تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     27-07-2026

برآمدات، کریڈٹ ریٹنگ اور پالیسی ریٹ کے اثرات

حکومت نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت کی درخواست کی لیکن امریکی صدر نے 10 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایمرجنسی اختیارات کے تحت دنیا بھر پر ریسیپروکل ٹیرف لگائے‘ سپریم کورٹ نے انہیں ختم کر دیا‘ پھر عارضی 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا‘ 10 فیصد عارضی ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہو گئی۔ اب سیکشن 301 فورسڈ لیبر کے تحت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف لگا کر تقریباً وہی تجارتی پالیسی نئے قانونی فریم ورک میں واپس لے آئے ہیں۔ نیا جواز یہ تلاش کیا گیا ہے کہ جن ممالک پر بچوں سے لیبر کا کام لیا جاتا ہے اور لیبر قوانین عالمی معیار کے مطابق نہیں ان پر ٹیرف لگایا جائے گا۔ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ مالی سال 2024-25ء میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر تھیں‘ جن میں سے ساڑھے پانچ سے چھ ارب ڈالر کی مصنوعات امریکہ کو برآمد کی گئیں۔ یعنی پاکستان کی تقریباً 18 فیصد برآمدات کا انحصار امریکی منڈی پر ہے۔ امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل‘ ملبوسات‘ بیڈ ویئر‘ تولیے‘ سرجیکل آلات اور چمڑے کی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی تجارتی پالیسی میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان کے برآمدی شعبے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ پاکستان کی برآمدی معیشت پہلے ہی متعدد مشکلات کا شکار ہے۔ ملک کی کل برآمدات تقریباً 33 ارب ڈالر ہیں جبکہ ویتنام کی برآمدات 400 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں‘ بنگلہ دیش کی برآمدات 50 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ ویتنام پر امریکی ٹیرف 12.5 فیصد ہے جبکہ پاکستان پر 10 فیصد۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کے ٹیرف پاکستان کے برابر ہیں‘ لیکن پاکستان کیلئے اس فرق سے فائدہ اٹھانا مشکل ہے کیونکہ ویتنام اور بنگلہ دیش میں کاروباری لاگت پاکستان کی نسبت بہت کم ہے۔ بھارت برآمد کنندگان کو ایکسپورٹ کی مد میں بھاری سبسڈی دیتا ہے جس کے باعث وہ کم قیمت میں مال تیار کر سکتے اور بیچ سکتے ہیں۔ عالمی تجارت میں صرف ٹیرف ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتا توانائی کی قیمتیں‘ پیداواری لاگت‘ کرنسی کی شرح تبادلہ‘ لاجسٹکس‘ بندرگاہوں کی کارکردگی اور تجارتی معاہدے بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان میں برآمدات بڑھانے کی باتیں تو ہر حکومت کرتی ہے لیکن عملی طور پر برآمد کنندگان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ اکثر پالیسی سازوں کی توجہ سے دور رہتے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فاسٹر سیلز ٹیکس ریفنڈ سسٹم میں ایک بنیادی خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا کہا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی ایکسپورٹر نے خام مال یا دیگر اشیا قانونی طور پر خریدی ہوں‘ سیلز ٹیکس ادا کیا ہو اور برآمد بھی کر دی ہوں لیکن اس کا سپلائر اپنے سیلز ٹیکس ریٹرنز بروقت جمع نہ کرائے‘ انوائس اَپ لوڈ کرنے میں غلطی کر دے یا ایف بی آر کے نظام میں کسی وجہ سے مشکوک قرار پا جائے۔ ایسی صورت میں فاسٹر سسٹم اکثر پورا یا جزوی ریفنڈ روک دیتا ہے حالانکہ ایکسپورٹر کی جانب سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے ہوتے ہیں۔ سپلائر کی غلطی یا تکنیکی خرابی کا بوجھ برآمد کنندہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ اس عمل سے برآمد کنندگان کا کروڑوں روپے کا ورکنگ کیپٹل پھنس جاتا ہے‘ انہیں اضافی فنانسنگ حاصل کرنا پڑتی ہے اور عالمی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ یوں فاسٹر سسٹم‘ جس کا مقصد ریفنڈ کی تیز اور خودکار ادائیگی تھا‘ بعض معاملات میں برآمدات کے فروغ کے بجائے ان کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔ بظاہر یہ چھوٹا سا تکنیکی مسئلہ ہے لیکن اس کی وجہ سے اربوں روپوں کے ریفنڈز رک رہے اور بیرونی سرمایہ کاری اور ملکی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
ملک کے لیے گزشتہ چند برس معاشی اعتبار سے کافی مشکل رہے ہیں۔ 2023ء میں عالمی مارکیٹ میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتوں کی درآمدات تک محدود ہو گئے تھے‘ بینک لیٹر آف کریڈٹس کی تصدیق سے گریز کر رہے تھے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی سب سے بڑا چیلنج بن چکی تھی۔ لیکن اب عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو منفی بی سے بڑھا کر بی کر دیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری آئی ہے۔ 2025ء میں پاکستان کی ریٹنگ CCC پلس سے منفی بی اور اب B تک پہنچ چکی ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ کسی ملک کی مالی ساکھ کا پیمانہ ہوتی ہے۔ دو سال پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر چند ارب ڈالر تک گر گئے تھے جبکہ اب مجموعی ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ عام آدمی کے لیے اس ریٹنگ کا سب سے بڑا فائدہ درآمدی اخراجات میں کمی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ 2022ء اور 2023ء کے بحران کے دوران درآمد کنندگان کو ایل سی کنفرمیشن چارجز کی مد میں بھاری اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے تھے۔ جب کسی ملک کی مالی ساکھ بہتر ہوتی ہے تو بین الاقوامی بینک تجارت کے لیے کم رسک پریمیم وصول کرتے ہیں‘ جس سے درآمدی لاگت کم ہو سکتی ہے اور قرضوں کی لاگت میں کمی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات تقریباً 130 سے 140 ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔ اگر عالمی مالیاتی منڈیاں پاکستان کو کم خطرناک ملک سمجھنے لگیں تو حکومت اور پاکستانی بینک نسبتاً کم شرح سود پر فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے اس کی کریڈٹ ریٹنگ کو دیکھتے ہیں۔ پاکستان اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے کافی نیچے ہے۔ عالمی معیار کے مطابق سرمایہ کاری کے قابل ممالک کی ریٹنگ BBB منفی یا اس سے اوپر ہوتی ہے‘ پاکستان ابھی بی کی سطح پر ہے۔ عالمی اداروں نے پاکستان کی سمت کو درست قرار دیا ہے لیکن منزل ابھی دور ہے۔
کاروباری حلقے اور سرمایہ کار اس امید میں تھے کہ سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں مزید کمی کرے گا تاکہ صنعت‘ تجارت اور تعمیراتی شعبے کو سہارا مل سکے لیکن سٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا فیصلہ لگتا ہے مگر اس کے پیچھے خلیج کی صورتحال‘ تیل کی غیر مستحکم قیمتیں اور پاکستان کی کمزور معیشت کا گہرا تعلق ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی درآمدات تقریباً 16 ارب ڈالر ہیں جو کُل درآمدات کا تقریباً 27 فیصد بنتا ہے۔ ایسے میں خلیجی خطے میں جنگ یا کشیدگی کا مطلب ہے کہ تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے‘ بحری نقل وحمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور انشورنس لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وہ خدشات ہیں جو سٹیٹ بینک کو محتاط رہنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ پاکستان 2023ء میں تاریخ کی بلند ترین شرح سود 22 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد سٹیٹ بینک نے مختلف مراحل میں شرح سود میں تقریباً 10.5 فیصد پوائنٹس کی کمی کی اور اسے 11.5 فیصد تک لے آیا تاہم مہنگائی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مئی 2026ء میں افراطِ زر کی شرح 11.7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو سٹیٹ بینک کے پانچ سے سات فیصد کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سٹیٹ بینک مستقبل کے خطرات کو نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں۔خلیج کی جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو سالانہ 35 سے 40 ارب ڈالر کے قریب ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں اور نصف سے زیادہ خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔ اگر اُس خطے میں کشیدگی طویل ہو جائے‘ معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں یا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مالی پوزیشن دباؤ کا شکار ہو تو اس کے اثرات پاکستانی کارکنوں اور ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ کم ترسیلاتِ زر اور مہنگا ایندھن پالیسی ریٹ پر دباؤ مزید بڑھا سکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved