تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     27-07-2026

کیا جنوبی ایشیا کا نوجوان بیدار ہو رہا ہے؟

کیا پاکستان کے نوجوان کو بھی اُسی طرح اٹھ کھڑا ہونا چاہیے جیسے بنگلہ دیش اور بھارت کا نوجوان کھڑا ہوا ہے؟ کیا نوجوانوں کا یہ تحرک کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے؟ کیا تینوں ممالک کی سماجی حرکیات ایک جیسی ہیں؟
پہلے بنگلہ دیش کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہاں برپا ہونے والی تحریک کے محرکات سیاسی تھے۔ حکومت کا ظلم جب ناقابلِ برداشت ہو گیا تو نوجوان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس تحریک کو دیگر سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کی تائید حاصل ہو گئی۔ ایک رجیم کا خاتمہ ہو گیا جو اپنے ہی ظلم کا بار نہ اٹھا سکا۔ غالب کے الفاظ میں 'آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے‘۔ نوجوان پہلے مرحلے میں کامیاب رہے۔ ان کو خیال ہوا کہ اب ایک بڑی عوامی تائید ان کی پشت پر ہے۔ انہوں نے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ جماعت اسلامی سے اتحاد کیا۔ اس تحریک کے اکثر نوجوانوں کا تعلق وہاں کی اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا جو سب سے زیادہ حسینہ واجد کے ظلم کا نشانہ تھی۔ انتخابی نتائج سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ نوجوانوں کے حصے کی بارش‘ بی این پی کی چھت پر برس گئی۔ انتخابات نے بتایا کہ سیاسی عمل ہماری خواہشات یا کسی ایک واقعے کے تابع نہیں ہوتا۔ نوجوان طلبہ کی یہ تحریک اب بنگلہ دیش کی تاریخ کا ایک باب بن چکی۔ جو نوجوان جان کی بازی ہارے‘ ان کی یاد منانے والے اب وہی ہیں ان کے ساتھ جو خون کے رشتے میں بندھے ہیں۔
اب بھارت کی سنیے! بھارت کے نوجوانوں کی یہ تحریک بھی ایک وقتی مسئلے کے لیے اٹھی۔ یہ غیر سیاسی مسئلہ ہے۔ اس میں شامل نوجوان کسی نظریے یا کسی سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر جمع نہیں ہیں۔ یہاں مولانا حسین احمد مدنی کا ذکر ہے۔ مہاتما گاندھی کا نام لیا جا رہا ہے۔ مولانا عامر عثمانی کی نظم بھی پڑھی جا رہی ہے۔ فیض صاحب جیسے سرخ ترقی پسندوں کا کلام بھی گایا جا رہا ہے۔ جذبات کو زندہ رکھنے کے لیے یہ سب آزمائے ہوئے نسخے ہیں۔ فیض صاحب کا کلام پڑھنے والا ممکن ہے کہ اشتراکی نظریات سے ناواقف ہو۔ عامر عثمانی کی نظم سنانے والا شاید یہ نہ جانتا ہو کہ یہ نظم کس کی ہے۔ اس تحریک کے غیر سیاسی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ مان لیا گیا ہے۔ احتجاج ختم ہو گیا‘ اس لیے اب اس تحریک کے جوش وخروش میں بھی کمی آ جائے گی۔ اس سے مستقبل میں سیاسی تبدیلی کی جو توقعات باندھی جا رہی ہیں‘ ان کے پورا ہونے کا امکان کم ہے۔
ان تجربات کا تجزیہ کرتے وقت‘ ہمیں اُس عوامی تحریک کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو 'عرب بہار‘ کے عنوان سے تاریخ کا حصہ بن چکی۔ کچھ عرصہ اس کا غلغلہ رہا۔ یہ بھی مگر خطے میں کوئی بڑی تبدیلی لائے بغیر قصہ پارینہ بن گئی۔ تیونس‘ جہاں سے یہ تحریک اٹھی‘ آج ایک ایسے سیاسی نظام کے شکنجے میں ہے جو ظلم سے عبارت ہے۔ راشد الغنوشی جیسی شخصیت آج بھی جیل میں ہے۔ پچاسی برس کے اس عالمی شہرت یافتہ راہنما کو عمر قید کے ساتھ‘ دہشت گردی کے نام پر تیس سال کی مزید سزا بھی سنائی گئی ہے۔ راشد الغنوشی وہ آدمی ہیں جنہوں نے مسلم ڈیمو کریٹس کی بنیاد رکھی۔ ان کے خیالات انتہا پسندی سے کوسوں دور ہیں۔ وہ تو 'سیاسی اسلام‘ کے بنیادی تصور ہی سے الگ ہو چکے۔ اس کے باوجود سزا بھگت رہے ہیں۔ تیونس‘ بوعزیزی کا ملک ہے جس کی قربانی سے عرب بہار شروع ہوئی اور اس کا انجام‘ میں نے آپ کو بتا دیا۔ مصر کا تحریر سکوائر بھی کبھی اس کا مرکز تھی۔ آج وہاں جنرل سیسی کا اقتدار پہلے سے زیادہ مستحکم ہے۔
سماجی علوم کے ماہرین ان تحریکوں کو 'نان موومنٹس‘(Non Movements) کا نام دیتے ہیں۔ کسی سماج میں موجود اضطراب کسی وقت پھٹ پڑتا ہے اور لوگ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ لوگ‘ کسی راہنما کا انتظار نہیں کرتے اور منظم ہونے لگتے ہیں‘ کسی سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر۔ ایسی تحریکیں مسائل کی موجودگی کا احساس تو دلاتی ہیں مگر ان کے پاس مسائل کا کوئی حل ہوتا ہے نہ حکمتِ عملی۔ یوں وہ کوئی نقش چھوڑے بغیر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ تجربات ہو چکے۔ منظور پشتین کی تحریک بھی ایسی ہی تھی۔ بڑے بڑے جلسے مگر کوئی نتیجہ نہیں۔ بلوچستان میں ماہ رنگ نے بھی کچھ وقت کے لیے رنگ جمایا مگر اس سے کوئی نتیجہ خیز تحریک برآمد نہ ہو سکی۔ اشراکیت کی باسی کڑی میں بھی ابال آیا اور کچھ نوجوانوں نے فیض کی نظمیں سنائیں۔ عوام اس کی جانب مگر متوجہ نہیں ہو سکے۔
یہ خیر خواہی یا دیانت کا مسئلہ نہیں‘ میں ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں مگر ایسی تحریکوں سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتا۔ سماجی یا سیاسی تبدیلی کچھ عوامل کے تابع ہوتی ہے۔ ان کو سمجھے بغیر‘ کوئی حکمتِ عملی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ ان میں سب سے بڑا عامل ریاست ہے۔ ریاست کیا ہے؟ اس میں طاقت کے مراکز کہاں ہیں؟ ان مراکز کے سوچنے کا انداز کیا ہے؟ ریاست سے تصادم کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ یہ سب سوالات صرف ایک عامل سے جڑے ہیں۔ ایک عامل سماجی بُنت بھی ہے۔ سماج میں مذہب کی کیا حیثیت ہے؟ غالب مذہبی و سماجی تصورات کی موجود گی میں‘ کیا سماجی تبدیلی کی کوئی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے؟ ان سے صرفِ نظر کیا ممکن ہے؟ کسی ہمہ گیر تبدیلی کی خواہش‘ ان سوالات کا جواب تلاش کیے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کا نوجوان مسائل کو سمجھنے لگا ہے۔ تاہم وہ اُن کے حل کے بارے میں یکسو نہیں ہے۔ میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ اس یکسوئی کے بغیر میدانِ عمل میں نکلنے کے لیے آمادہ نہیں۔ ہمارے مسائل سیاسی بھی ہیں اور سماجی بھی۔ معاشی تو ہیں ہی۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے برخلاف‘ ہم ایک ہائبرڈ نظام کا تجربہ کر رہے ہیں۔ آئیڈیل میرے نزدیک اب بھی یہی ہے کہ سماج کو ریاست پر مقدم رکھا جائے۔ قوم کا بیانیہ سماج سے اٹھے اور ریاست ایک سہولت کار بن کر اس کو حقیقت کا روپ دے۔ آج صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ بیانیہ ریاست بناتی ہے اور سماج کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے۔ اس حکمتِ عملی نے سماجی تبدیلی کی قوتوں کوکمزور کیا ہے۔ ان میں یہ سکت نہیں کہ وہ ترتیب کو بدل سکیں۔ سیاسی جماعتیں بھی چونکہ ایک درجے میں اس ریاستی بندوبست کا حصہ ہیں‘ اس لیے ہائبرڈ نظام میں‘ عوام ایک حد تک شریک ہیں۔ اس تجربے کو ابھی اپنے نتائج دکھانے ہیں۔
اس پس منظر میں‘ میرے نزدیک‘ اہلِ دانش کو ذہن ساز کی سطح پر یہ کوشش جاری رکھنی چاہیے کہ تبدیلی کے لیے ہماری ترتیب درست ہو جائے۔ عوام مخدوم ہوں اور ریاست خادم۔ ممکن ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں خود پالیسی ساز اس بات کا ادراک کرنے لگیں۔ ریاست بھی تجربات سے سیکھتی ہے جیسے اس نے سیکھا کہ 'جہاد ریاست کے بغیر نہیں ہونا چاہیے‘۔ ممکن ہے وقت کے ساتھ یہ حقیقت بھی خود کو منوا لے کہ ریاست کا کام بیانیہ سازی نہیں‘ عوامی بیانیے کو پالیسی میں ڈھالنا ہے۔ اس سے پہلے نوجوانوں کو بنگلہ دیش یا بھارت کی طرح سڑکوں پر نکالنے کی خواہش محمود نہیں۔ تاہم ریاست کو خبردار رہنا چاہیے کہ اس کے لیے تساہل کی کوئی گنجائش نہیں۔ نوجوانوں نے میرا تجزیہ پڑھ کر قدم نہیں اٹھانا۔ جب پانی سر سے گزرنے لگے تو لوگ نتائج سے بے پروا ہو کر نکل آتے ہیں۔ اس کی قیمت ریاست اور عوام دونوں ادا کرتے ہیں۔ ریاست کو ایسا وقت آنے سے پہلے‘ مسائل کو حل کرنا ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved