم اپنے مرنے تک ایسے ہی نجانے کتنی بار مرتے رہیں گے۔ یہ خیال ہی کس قدر جان لیوا ہے کہ اب برادرم امیر العظیم کا مسکراتا چہرہ‘ دھیما اور مخصوص لب و لہجہ کہیں ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا۔ دہائیوں پر مشتمل رفاقت کے درمیان موت یوں آن کھڑی ہو گی سوچا بھی نہ تھا۔ موذی بیماری ان کے حوصلے اور برداشت کے آگے اکثر کمزور پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ کینسر سے جنگ کے دوران اپنی تکلیف چھپا کر دوستوں کے لیے حاضر اور پیش پیش رہتے تھے۔
چند ماہ قبل حسن نثار صاحب نے اپنی بیٹی کے نکاح کی ذمہ داری مجھے سونپتے ہوئے کہا کہ نکاح کے گواہان افضل غوری اور آپ ہیں جبکہ نکاح خواں کے انتخاب کی ذمہ داری بھی جناب پر ہے۔ کئی نام ذہن میں آتے جاتے رہے لیکن کوئی نام اس اہم فریضے کے لیے فٹ نہیں بیٹھ رہا تھا۔ پھر ایک خیال نے یہ اُلجھن یوں سلجھائی کہ برادرم امیر العظیم کا نمبر ڈائل کر ڈالا۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد مدعا یوں بیان کیا کہ حسن نثار صاحب کی بیٹی کی پیدائش پر مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد نے کان میں اذان دی تھی اور انہیں ہسپتال لانے کی ڈیوٹی میں نے ہی سرانجام دی تھی۔ قاضی صاحب تو دنیا میں رہے نہیں! گہری رفاقت کا تقاضا یہ ہے کہ نکاح کی ذمہ داری آپ جناب قبول فرمائیں۔ یعنی پیدائش پر اذان ہو یا ازدواجی زندگی کا آغاز‘ دونوں کا قرعہ جماعت اسلامی کے نام۔ میری غیر متوقع فرمائش سن کر کچھ تذبذب کا شکار ہوئے اور بولے: میں یہ کام کرتا نہیں لیکن آپ کی بات میں وزن ہے‘ کچھ کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد جوابی کال آئی: میں نے آپ کی آدھی بات مان لی ہے اور بقیہ آدھی کے لیے معذرت قبول فرمائیں۔ میں نے وضاحت چاہی تو فرمایا: امیر جماعت اسلامی نے اذان دی تھی تو امیر جماعت اسلامی ہی نکاح پڑھائیں گے‘ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے: میں نے امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن سے گزارش کی ہے‘ اور وہ مان گئے ہیں۔ لہٰذا میں وقتِ مقررہ پر ان کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔ میں نے یہ سبھی کارروائی حسن صاحب کے گوش گزار کی تو وہ بولے: اس سے بہتر انتظام کیا ہو سکتا ہے۔ خیر امیر العظیم وقتِ مقررہ پر تقریبِ نکاح میں حافظ نعیم الرحمن صاحب کے ساتھ پہنچے تو ان کے چہرے پر روایتی مسکراہٹ میں بے چینی اور تکلیف کے آثار بھی نمایاں تھے۔ خیریت پوچھی تو ٹال گئے! نکاح کا خطبہ اور دیگر امور بخوبی انجام دینے کے بعد مل بیٹھے تو گردن ایک طرف ڈالے مجلس میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانے کا ہنر خوب نبھاتے رہے۔ گپ شب اور طعام کے بعد رخصت کی اجازت طلب کرتے ہوئے بولے کہ نکاح کی وجہ سے میں نے حافظ نعیم صاحب کو عید پر کراچی نہیں جانے دیا اور اب کچھ دیر بعد ان کی فلائٹ ہے۔
اگلے روز میں نے فون پر معذرت اور گلہ دونوں ہی کر ڈالے کہ بھائی اگر آپ کی طبیعت ناساز تھی تو آپ نے زحمت کیوں کی؟ ہمارا تعلق تکلّفات اور دنیا داری سے مبرا ہے‘ جواباً بولے: آصف بھائی حکم آپ کا تھا اور حسن نثار صاحب کی صاحبزادی کا نکاح‘ ایسے میں انکار کی گنجائش کہاں تھی؟ کینسر جیسے مرض کی تکلیف کے باوجود اس قدر خوش اسلوبی سے تعلق نبھانے کا 'نیوندرا‘ صرف امیر العظیم ہی ڈال سکتے تھے۔ کئی دہائیوں پر محیط یہ تعلق ہمیشہ تروتازہ ہی رہا۔ ہر ملاقات قربت و رفاقت کا ایک نیا باب رقم کرتی رہی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس طرح چلے جائیں گے۔ یقین مانو! یقیں نہیں آتا۔
طلبہ سیاست سے قومی سیاست تک‘ ایڈورٹائزنگ کی دنیا سے دنیائے صحافت تک 'جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے‘ کے مصداق امیر العظیم ہر جگہ منفرد اور ممتاز ہی رہے۔ جماعت اسلامی کے ناقدین اور بدترین مخالف بھی امیر العظیم کے مداح ہی دیکھے گئے۔ ان کی طبیعت کی سادگی‘ کھرا پن‘ ہمدردی اور اخلاص حلقۂ احباب اور دوستوں کو ہمیشہ میسر رہا۔ ان کی شخصیت میں نہ کوئی بیریئر تھا اور نہ ہی کسی کے لیے بغض وکینہ‘ غمی اور خوشی میں امیرالعظیم برابر دکھائی دیتے اور پیش پیش نظر آتے۔ میری اپنی بیٹی ضحی کی شادی کا دعوت نامہ بروقت پہنچانے میں نجانے کیسے کوتاہی ہو گئی تو بذریعہ وٹس ایپ کارڈ بھیج کر فون کرنے ہی لگا تھا کہ ان کی کال آگئی۔ بولے: بھائی میں ضرور حاضر ہو جائوں گا‘ کوئی حکم یا ڈیوٹی ہو تو بتائیے۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کارڈ لے کر خود حاضر ہونا تھا لیکن تاخیر اور کوتاہی ہوگئی‘ لہٰذا بذریعہ وٹس ایپ دعوت قبول فرمائیے۔ اُلٹا شکوہ کر ڈالا اور کہنے لگے: آپ مجھے بھائی بھی کہتے ہیں اور تکلف بھی برتتے ہیں‘ اس رویے پر آپ کو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ عرض کیا: سرِ تسلیم خم ہے‘ آپ کا جرمانہ اور ہرجانہ دونوں سرآنکھوں پر۔ جواباً بولے: آئندہ یہ حرکت نہیں ہونی چاہیے۔ بس یہی جرمانہ ہے۔ ان کی کس کس بات کو یاد کروں‘ کون کون سی ملاقات کے ورق الٹاؤں۔ حسن نثار صاحب کے گھر جمنے والی طویل محفلوں میں امیر العظیم کی منطق اور دلائل سے بھرپور گفتگو کی بازگشت آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔ ان سے میل ملاقات اور نشست و برخاست سے لے کر محبتوں کا سفر چشم تصور میں فلم کی طرح چل رہا ہے۔
مخصوص لب و لہجہ‘ دانائی اور تدبر ان کی گفتگو کا ہمیشہ خاصہ رہا ہے۔ جماعت اسلامی میں مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے علاوہ بھی وہ رابطوں اور تعلق کا استعارہ تھے۔ ان کی یہ سبھی خصوصیات انہیں جماعت اسلامی میں بھی ممتاز رکھتی تھیں۔ یہ بات کہنے میں ہرگز کوئی عار نہیں کہ جماعتِ اسلامی کی چلتی پھرتی پی آر کمپنی بند ہو چکی ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے ایسے بوجھ ازخود اٹھائے پھرتے تھے جن کا احساس جماعت کو گزرتے وقت کے ساتھ شدت سے ہو گا اور وقتاً فوقتاً‘ لمحہ بہ لمحہ‘ روز بروز یہ خلا بڑھتا چلا جائے گا۔
کچھ ہی دیر پہلے جکارتہ سے برادرم طاہر چودھری کی کال آئی۔ رندھی ہوئی آواز سے بولے: وہ تو میرا جیل کا یار تھا‘ جیل کی یاری سب پہ بھاری۔ ایک ہی سیل میں اسیر رہے‘ ان کے ساتھ گزرے شب و روز کے اَنمٹ نقوش آج بھی میری یادوں میں تازہ اور طبیعت میں برابر پائے جاتے ہیں۔ علی الصبح نماز کے لیے اٹھانا اور پھر میری ٹال مٹول اور بہانوں کو ناکام بنانے کا سارا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے۔ تادیر ان کی باتیں چلتی رہیں اور یادوں کے دریچے کھلتے چلے گئے۔ کالم کے دوران ہی حسن نثار صاحب کی فون کال آئی کہ جنازے پر اکٹھے چلیں گے‘ گھر سے منصورہ تک کا سفر اکیلے طے نہیں ہو گا۔
امیرالعظیم بائے ڈیزائن جماعت اسلامی کے لیے ہی بنے تھے‘ وہ امیر بھی تھے اور عظیم بھی۔ مروجہ سیاسی جماعتوں میں ان کی شخصیت کے مذکورہ اوصاف ہی ان کی ڈِس کوالیفکیشن کے لیے کافی تھے۔ آج جماعت اسلامی کا ایک اہم اور فعال عضو جھڑ چکا۔ لے او یار حوالے رب دے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved