شاید تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک بُرے لقب بلکہ گالی کے جواب میں ایک تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی اور نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ دہلی میں نوجوانوں کے احتجاجی جلوسوں کا سلسلہ رکا نہیں اور تازہ ترین نتیجہ یہ ہے کہ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ نوجوانوں کا سب سے بڑا مطالبہ تھا‘ باقی مطالبات اتنے مشکل نہیں ہیں اور بظاہر وہ بھی مان لیے جائیں گے۔ مودی حکومت کی پوری تاریخ میں کسی عوامی مطالبے کے سامنے ڈھیر ہو جانے کی یہ پہلی مثال ہے۔ یہ ایک بڑا موڑ ہے اور ممکنہ طور پر نظام بدلنے کا ایک نیا راستہ بھی۔ دہلی کے بعد کولکتہ‘ پٹنہ اور کیرالا وغیرہ میں بھی احتجاج شروع ہو چکے ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے 15 مئی 2026ء کو جعلی ڈگری سے جڑے ایک مقدمے میں جب یہ ریمارکس دیے کہ کچھ بے روزگار نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں جو میڈیا ‘ وکلا وغیرہ میں گھس جاتے ہیں‘ تو اُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس جملے سے بھارتی نوجوانوں میں کیسا غم وغصہ جنم لے گا۔ کوئی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اس جملے سے ایک تحریک اُٹھ کھڑی ہوگی۔ ایک طنز‘ ایک لقب اور ایک گالی نوجوانوں کی تحریک بن گئی۔ ردعمل کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے بات سنبھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ تبصرہ صرف جعلی ڈگری والوں کے لیے تھا‘ لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ بظاہر معمولی سی بات پر تیر کیوں کمان سے نکل جاتا ہے؟ جب معاشرے میں ظلم اور ناانصافی‘ سفارش اور رشوت اوپر سے نیچے تک سرایت کر جائے اور عام آدمی کے لیے زندگی اجیرن ہو جائے تو پھر وہ معاشرہ خس وخاشاک کے ایک ڈھیر پر بیٹھا ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی کوئی مختلف نہیں‘ یہ بھی خس وخاشاک کا ڈھیر ہے‘ کب کس چنگاری سے مشتعل ہو جائے‘ ہم نہیں جانتے۔
16 مئی 2026ء کو ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) پر طنز کے طور پر رکھا گیا نام تھا۔ ابھیجیت بنیادی طور پر ڈیجیٹل کمیونیکیشن سٹریٹجسٹ ہیں۔1995ء میں اورنگ آباد‘ مہاراشٹر میں پیدا ہونے والے اس نوجوان نے صحافت میں گریجویشن کے ساتھ امریکی بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہے۔ وہ دہلی کی عا م آدمی پارٹی میں رضاکارانہ شامل رہے اور دہلی اسمبلی الیکشن 2020ء میں طنزیہ مزاحیہ مہم یعنی میم کمپین میں انہی کا دماغ تھا۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ روایتی پارٹی نہیں بلکہ ان نوجوانوں کی تنظیم ہے جو خود کو سیاست کے مرکزی دھارے سے الگ سمجھتے ہیں۔ نام سے لے کر پیغام تک سیاسی طنز اس جماعت کا سب سے بڑا ہتھیار تھا اور ہے۔ ابھجیت نے اپنے ڈیزائن بنانے کے لیے اے آئی ٹولز کا بھی استعمال کیا‘ صرف پانچ دن میں انسٹاگرام پر اس کے ایک کروڑ فالوورز ہو گئے اور 22 مئی تک یہ تعداد دو کروڑ کو پار کر گئی۔ طنزیہ طور پراختیار کیے گئے ایک لفظ نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔
سی جے پی نہ سیاسی پارٹی ہے نہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے‘ نہ مذہبی جماعت ہے۔ فی الحال صرف دہلی تک محدود ہے۔ پارٹی نے منشور کے طور پر پانچ بڑے مقاصد رکھے ہیں۔ ان میں ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کو راجیہ سبھا یعنی قانون ساز اسمبلی میں نہ جانے دینا‘ ووٹر لسٹ سے نام کاٹنے پر الیکشن کمیشن پر غیر قانونی اقدام کا مقدمہ‘ خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن دینا اور جماعت بدلنے والے لیڈروں پر ایوان کی رکنیت کی 20 سالہ پابندی لگائے جانے کے عزائم شامل ہیں۔ اس تحریک نے بھارتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دہلی میں جنتر منتر کے علاقے میں روز لاکھوں نوجوان جمع ہو رہے ہیں۔ یہ سب غیر مسلح ہیں‘ احتجاجی ہیں اور پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے تشدد کے باوجود اپنے مطالبات سے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہ مطالبات اور ان کا پس منظر بھی عجیب تھا۔ بس وہی چھوٹی سی چنگاری والی بات ہے۔
ہوا یہ کہ میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹوں میں پیپر لیک ہوئے۔ پیپر لیک اب بھارت اور پاکستان میں عام سی خبر ہے۔ لوگ بھی اس کے عادی ہو گئے ہیں‘ طالبعلم بھی اپنی حق تلفی پر خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو رہتے ہیں۔ بھارت میں NEET UG کے نام سے اہلیت اور میڈیکل داخلے کا امتحان ہوتا ہے۔ اس سال مئی میں یہ امتحان ہوئے اور 23 لاکھ کے لگ بھگ طالبعلموں نے یہ امتحان دیا۔ پیپر لیکس کی تصدیق ہونے پر یہ ٹیسٹ کینسل ہوئے اور دوبارہ لیے گئے لیکن معاملہ صرف انہی امتحانات کا نہیں تھا‘ سبھی امتحانات میں یہ روز مرہ کا معمول ہے کہ اشرافیہ کے بچوں کو پہلے سے جوابات معلوم ہوتے ہیں اور وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ یعنی صرف میڈیکل کے طالبعلم نہیں ہر شعبے میں نوجوانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ سی جے پی کے مطابق ان حق تلفیوں سے 20 لاکھ سے زیادہ نوجوان متاثر ہوئے اور 12 بچے تو خود کشی کر چکے ہیں؛ چنانچہ دہلی میں جنتر منتر کے علاقے میں سی جے پی کی دعوت پر 20 جولائی کو لاکھوں نوجوان احتجاج کے لیے جمع ہو گئے۔ لیکن پہلے یہ بھی سمجھ لیں کہ جنتر منتر کیا ہے ؟
ستمبر 2005ء میں ہم لوگ جے پور راجستھان‘ بھارت میں جنتر منتر کی عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ یہ جے پور کے راجہ سوائی جے سنگھ دوم کی 1723ء میں بنائی ہوئی ان پانچ عمارتوں میں سے ایک ہے جو مختلف بھارتی شہروں میں اجرام فلکی کے مشاہدے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ یعنی رصدگاہ۔ ان میں سے ایک عمارت دہلی میں بھی ہے۔ کافی عرصے سے یہ مقام دھرنوں‘ ریلیوں‘ جلسوں اور جلوسوں کا مرکز ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے بالکل قریب سنسد مارگ‘ کناٹ پیلس نئی دہلی پر واقع ہے؛ چنانچہ یہاں لاکھوں کا اجتماع مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔
ابتدائی مطالبے یہ تھے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دے‘ تمام امتحانات میں شفافیت اور این ٹی اے نظام میں اصلاح کی جائے‘ پیپر لیکس سے متاثرہ طلبہ کے لیے معاوضہ دیا جائے اور دوبارہ امتحان ٹھیک ہوں۔ نیز یہ کہ خود کشی کرنے والے طلبہ کے لیے انصاف ہو۔ پہلا مطالبہ منظور ہو چکا اور باقی کی بھی امید ہے۔ احتجاج میں مشہور سماجی کارکن سونم وانگ چُک بھی شامل ہوئے جنہوں نے 21 دن کی بھوک ہڑتال کی اور بعد میں طبیعت بگڑنے پر ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ 20 جولائی کو دہلی پولیس نے شام پانچ بجے اجازت ختم ہونے کاکہہ کر سی جے پی کا ''سانسد چلو مارچ‘‘ روکا۔ مظاہرین نہیں رکے تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ کچھ وڈیوز میں خواتین مظاہرین کو تھپڑ مارنے کے مناظر بھی دیکھے گئے۔ سرکاری طور پر پولیس نے 60 مظاہرین کے زخمی ہونے کا بتایا جبکہ سی جے پی کے بانی کے مطابق 150 سے زیادہ مظاہرین ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ سوشل میڈیا وڈیوز میں پولیس کی بے رحمی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں نے بھی اشتعال میں پولیس پر حملے کیے۔ پولیس کے مطابق 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اب احتجاج اور مظاہرے دوسرے شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ یاد ہوگا کہ بنگلہ دیش میں اسی جین زی نے 14 سال سے حکمران حسینہ واجد کی حکومت الٹ دی تھی۔ بی جے پی ڈرتی ہے کہ یہاں بھی یہ سلسلہ قابو سے باہر نہ ہو جائے؛ چنانچہ سی جے پی کا سوشل اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا۔ اس سے پہلے مئی میں سابقہ اکاؤنٹ بھی بلاک کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں پر ''پاکستانی‘‘ کا ٹیگ لگانے کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔ پیپر لیکس کا معاملہ اب پس منظر میں جاتا دکھائی دیتا ہے اور حکومت مخالف جماعتیں مثلاً کانگریس اس تحریک کو کیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
کاکروچ پارٹی کا کیا مستقبل ہے‘ اس سے کون سی نئی جماعتیں پھوٹ سکتی ہیں جو سیاسی بھی ہوں؟ یہ سب مستقبل میں چھپا ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ سی جے پی پہلی ایسی تحریک ہے جو ایک گالی سے پیدا ہوئی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved