پچھلے روز جنک فوڈ کا عالمی دن گزرا تو مجھے وہ پرانے زمانے یاد آ گئے جب خالص خوراک ملتی تھی اور ملاوٹ کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ میری جم پل لاہور کی ہے اور لاہور کے کھابے برصغیر بھر میں کہاں مشہور نہیں ہیں؟ لاہور کے باسیوں کو زندہ دلانِ لاہور کا خطاب پہلی بار سر سید احمد خان نے 1884ء میں اپنے دورۂ لاہور کے موقع پر دیا تھا۔ اگر یہ خطاب نہ دیا گیا ہوتا تو مجھے یقین ہے کوئی دوسرا لاہوریوں کو رنگ رنگ کے کھانے کھاتے دیکھ کر ''خوش خوراکانِ لاہور‘‘ کا خطاب دے دیتا۔ لاہوری اتنا کھاتے ہیں اور اتنا اچھا کھاتے ہیں کہ کھانے کا لفظ چھوٹا محسوس ہونے لگا‘ اسی لیے آج کل لاہور والوں کیلئے کھابوں کا لفظ مستعمل ہے۔
لاہور میں کیا نہیں ملتا تھا حلوہ پوری‘ نہاری‘ حلیم‘ سری پائے‘ بونگ پائے‘ حلوہ مانڈہ‘ کڑاہ‘ پراٹھا‘ کچوری‘ دہی‘ دال پوری‘ سیخ کباب‘ شامی کباب‘ چپل کباب‘ تکے‘ تلی ہوئی مچھلی‘ فالودہ‘ رس ملائی‘ پریم کچوری‘ نون بربری‘ کھنڈ کلچے‘ پٹھورے‘ سادہ نان‘ تنوری روٹی‘ داس کلچہ‘ باقر خانی‘ شیر مال‘ سادہ کلچے‘ تافتان‘ آبی شیر مال‘ روغنی نان‘ بن‘ آلو والا نان‘ سادہ پراٹھا‘ مولی والا پراٹھا‘ قیمے والا پراٹھا‘ ساگ پراٹھا‘ باقر خانی‘ باداموں والی سردائی‘ دودھ جلیبی‘ چاٹی کی لسی‘ پیڑوں والی لسی‘ خطائی سادہ‘ خطائی میووں والی‘ سموسے‘ پکوڑے‘ بریانی‘ روسٹ‘ سبز چائے‘ برفی‘ میسو‘ بور کے لڈو‘ پیٹھی والے لڈو‘ خالص مکھن۔ جیم‘ پنیر‘ کریم‘ برگر‘ شوارمے وغیرہ اُس وقت متعارف نہیں ہوئے تھے۔
شاید میرے قارئین یقین نہ کریں لیکن لاہور میں کچھ مقامات ایسے تھے جو اچھی لسی‘ بونگ پائیوں‘ حلوہ پوری اور نان چنوں کیلئے مشہور تھے۔ اگر کوئی تحقیق کرے تو شاید یہ عقدہ کھلے کہ لاہور میں ناشتے میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ چنے کھائے جاتے ہیں‘ اور چنے بھی انواع و اقسام کے۔ میں صرف آپ کو داس کلچے کی تاریخ بتا دوں تو آپ جان جائیں گے کہ لاہور میں تیار ہونے والے کھانوں میں اجزا کا کتنا خیال رکھا جاتا تھا اور معیار کتنا بہتر ہوتا تھا۔ داس کلچے تیار کرنے والوں کے مطابق برصغیر میں یہ کلچہ سب سے پہلے ایک ہندو نے تیار کیا تھا جس کا نام رام داس تھا۔ اس کی تیاری میں سوجی‘ میدہ‘ سونف کا پانی اور چنے کی دال کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ داس کلچہ کھانے کے بہت سے لوازمات بھی ہیں۔ کلچہ‘ ساتھ میں آلو کی بھاجی ہوتی ہے‘ چنے ہوتے ہیں‘ سلاد ہوتی ہے اور بیسن کے بنے چھوٹے چھوٹے پکوڑے ہوتے ہیں جنہیں لوچڑا کہا جاتا ہے۔ داس کلچے کا ایک نوالہ توڑیے‘ آلو کی بھاجی اور چنے کا سالن اس پر رکھیے‘ اوپر سلاد کی تہہ چڑھائیے اور منہ میں ڈال لیجیے۔ اس کے بعد ایک لوچڑا منہ میں ڈالیے اور چبائیے۔ مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔ وہ خوراکیں کھانے سے مزا آتا تھا‘ اسی لیے لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی جگہیں تلاش کرتے تھے جہاں بہترین معیار کی یہ کھانے پینے کی اشیا دستیاب ہوتی تھیں۔ جنہوں نے داس کلچہ کھایا ہوا ہے وہ آج بھی تلاش کر کے کھانے یا خریدنے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ شاید میری بات کا یقین نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ لاہور میں اب بھی ایسی پرانی دکانیں موجود ہیں جہاں سے کھابے حاصل کرنے کیلئے لاہوریے رات تین‘ چار بجے وہاں اکٹھا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ سب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تب جو کچھ بھی بازاروں میں ملتا تھا یا گھروں میں تیار ہوتا تھا‘ صحت کیلئے مضر نہیں ہوتا تھا۔ ان کھانوں یا کھابوں سے کسی نہ کسی طور جسم کو فائدہ ہوتا تھا‘ طاقت ملتی تھی‘ صحت بنتی تھی۔ تب دکانوں پر ایک دوسرے سے اچھا کھانا تیار کرنے کی دوڑ میں معیار کا بھی خاصا خیال رکھا جاتا تھا۔ جیسا کہ ابھی بیان کیا کہ داس کلچوں میں اب بھی سوجی‘ میدہ‘ سونف کا پانی اور چنے کی دال کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسی نفاست فاسٹ فوڈ یا جنک فوڈ میں کہاں؟ تب مروت تھی‘ حیا تھی اور دوسروں کی صحت کا خیال تھا۔ اب زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ حلال حرام ایک ہو چکا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے کی ایک خبر پڑھیے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آج کل جنک فوڈ کیسے تیار ہوتی ہے: پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مردہ مرغیوں کی سپلائی ناکام بنا دی۔ 155ڈبلیو بی ٹھینگی میں لوڈر رکشہ میں موجود 20من سے زائد مردہ مرغیاں تلف کر دی گئیں۔ سپلائر کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی اور لوڈر رکشہ پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق مردہ مرغیاں مختلف مقامات پر ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر سپلائی کی جانی تھیں۔ یہ تو ایک لوڈر رکشہ پکڑا گیا۔ ایسے جانے کتنے لوڈر منوں مردہ مرغیاں لیے اپنی منزلوں پر پہنچ جاتے ہوں گے۔ ایسی خبریں ہر دوسرے چوتھے روز شائع ہوتی ہیں۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر رش کم ہونے میں نہیں آ رہا۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ لوگ جان بوجھ کر اپنی موت کا سامان مول لے رہے ہیں۔
جنک فوڈ کتنی خطرناک ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ذیابیطس کو شکست دینے والے ایک شخص نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ لوگوں کو بالقصد پروسیسڈ غذاؤں اور جنک فوڈ پر لگا کر موٹاپے کا شکار کیا جا رہا ہے‘ پھر یہ موٹاپا دیگر بیماریوں کا باعث بن کر انسان کو شوگر مافیا کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بنا چھوڑتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ پروسیسڈ اور جنک فوڈ میں فائبر کم اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں‘ جو تیزی سے بلڈ شوگر بڑھاتی‘ اور انسولین کی مقدار میں اضافہ کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسی غذائیں کھانے والوں کے جسم پر چربی جمع ہو جاتی ہے۔ وہ مزید رقمطراز ہیں کہ جنک فوڈز اکثر نشہ آور ذائقہ دار کیمیکلز پر مشتمل ہوتی ہیں جو زیادہ کھانے کی رغبت پیدا کرتے ہیں‘ چنانچہ یہ کھانے والے میں مزید کھانے کی طلب پیدا ہوتی رہتی ہے اور وہ مزید کھاتا جاتا ہے۔
جنک فوڈ وہ غذا ہے جس میں کیلوریز‘ اضافی شکر‘ غیر صحت بخش چکنائی اور سوڈیم زیادہ ہوتا ہے جبکہ وٹامن‘ منرلز‘ فائبر‘ پروٹین کی صورت میں غذائیت بہت کم ہوتی ہے۔ شوگر ڈرنکس اور سافٹ ڈرنکس‘ ٹافیاں اور مٹھائیاں‘ فرائیڈ فاسٹ فوڈ جیسے فرائیڈ چکن‘ فرنچ فرائز‘ پیک شدہ سنیکس‘ کیک اور پیسٹریاں وغیرہ‘ چپس اور نمکوز‘ ہر طرح کے نوڈلز‘ ڈونٹس اور پیسٹریاں‘ برگر اور رنگ رنگ کے شوارمے آج کے دور کی جنک فوڈ ز ہیں جو بندے کو صحت مند بنانے کے بجائے بیماریاں بانٹ رہی ہیں۔ جیسا کہ درج بالا سطور میں عرض کیا جنک فوڈ موٹاپا پیدا کرتی ہے۔ یہ پیچیدہ بیماریاں پیدا کرتی اور بڑھاتی ہے۔ اس سے دانتوں اور ہاضمے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جلد کے مسائل جنم لیتے ہیں اور ایسی خوراک کھانے والوں کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔ جنک فوڈ یادداشت کو کمزور کرتی ہے اور اس سے ہیپاٹائیٹس بھی ہو سکتی ہے۔ بڑوں پر تو جنک فوڈ کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہی ہیں بچے (جو جنک فوڈ کے سب سے زیادہ رسیا ہوتے ہیں) اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جنک فوڈ وقتی طور پر تو مزا دیتی ہے لیکن اس کے جسم پر دور رس اثرات پڑتے ہیں۔ یہ جسم کے اہم نظاموں کو کمزور کر دیتی ہے۔
عرض صرف یہ ہے کہ کھانی ہے تو اچھی غذا کھائیے۔ وہ جو آپ کیلئے صحت بخش ہو۔ گوشت کھانے کو دل چاہے تو بازار سے لا کر گھر میں تیار کر کے کھائیں۔ مچھلی کھانی ہے تو خود گھر میں تیار کریں۔ سبزیاں کھائیں‘ پھل کھائیں۔ چائے نہ پیئں لسی پیئں۔ روٹی کیلئے بغیر چھنا آٹا استعمال کریں۔ پھلیاں اپنے غذا کا حصہ بنائیں۔ سردیاں آئیں تو بادام‘ اخروٹ‘ چیا سیڈز‘ سورج مکھی کے بیج اور تل اپنی خوراک میں شامل کریں۔ انڈے کھائیں‘ دودھ پئیں‘ دہی پنیر استعمال کریں۔ پروسیسڈ آئل استعمال نہ کریں‘ سرسوں کا تیل‘ زیتون کا تیل‘ ایوکاڈو کا تیل اور ناریل کا تیل استعمال کریں۔ پھر دیکھیں کہ بیماریاں آپ سے کیسے دور بھاگتی ہیں۔ اور کچھ نہیں تو داس کلچے کھائیں۔ اس میں کم از کم لوچڑے تو ہوتے ہیں جو صحت کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچاتے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved