تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     25-07-2026

امیر العظیم بھی رخصت ہوئے

برادرِ عزیز امیر العظیم نہایت ہی عزم و حوصلے اور صبر کے ساتھ اپنی بیماری سے لڑتے ہوئے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میرا رحیم و کریم مالک امیر العظیم پر اپنی رحمتیں نازل کرتے ہوئے ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے‘ آمین۔
مجھے امیر العظیم سے اپنی پہلی ملاقات تو یاد نہیں کہ کب ہوئی لیکن آخری ملاقات یاد ہے۔ 24 مئی 2026ء کو‘ یعنی آج سے دو ماہ قبل برادرم طاہر علوی کے بیٹے کے ولیمے پر ناتواں‘ نڈھال لیکن حوصلہ مند امیر العظیم سے ملاقات ہوئی تو ان سے مل کر ہمیشہ کی طرح ہونے والی خوشی کے بجائے ملال ہوا اور دل اداس ہو گیا۔ مجھے علم تھا کہ امیر العظیم کی طبیعت کافی ناساز ہے مگر ایسے امیر العظیم کا تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا جیسا امیر العظیم اس دن میرے سامنے تھا۔ دوستی کے معاملے میں ہمارا یہ دوست ایسا تھا کہ اس کی مثال دینا محال ہے لیکن اسے اچھی طرح جاننے کے باوجود حیرت ہوئی کہ وہ اس حالت میں بھی دوستی نبھانے کے لیے ولیمے کی تقریب میں پہنچ سکتا ہے۔ ایسی حالت میں تو ہم جیسا بندہ ہسپتال کے بستر سے قدم نیچے نہ رکھے‘ کجا کہ ایک دیرینہ دوست کے بیٹے کے ولیمے میں شرکت کی غرض سے خاصا لمبا فاصلہ طے کر کے پہنچ جائے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ امیر العظیم کی حا لت دیکھ کر دل میں عجب قسم کے وسوسے آئے مگر ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے بارے میں جدائی کی حد پر جا کر سوچنے کے بجائے معجزوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اُس روز میرے دل میں بھی معجزے کی شمع روشن ہوئی تھی جو 22 جولائی کو گُل ہو گئی۔
امیر العظیم سے دوستی کو کئی عشرے بیت چکے ہیں۔ میں جب بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے اخراج کے بعد اپنی بحالی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست کی پیروی کے لیے لاہور جاتا تو تاریخ پر حاضر ہونے کے لیے کئی دن لاہور رکنا پڑتا۔ تب ہمارے وکیل ارشاد قریشی تھے۔ ہم اپنے کیس کی تاریخ سے دو دن پہلے ان کے پاس دفتر پہنچ جاتے۔ حلیم الطبع ارشاد قریشی نہ صرف یہ کہ ہمارا کیس مفت لڑ رہے تھے بلکہ ہماری دو چار گھنٹے کی اپنے دفتر میں موجودگی کے دوران بسکٹ اور چائے وغیرہ سے تواضع بھی کرتے رہتے تھے۔ لاہور میں رہائش کے لیے پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم بہت سے دوستوں کے دل اور کمرے ہمارے لیے وا ہوتے تھے۔ امیر العظیم سے دوستی کا آغاز انہی دنوں ہوا جو نہ صرف قائم رہا بلکہ وقت کے ساتھ یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔
بردرِ عزیز امیر العظیم دوستوں کے لیے نہ صرف یہ کہ ہمہ وقت چشم براہ رہتے تھے بلکہ دوستی نبھانے کے سلسلے میں اس درجے تک چلے جاتے تھے جو آج کل تقریباً مفقود ہی ہو چکا ہے۔ مجھے اس سلسلے میں ایک بار ذاتی طور پر ایسا تجربہ ہوا کہ جب اس کا سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ امیر العظیم دوستی نبھانے اور دوستوں کے لیے حد سے گزر جانے والا ایسا شخص تھا جو اس زمانے میں خال خال ہی باقی بچے تھے اور اب ان کی رخصتی کے بعد یہ خلا مزید بڑھ گیا ہے۔
میں اپنے نہایت ہی عزیز مرحوم دوست احمد بلال کے پاس کراچی گیا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس کی ایک بیوہ کزن جس کے دو تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں‘ نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد لاہور کی ایک مہنگی رہائشی کالونی میں واقع اپنا مکان ایک وکیل کو کرائے پر دے دیا اور خود ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئی تاکہ وہ اپنے مکان سے ملنے والے کرائے سے گھر اور بچوں کے اخراجات پورے کر سکے۔ اس خاتون نے اس دوران ایک پرائیویٹ سکول میں نوکری بھی کر لی مگر جس وکیل کو مکان کرائے پر دیا تھا اس نے نہ صرف یہ کہ کرایہ دینا بند کر دیا بلکہ الٹا گھر کی ملکیت کا دعویٰ بھی کر دیا۔ احمد بلال نے مجھے اس مسئلے کا بتایا اور مدد طلب کی۔ میں نے یہ بات امیر العظیم سے کی تو انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ہامی بھر لی۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے تب اس معاملے کی پوری سنگینی کا شاید اندازہ ہی نہیں تھا۔
امیر العظیم نے ہامی کیا بھری‘ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن طریقہ آزمایا۔ پہلے تو اس وکیل سے ملاقات کر کے اس کو مکان مالکہ کے حالات اور مالی مشکلات کا بتایا اور کرائے کی ادائیگی یا گھر خالی کرنے میں سے ایک کام کرنے کا کہا مگر سب کچھ بے فائدہ نکلا۔ پھر امیر العظیم نے اس سلسلے میں علاقے کے معززین کو اکٹھا کر کے ایک پنچایت کی مگر یہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ امیر العظیم نے اس پر وکلا تنظیم کے ذریعے دباؤ ڈالا تو اس نے جواباً امیر العظیم کے خلاف اپنے حامی وکلا کی مدد سے ایک درخواست جمع کروا دی اور ایک روز گھر آنے پر 15 پر فون کر کے پولیس بلوا لی۔ امیر العظیم پولیس کے آنے پر ان کے ساتھ چل پڑے‘ وہ تو ان کے انچارج نے امیر العظیم کو پہچان لیا اور کہا کہ آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آپ کون ہیں۔ امیر العظیم نے کہا: میرا تعارف اتنا اہم نہیں جتنا یہ کہ آپ حقداروں کے لیے تو کچھ نہیں کرتے مگر ناجائز قابضین کے تحفظ کے لیے فوراً سے پیشتر پہنچ جاتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ یہ معاملہ اگر خود میرے ذمے ہوتا تو شاید میں اس سے دستبردار ہو جاتا مگر امیر العظیم کو داد دینا پڑتی ہے کہ انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ ہی اپنی کوششوں میں کوئی کمی آنے دی۔ اس مسلسل بھاگ دوڑ اور پیچھا کرنے کے دوران امیر العظیم کو کسی ذریعے سے یہ علم ہوا کہ وکیل موصوف کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہے۔ امیر العظیم نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات سے اس ڈگری کی تصدیق کرائی تو وہ واقعتاً جعلی نکلی۔ اب امیر العظیم نے اس وکیل کے وکالتی لائسنس اور بار کی رکنیت کی منسوخی کا معاملہ اٹھا دیا اور دونوں کام پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد جعلی وکیل کو کہا کہ اگر آپ گھر خالی کر دیں تو معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا بصورت دیگر میں آپ پر جعلی ڈگری‘ فراڈ وکالت اور گھر پر ناجائز قبضے کے سلسلے میں فوجداری کیس دائر کر دوں گا۔ اس نے امیر العظیم کی مستقل مزاجی‘ بے خوفی اور ڈٹے رہنے کا مظاہرہ دیکھتے ہوئے عافیت اسی میں جانی کہ گھر چھوڑ دے۔ آج بھی وہ خاندان امیر العظیم کو دعائیں دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ تھا۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ اور جمعیت کے پلیٹ فارم سے پنجاب یونیورسٹی کے صدر رہنے والے امیر العظیم نے سیاسی حوالے سے اقتدار کی کرسی اور دنیاوی فوائد کی جانب جانے والے راستے کے بجائے نظریاتی راستے کا انتخاب کیا جو طویل بھی تھا اور کٹھن بھی۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد بہت سے دیگر ہمعصر طلبہ کے برعکس اقتدار کے شارٹ کٹ کے طور پر سکہ رائج الوقت سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے بجائے جماعت اسلامی کی راہ اختیار کی اور گزشتہ سات سال سے اس کے جنرل سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض کا شکار تھے مگر اس تمام عرصہ میں بھی رخصت لینے اور آرام کرنے کے بجائے آخر دم تک اپنی تنظیمی اور جماعتی سرگرمیاں سر انجام دیتے رہے۔ عالی ہمت‘ باحوصلہ اور ہر آزمائش پر مسکرانے والا یہ دوست مورخہ 22 جولائی کو دارِفانی سے عالم جاودانی کی طرف روانہ ہو گیا۔ مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کہ مالکِ روزِ جزا امیر العظیم کو آخرت کی منزلوں اور حساب میں وہی آسانیاں فراہم کرے گا جو اس کی تائید و اجازت سے اس کا یہ بندہ‘ دنیا میں مخلوقِ خدا کو فراہم کرتا رہا ہے۔ افسوس ہوا کہ میں اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کر سکا‘ مگر اطمینان ہے کہ مالکِ کائنات ہم فقیروں کی دعائیں زمان و مکان سے بالاتر ہو کر سنتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved