تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     26-07-2026

مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظر نامہ اور قومی سلامتی کے تقاضے

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی محاذ آرائی نے پہلے سے غیرمستحکم مشرقِ وسطیٰ کو ایک نہایت خطرناک موڑ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ رواں ماہ جولائی کے آغاز سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے تبادلے میں نمایاں اضافے سے پورے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا تناؤ اب محض دو ریاستوں کے اختلاف کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات توانائی‘ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیل چکے ہیں۔ دنیا کے ایوان ہائے اقتدار‘ مالیاتی ادارے‘ توانائی کی منڈیاں اور سفارتی مراکز ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ آیا معاملہ سیاسی گفت و شنید کے ذریعے سلجھ جائے گا یا دنیا ایک نئے عسکری بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟
مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر‘ اہم بحری گزرگاہیں‘ جغرافیائی محلِ وقوع اور مذہبی حساسیت نے اس خطے کو ہر دور میں عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔ یہی سبب ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی بے چینی صرف خلیج تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی بازگشت واشنگٹن‘ بیجنگ‘ ماسکو‘ لندن‘ پیرس‘ برلن اور ٹوکیو تک سنائی دیتی ہے۔ خلیجی ریاستیں اگرچہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی سکیورٹی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن انہیں تشویش ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو حالیہ برسوں میں تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے باوجود وہ براہِ راست اس تنازع کا حصہ بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب ملکی سطح پر حالیہ واقعات کے بعد ایرانی عوامی رائے مزید سخت ہو گئی ہے جس سے ایران کی قومی قیادت کے اس عزم کو تقویت ملی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے فوجی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عراق کے نومنتخب صدر علی زیدی سے سفارتی رابطہ‘ جس کا مقصد ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا‘ اور شام کے رہنما احمد الشرع کے ساتھ ان کی ملاقات‘ جس کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کوششوں کی حمایت کرنا بتایا جاتا ہے‘ علاقائی تنازع کو مزید وسعت دینے اور مزید فریقوں کو اس محاذ آرائی میں جھونکنے کا سبب بن سکتے ہے۔ اسرائیل نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے کسی بھی براہِ راست حملے کا سخت جواب دے گا جبکہ ایران کے اندر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور ممکنہ طور پر رجیم چینج کی سازش کی خبریں بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اسرائیل کے مفاد میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ خطے میں امن کے بجائے اس تصادم کے جاری رہنے کو اپنے حق میں تصور کرتا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی اس تنازع کو مزید وسیع کر سکتی ہے۔ اس تمام منظرنامے کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کے خام تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس اہم بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہو یا جہاز رانی متاثر ہو تو تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ اور مہنگائی کی نئی لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ پاکستان جیسی درآمدی معیشت رکھنے والی ریاست پر اس کے منفی اثرات مزید شدید ہوں گے نتیجتاً وطن عزیز ایک نہایت نازک سٹریٹجک صورتحال میں ہے۔
پاکستان ایک منفرد جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ ایک طرف چین جیسا عالمی اقتصادی اور عسکری شراکت دار ہے‘ دوسری طرف افغانستان اور ایران کے ساتھ حساس سرحدیں ہیں‘ جبکہ عرب دنیا‘ خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے ساتھ بھی اس کے گہرے تاریخی‘ مذہبی اور معاشی روابط ہیں۔ یہی جغرافیائی اہمیت پاکستان کو عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بناتی ہے‘ لیکن اسی اہمیت کے باعث اسے پراکسی جنگوں‘ ہائبرڈ خطرات اور بیرونی مداخلت کے امکانات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک پاکستان کی اقتصادی ترقی کا اہم ستون ہے۔ یہ منصوبہ صرف سڑکوں اور بندرگاہوں تک محدود نہیں بلکہ صنعتی ترقی‘ توانائی‘ روزگار‘ علاقائی تجارت اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ساتھ تجارت‘ تعلیم‘ ٹیکنالوجی‘ سرمایہ کاری اور انسدادِ دہشت گردی جیسے شعبوں میں تعاون بھی پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات اور ایران کے ساتھ روایتی طور پر خوشگوار روابط اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی میں توازن مستقبل کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ جو ایک طرف فوجی تنازع میں الجھنے سے گریز کرے اور دوسری طرف خطے میں استحکام کے فروغ کو یقینی بنائے۔ اس تنازع کی بدولت موجود غیریقینی صورتحال پہلے ہی عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ‘ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز کی سلامتی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ ایسے میں بیجنگ کا امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ وہ ایسی مداخلت پسند پالیسیاں اختیار کر رہا ہے جنہوں نے دنیا کے مختلف خطوں میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔ امریکہ چین کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی پیشگی فوجی موجودگی اپنے اتحادیوں کے تحفظ‘ سمندری راستوں پر آزادانہ آمدورفت کے تحفظ اور علاقائی جارحیت کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔ اسی دوران امریکہ نے چین اور روس پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو فوجی اہداف سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہے ہیں جس سے پہلے سے پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی میں ایک نئی جہت شامل ہو گئی ہے۔ تاہم امریکی خارجہ پالیسی کے ناقدین کے مطابق طویل فوجی مداخلتوں اور حکومتوں کی تبدیلی کی پالیسیوں نے پائیدار امن قائم کرنے کے بجائے اکثر عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے مطابق خطے میں طویل عدم استحکام ایشیا میں سٹریٹجک توازن کو ازسرِ نو تشکیل دے سکتا ہے اس لیے ان ممالک کا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب‘ ایران یا حوثیوں سے متعلق کسی بھی تنازع میں عسکری طور پر الجھ جائے‘ جس کے نتیجے میں پاکستان کی سٹریٹجک توجہ اور وسائل دوسری سمت منتقل ہو جائیں۔ ایسی صورتِ حال سے بچنا پاکستان کی قومی سلامتی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں‘ جن میں ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط شامل ہیں‘ ایران کے وزیرِ داخلہ کا اپنے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر اسلام آباد کا دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان آج اپنی تاریخ کے پیچیدہ ترین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اسے ایک ہی وقت میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی پراکسی جنگ‘ ہائبرڈ وارفیئر‘ سرحد پار دہشت گردی‘ اور جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ تک پھیلے ہوئے تیزی سے غیرمستحکم ہوتے علاقائی جغرافیائی و سیاسی ماحول جیسے خطرات درپیش ہیں۔ قومی سلامتی کے نئے تصور میں سائبر سکیورٹی‘ مصنوعی ذہانت‘ معلومات کی جنگ‘ میڈیا بیانیہ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے جتنی روایتی عسکری طاقت۔ دشمن اگر کسی ملک کے عوام کے ذہنوں میں شکوک‘ مایوسی اور تقسیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ بغیر جنگ کے بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے اس لیے پاکستان کو سائبر دفاع‘ مصنوعی ذہانت‘ ڈیجیٹل نگرانی اور معلوماتی جنگ کے میدان میں اپنی صلاحیتوں میں فوری سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ ابھرتا ہوا کثیر القطبی (Multipolar) عالمی نظام پاکستان کے لیے بیک وقت مواقع بھی فراہم کرتا ہے اور خطرات بھی۔ محتاط سفارت کاری‘ مؤثر فوجی دفاعی صلاحیت اور داخلی استحکام کو مضبوط بنا کر پاکستان نہ صرف بیرونی سرپرستی میں ہونے والی پراکسی جنگ کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے ایک اہم علاقائی استحکام فراہم کرنے والا ناگزیر کردار ادا کرکے نئے عالمی نظام میں اپنے لیے ایک مضبوط‘ باوقار اور بااثر مقام حاصل کر سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved