تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     25-07-2026

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

بلاشبہ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے عوام کیلئے زندگی تنگ کرکے رکھ دی ہے‘ جیسے انہیں زندگی جینے کا کوئی حق نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ عام آدمی پیدا ہی بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے ہوا ہے۔ تخت لاہور کے بغل شیخوپورہ میں ایک انتہائی دردناک بلکہ قیامت خیز واقعہ پیش آیا ہے کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے پر ایک باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ کوئی ایک نہیں‘ روزانہ ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کے باعث ہر دوسرے گھر میں لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں۔ لوگوں میں بجلی کے بل ادا کرنے کی سکت نہیں اور وہ ایک دوسرے کو جان سے مارنے پر اتر آتے ہیں‘ یہاں تک کہ ایک باپ نے اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کر ڈالا۔ بجلی کے بل پوری قوم کو لے بیٹھیں گے کیونکہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں ہے۔ بقول پروین شاکر:ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا؍ کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا
جب بیٹے کا سر باپ کے کندھوں تک آ جائے تو باپ اپنے آپ میں پھولے نہیں سماتا اور اپنے دکھ درد بھول جاتا ہے کہ اس کو اپنے بڑھاپے کا سہارا مل گیا ہے۔ اس لیے بیٹے کو باپ کی کمر یعنی Backbone کہا جاتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹے کیلئے اللہ کے پیارے نبیوں نے رو رو کر دعائیں کیں اور ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت ملا۔ اور اسی بیٹے کی قربانی کے ذریعے جد الانبیا ابراہیم علیہ السلام کو آزمائش سے بھی گزرنا پڑا کہ بڑھاپے کے اکلوتے سہارے کی گردن پر چھری چلانا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ آزمائش تھی جس پر اللہ کے نبی پورے اترے‘ لیکن شیخوپورہ میں ایسی کون سی قیامت آ گئی کہ ایک باپ نے اپنے جواں سال‘ شادی شدہ بیٹے کو قتل کر دیا۔ ابھی تو بیٹے کے ہاتھوں کی مہندی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ باپ نے قیامت ڈھا دی۔
ہمارے حکمرانوں نے بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا بڑھا کر لوگوں کی زندگیاں عذاب بنا دی ہیں۔ لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ شیخوپورہ میں باپ کے ہاتھوں ہونے والے قتل کا پرچہ حاکمِ وقت کے علاوہ ان حکمرانوں کے خلاف بھی کاٹا جانا چاہیے جنہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کیے ہیں کہ بجلی لیں یا نہ لیں‘ آئی پی پیز کو پیسے دینا پڑیں گے۔ اصل میں قاتل آئی پی پیز بھی ہیں‘ مقدمہ ان کے خلاف بھی درج ہونا چاہیے۔ ظلم تو دیکھیں کہ عوام کو کیسے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں‘ اس لیے کہ چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے ہیں۔
ہمارے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بالکل ٹھیک کہا تھا: کوئی شرم ہوتی ہے‘ کوئی حیا ہوتی ہے‘ جو کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں میں نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیراعظم نے کسی بھی سرکاری پروجیکٹ پرکسی سرکاری آدمی کے نام کا بورڈ لگانے سے منع کر دیا ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کس کلاس سے تعلق رکھتا ہے‘ اس کے باوجود اس کو اتنی شرم آ گئی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو نہیں آتی۔ وہ اپنی کمپنی کی مشہوری پر تو خرچ کر رہے ہیں لیکن عوام کی حالت بدلنے کیلئے بالکل بھی تیار نہیں۔ کسی دوسرے ملک میں یوں ہوا ہوتا تو پورا معاشرہ حکومت کا تیا پانچہ کر چکا ہوتا لیکن ہمارے ملک میں لوگ بیروزگاری‘ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے اپنے اپنے گھر میں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
بلاشبہ غربت اور بھوک تہذیب کے آداب کو مٹا دیتی ہے۔ تاریخی اور موجودہ مثالوں کی روشنی میں ثابت ہو چکا ہے کہ غربت اور بھوک تہذیب کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں افلاس یعنی غربت آج کل ایک ایسا گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے کہ جس کی وجہ سے کئی خاندانوں کے افراد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی امیر لوگوں کی طرح کھائیں‘ پئیں اور پہنیں لیکن غربت اور مہنگائی کے باعث یہ سب کچھ ممکن نہیں۔ افلاس غریب آدمی کے بچوں کو وہ تہذیب سکھا رہا ہے جو شاید کتابوں کی دنیا سے کوسوں دور ہے۔ یہ بچے شرارتیں کرنے اور کھیلنے کودنے کی عمر میں بے بسی کی خاموش تصویر بن کر رہ جاتے ہیں: افلاس نے بچوں کو بھی تہذیب سکھا دی ؍ سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک کی فوجی طاقت اور دفاعی قوت کی بنیاد اور اس کے سیاسی استحکام کی لازمی شرط معاشی تعمیر ہے۔ معاشی و اقتصادی ترقی غربت کے خاتمے اور خود کفالت کیلئے ضروری ہے۔ خطِ غربت یا افلاس آمدنی کی وہ شرح ہے‘ جو سرکاری اعداد وشمار کے مطابق غذا‘ لباس اور مسکن جیسی ضروری اشیا کے لیے وافر مقدار کے ساتھ معیاری زندگی کے بنیادی حصول کے لیے درکار ہوتا ہے۔ افلاس کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی عیاشی‘ فضول خرچی اور اللوں تللوں کے باعث پاکستان مکمل طور پر غیر ملکی مالیاتی سہاروں کا محتاج ہو چکا ہے اور اپنی تھوڑی بہت پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے سامراج کا محتاج ہے اور عام آدمی کی حالت روز بروز پتلی ہو رہی ہے۔ وہ بیچارہ ہنسنا مسکرانا بھول گیا ہے۔ احمد جاوید نے ٹھیک کہاہے کہ کسی تہذیب کے افلاس کی انتہا یہ ہے کہ اس کی جمالیاتی قدریں بھی مانگے تانگے کی ہوں۔ بقول جون ایلیا:
جو رعنائی نگاہوں کیلئے فردوسِ جلوہ ہے
لباسِ مفلسی میں کتنی بے قیمت نظرآتی
یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پرودہ
یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظرآتی
غریب آدمی کو غربت اور مہنگائی کی وجہ سے ایک ایک روپیہ بچانا پڑتا ہے۔ کچھ کھانے کو دل ہی نہیں کرتا۔ جیسے کھانے میں لذت ہی نہیں رہی۔ کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے:
مفلسی نے چھین لی لذت زبان سے؍ محنت کا پھل بھی اب میٹھا نہیں رہا
غریب آدمی کی تو ساری محنت اور کمائی بجلی کا بل ادا کرنے پر صرف ہو جاتی ہے‘ وہ کھائے گا کیا‘ پیے گا کیا اور پہنے گا کیا؟ مہنگائی کے باعث اشیا کی قیمتوں کو آگ لگی ہوئی ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کو غریب سے فقیر بنا دیا ہے اور وہ زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ اور یہ سب کچھ ہمارے مقتدر طبقات کا کیا دھرا ہے۔
پاکستان کے سابق صدر ایوب خان ایک دفعہ بھارت کے دورے پر گئے‘ اس موقع پر ایک نغمہ گایا گیا جو اُن کے دل کے تاروں کو چھو گیا۔ ایوب خان کو یہ نغمہ اس قدر اچھا لگا کہ اس نغمہ نگار شاعر سے ملنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جب صدر ایوب خان کو شاعر کے متعلق یہ بتایا گیا کہ اس شاعر کا تعلق پاکستان سے ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ پاکستان واپس آتے ہی صدر ایوب نے اس شاعر سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسے تلاش کیا جائے اور میرے سامنے لایا جائے۔ صدر کا حکم سنتے ہی ماتحتوں نے حکم بجا لانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ساغر صدیقی داتا دربار کے باہر کمبل میں لپٹے ہوئے زمانے کی ستم ظریفی کا رونا رو رہے تھے۔ لاکھ منتوں سماجتوں کے باوجود درویش شاعر نے ایوب خان کے پاس جانے سے انکار کر دیا‘ آخرکار جب اصرار بے حد بڑھ گیا اور ماتحت زبردستی پر اُتر آئے تو اُس فقیر نے پاس پڑی ہوئی سگریٹ کی ایک خالی ڈبی اٹھائی‘ اس میں سے ایلومینیم فوئل نکالی (جسے عام زبان میں کلی یا پنی کہتے ہیں) دکاندار سے قلم مانگا اور اس فوئل پر دو سطریں تحریر کرتے ہوئے کہا کہ جاؤ یہ جا کر صدر صاحب کو دے دو۔ لکھا تھا:
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
بدقسمتی سے ہم ووٹ دیتے وقت اکثر ایسے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتے جو غریب اور عام آدمی کے دکھ درد کو سمجھتے ہوں۔ جب تک ہم کردار‘ خدمت اور دیانت داری کو بنیاد بنا کر اپنے نمائندے منتخب نہیں کریں گے‘ مثبت تبدیلی آنا مشکل رہے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved