تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     25-07-2026

جنگ پھیل رہی ہے

جنگ پھیل رہی ہے۔ اس کا بے لگام گھوڑا سر پٹ دوڑ رہا ہے۔ یہ جنگ کا مزاج ہے۔ جنگ آپ اپنی مرضی سے شروع تو کر سکتے ہیں‘ ختم نہیں کر سکتے۔
یہ بات کوئی راز نہیں۔ ہر وہ آدمی جانتا ہے جسے دنیا کی تاریخ کی کچھ بھی خبر ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ جیسے لوگ دنیا کے لیے فساد کا پیغام ثابت ہوتے ہیں جو تاریخ کو جانتے ہیں نہ سیاست کے علم ہی سے واقف ہوتے ہیں۔ ان کے لیے تاریخ ان کی ذات سے شروع ہوتی اور ان کے مفاد پر ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ غزہ میں وہ ایک نئے شہر کی بنیاد رکھیں گے۔ اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو انہوں نے آہستہ آہستہ ختم کر دیا یا غیر فعال بنا دیا۔ ایران کے بارے میں ان کا گمان یہی تھا کہ وہ جلد اس پر قابو پا لیں گے۔ معاملہ مگر الٹ ہو گیا۔ دوسری طرف ایران کی قیادت کا تجزیہ یہ ہے کہ اس جنگ کے پھیلنے سے اس کا بھلا ہو گا۔ اس کا طرزِ عمل یہ ہے کہ اگر ایران میں بربادی آتی ہے تو دوسرے ممالک کو بھی پُرسکون نہیں رہنا چاہیے۔ ایران کواس سے کوئی غرض نہیں کہ خطے میں تباہی پھیلتی ہے یا امن۔ یہ قابلِ فہم ہے۔ اگر دوسروں کو اس کی پروا نہیں تو اسے کیوں ہو۔
امریکہ مگر یہ نہیں چاہتا تھا۔ اُس کا منصوبہ یہ تھا کہ ایران کو فتح کرنے کے بعد جو مشرقِ وسطیٰ ہو گا‘ اس میں وہ اپنی مرضی سے جغرافیائی تبدیلیاں لا سکے گا۔ جنگ کا پھیلنا اس کے مفاد میں نہیں تھا۔ اس معاملے میں بھی ایران 'فاتح‘ ہے کہ اس نے جنگ کو پھیلا دیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین براہِ راست جنگ شروع ہوتی ہے تو پاکستان کو بھی اس میں شریک ہونا پڑے گا۔ یوں یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے معاشی نتائج الگ ہیں‘ جو ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ آئے دن پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ آنے والے کل کی کسی کو خبر نہیں۔ جنگ اسی کا نام ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا نے بہت کچھ سیکھا۔ یورپ اور جاپان جیسی ریاستوں نے جنگ سے ہمیشہ کے لیے نجات کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔ امریکہ اور سوویت یونین نے مگر سرد اور گرم‘ دونوں جنگوں کے لیے دروازے کھلے رکھے۔ ان جنگوں نے سوویت یونین کو روس تک محدود کر دیا۔ روس مگر آج بھی یوکرین سے سینگ پھنسائے ہوئے ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک‘ جنگ کا الاؤ روشن رکھا۔ وقت کے ساتھ اسلام کو ماننے والے انتہا پسند بھی اس جنگ کا حصہ بن گئے۔ افغانستان اور ایران میں اقتدار ان کو مل گیا۔ اس طرح دنیا دوبارہ عالمی جنگ کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی۔
یورپ آج بھی پُرامن ہے۔ یہاں کی تمام ریاستوں نے خود کو جنگ سے دور رکھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہاں سکیورٹی سٹیٹ کے بجائے ویلفیئر سٹیٹ کا ماڈل اپنایا گیا۔ آج اگر دنیا میں کہیں لوگ آسودہ حال ہیں اور جنگ جیسے عذاب سے محفوظ ہیں تو وہ یورپین بالخصوص سکینڈے نیوین ممالک ہیں۔ برطانیہ نے اسرائیل کی بنیاد رکھ کر مشرقِ وسطیٰ میں فساد کی چنگاری بھڑکا دی مگر یورپ میں امن ہی کا ساتھ دیا۔ اس کا یورپ کو فائدہ ہوا۔ دنیا البتہ سرخ سامراج کا نشانہ بن گئی یا امریکی سامراج کا۔ رہی سہی کسر مذہبی انتہا پسندوں نے نکال دی۔ آج امریکہ جنگ کا علمبردار ہے یا یہ انتہا پسند۔ جنگ کبھی اسرائیل کا انتخاب نہیں ہو گا اگر امریکہ اس کی پشت پناہی نہ کرے۔ امریکہ کی پہلی جنگیں کسی حکمتِ عملی کے تحت تھیں‘ جن میں اسے کامیابی ہوئی۔ اس نے اپنے اہداف حاصل کیے۔ اخلاق یا قانون کسی سامراجی قوت کا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ امریکہ نے بھی اسے مسئلہ نہیں بنایا۔
آج امریکہ کی قیادت ایسے شخص کے پاس ہے جس میں حکمتِ عملی طے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ وہ صرف اقدام کرنا جانتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران کے ساتھ جنگ میں‘ نہ صرف امریکہ اہداف حاصل نہیں کر سکا بلکہ اس کے ساتھ جنگ کی لگام بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ آج جنگ پھیل رہی ہے۔ ایرانی پراکسیز پوری طرح سرگرم ہو چکیں۔ لبنان میں حزب اللہ کو کمزور کیا گیا مگر اب حوثی متحرک ہو چکے۔ سعودی عرب کی قیادت نے حکمت کا مظاہرہ کیا اور خود کو جنگ سے دور رکھا۔ اب مگر حالات ایسے بن رہے ہیں کہ اس کا دور رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی شرکت کے بعد کیا ہوگا‘ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ اس لیے کہ جنگ ایک بے لگام گھوڑا ہے۔
پاکستان اگر سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے باعث‘ اس جنگ میں عملاً شرکت پر مجبور ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے طبقات موجود ہیں جو پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں۔ وہ بھی غیر متحرک نہیں رہیں گے۔ یوں یہ جنگ پاکستان میں داخلی عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں تازہ رہنی چاہیے کہ ایران نے اگر اس جنگ کا مذہبی اور مسلکی تشخص برقرار رکھا تو مسلک کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ کے معاشروں میں بھی اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ سب باتیں جنگ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے نہیں سوچی ہوں گی۔ وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اس سے مگر حالات پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ کس نے کیا سوچا۔ جنگ نے اپنے اثرات دکھانے ہیں اور ہم دیکھنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ جغرافیائی فاصلے کی وجہ سے ابھی جنگ کے براہِ راست اثرات سے محفوظ ہے۔ یہ امکان مگر موجود ہے کہ ایران کو دیوار سے لگا دینے کے بعد‘ اس کے فدائین متحرک ہوں اور امریکہ کو ایک نئی القاعدہ کا سامنا کرنا پڑے۔ لوگ اب اس کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔
دنیا میں کبھی ایک تحریک اٹھی تھی جو جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف تھی۔ اس کو شک کی نظر سے دیکھا گیا اور اسے عوامی تائید نہیں مل سکی۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کو آج بھی ایسی تحریک کی شدت سے ضرورت ہے جو عالمِ انسانیت کو جنگ سے نجات دلا نے کے لیے آواز اٹھائے۔ اس نجات کے لیے ٹرمپ جیسے لیڈروں اور انتہا پسندانہ مذہبی تعبیرات اور قیادت سے نجات ضروری ہے۔ جنگ کے نتائج کو بچشمِ سر دیکھنے کے بعد‘ کوئی ذی عقل جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اس جنگ میں ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ جنگ کو کسی ایک خطۂ زمین تک محدود رکھنا کسی کے بس میں نہیں۔ اگر ہمیں اس کا ادراک ہوگا تو ہم دنیا کے کسی خطے میں جنگ کی حمایت نہیں کریں گے۔ پھر یہ بات بھی سامنے رہے کہ دنیا کی بہت سے ریاستوں کو مجبوری میں اپنے دفاع پر وسائل سے بڑھ کر وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس لیے سامراجی سوچ اور غلبے کی نفسیات کو بھی موضوع بنانا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر بھارت ایٹمی قوت نہ بنتا تو پاکستان کو اس کی ضرورت نہ ہوتی۔ یا اگر کشمیر جیسے تنازعات حل نہیں ہوتے تو جنگ کا امکان ختم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے سفارتی سطح پر زیادہ سرگرمی کی ضرورت ہے جو جنگ کا پُرامن متبادل ہے۔
جنگ کا خاتمہ ایک خواب ہے۔ اس کی تعبیر مگر موجود ہے۔ اگر یورپ کی متحارب ریاستیں پُرامن بقائے باہمی کا معاہدہ کر سکتی ہیں تو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیوں نہیں؟ پاکستان اور بھارت کیوں نہیں؟ یہ سوالات ان خطوں کی قیادت کو سوچنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved