تحریر : جاوید حفیظ تاریخ اشاعت     27-07-2026

ایک قوم دو قانون

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے آخری رسولﷺ نے فرمایا کہ ''تم سے پہلے وہ قومیں تباہ کر دی گئیں جو معزز نسب سے متعلق شخص کو چوری کرنے پر چھوڑ دیتی تھیں‘‘ (یعنی شریف النسب اشخاص کے گناہوں سے اغماض کرتی تھیں)۔ اسی حدیث مبارکہ میں آگے فرمایا کہ چوری ثابت ہونے پر یہ اقوام محض کمزور لوگوں پر قانون کا نفاذ کرتی تھیں۔ مزید تاکید کیلئے فرمایا کہ خدا کی قسم میری بیٹی بھی چوری کرے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ یہ تھے اسلام کے دو اعلیٰ وارفع اصول جن کی وجہ سے دینِ حق نے مختصر عرصہ میں حیران کن فروغ پایا۔ اب آتے ہیں زمانہ حال کی جانب ۔وطن عزیز کی تشکیل اس لیے ہوئی تھی کہ ہم اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے نصب العین سے بہت دور ہیں۔میں عمومی طور پر بین الاقوامی موضوعات پر لکھتا ہوں لیکن ہمارے داخلی حالات اور ان کی خرابیاں بھی خامہ فرسائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ جس وزارت میں مجھے سالہا سال کام کرنے کا موقع ملا اس کے قریب ہی ایک بہت نمایاں اور فلک بوس عمارت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے بھی بہت خاص لوگ رہتے ہیں‘ عام آدمی اسے صرف دور سے دیکھ سکتا ہے۔ شاہراہِ دستور پر واقع یہ عمارت اگر واقعی اسم بامسمیٰ ہے تو اسے قانون کی پاسداری میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ سی ڈی اے سے منظوری ہوٹل کی تعمیر کیلئے لی گئی لیکن وہاں بلند و بالا رہائشی عمارتیں تعمیر کر دی گئیں۔ کئی سال تک یہ عمارتیں بنتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے عملاً آنکھیں بند کئے رکھیں۔ یہاں سے چند منٹ پیدل کی مسافت پر متعلقہ ادارے کا دفتر ہے لیکن کسی نے اس جانب دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔اس عمارت میں سنا ہے کہ دو سو سے زائد اپارٹمنٹس ہیں‘ چار بیڈ روم کے فلیٹ کی قیمت بیس کروڑ یا اس سے زائد بتائی جاتی ہے اور ایسے اپارٹمنٹ کے مالک کو ماہانہ چھ سے آٹھ لاکھ روپے کرایہ مل سکتا ہے۔ مجھے چک شہزاد اور پارک روڈ والی فارم ہائوس سکیم یاد آ گئی جس کا مقصد اسلام آباد کے مکینوں کیلئے سبزیاں اور فروٹ مہیا کرنا تھا‘ لیکن یہ خوردنی اشیا اب ترنول اور فتح جنگ سے آتی ہیں جبکہ پارک روڈ پر اشرافیہ نے محلات تعمیر کر لیے‘ ابتدائی منظور شدہ نقشے میں جن کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ہمارے ہاں اشرافیہ کو بخوبی علم ہے کہ ہر غیر قانونی کام کو بالآخر ریگولرائز کرایا جا سکتا ہے‘ یہی سوچ ہمیں شاہراہِ دستور کی مذکورہ عمارت میں بھی نظر آتی ہے۔مبینہ طور پر بلڈر نے زمین کی قیمت کے ساڑھے سترہ ارب روپے سی ڈی اے کو ادا کرنا تھے لیکن صرف دو ارب 90کروڑ روپے ادا کئے گئے۔ شنید ہے کہ یہاں ایک سابق چیف جسٹس کا بھی فلیٹ ہے‘ وہی جو دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کسی لوئر عدالت کی انسپکشن کیلئے گئے‘ جج صاحب کی میز پر موبائل فون پڑا دیکھا تو اٹھا کر دور پھینک دیا کہ تمہارا کام مقدمات سُن کر انصاف فراہم کرنا ہے‘ فون سننا ہے تو کہیں اور جا کر سنو۔
2019ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ بلڈر سے بقیہ رقم وصول کی جائے اور فلیٹ مالکان کے حقوق کا احترام کیا جائے مگر کیا اس فیصلے سے زمین کی غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ مل جاتا ہے؟ یہاں مجھے لاہور میں فیروزپور روڈ پر کلمہ چوک کے پاس بنائی گئی وہ فلک بوس عمارت کا کیس یاد آتا ہے جس میں کئی منزلیں غیر قانونی طور پر اضافی بنا دی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے فیصلہ دیا کہ تمام غیر قانونی منزلیں گرا دی جائیں اور اس فیصلے پر عمل ہوا۔ یہاں مجھے نسلہ ٹاور کراچی کا کیس بھی یاد آ رہا‘ جو مبینہ طور پر ایسی زمین پر تعمیر ہوا جہاں سروس روڈ بننا تھی اور چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمارت غیر قانونی بنی تھی‘ اسے گرا دیا جائے اور بلڈر تین ماہ کے اندر فلیٹ مالکان کے پیسے واپس کرے۔ بعد میں بلڈر کا انتقال ہو گیا اور فلیٹ مالکان در بدر ہو گئے۔ حال ہی میں آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیے ہیں‘ البتہ آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت کا ہے‘ عدلیہ کا نہیں۔ فیصلہ یہ بھی صحیح ہے۔ اصل قصور تو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اتھارٹی کے ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا؟ بات یہ ہے کہ نسلہ ٹاور میں اشرافیہ نہیں رہتی تھی لہٰذا انہیں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا مل گئی۔ البتہ شاہراہِ دستور کے مکینوں کو نکالنے کا نوٹس خود وزیراعظم نے لیا۔ کوئی دو مہینے پہلے وزیراعظم نے کابینہ کی ہائی لیول کمیٹی بنائی کہ معاملے کی تہہ تک جائے۔ ایک انگریزی کہاوت ہے کہ جب کوئی فیصلہ نہ کرنا ہو تو کمیٹی بنا دو؛ چنانچہ وہی ہوا‘ ایک جے آئی ٹی بنا دی گئی۔ کیا اس کا کچھ نتیجہ بھی نکلے گا؟ میں نے جس بھی شخص سے یہ سوال کیا اس کا جواب تھا کہ صفر نتیجہ نکلے گا۔
اب آتے ہیں اسلام آباد کے ایک مال کی جانب جہاں بلڈر نے تین اضافی فلور خلافِ قانون بنا لیے۔2021ء میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے فیصلہ دیا کہ غیر قانونی فلور بنانے کی پاداش میں مالک کو سات سال قید ہو گی۔ دو متعلقہ افسروں کو پانچ اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جرمانہ اس کے علاوہ تھا۔ معاملہ اپیل میں گیا تو سزائیں معاف ہو گئیں۔ مالک نے شروع میں سارا ملبہ سرکاری افسروں پر ڈال دیا کہ منظوری متعلقہ ادارے نے دی تھی۔ بعد میں وہ افسر بھی بری ہو گئے۔ کہا گیا کہ قصور کسی فرد کا نہیں تھا بلکہ ادارے کا تھا۔ مال کی عمارت اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں آج بھی پوری شان وشوکت سے کھڑی ہے۔ کسی مغربی ملک میں یہ واقعہ پیش آتا تو طوفان کھڑا ہو جاتا‘ متعلقہ وزیر کو استعفیٰ دینا پڑ جاتا لیکن ہم مٹی پائو والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں قانون اشرافیہ کے ساتھ خصوصی سلوک کرتا ہے۔
2017ء میں کوئٹہ میں دن دہاڑے عطا اللہ نامی ٹریفک کانسٹیبل کو ایک ایم پی اے کی گاڑی نے کچل دیا لیکن نہ ایم پی اے کو سزا ہوئی اور نہ ہی کانسٹیبل کی فیملی کو فوری مالی مدد ملی۔ 2021ء کی بات ہے کہ رات گئے اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پر ایک تیز رفتار گاڑی نے چار نوجوان کچل ڈالے۔ چاروں غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور اسلام آباد نوکری کی تلاش میں آئے تھے۔ معاملہ جلد ہی رفع دفع ہو گیا کیونکہ تیز رفتار گاڑی ایک اعلیٰ عہدے پر فائز خاتون کی تھی۔ کسی کو کوئی سزا نہیں ہوئی اور وہ خاتون بھی اپنی کرسی پر براجمان رہیں۔ چند مہینوں کی بات ہے کہ بری امام مزار کے نواح میں نورپور شاہاں میں قائم ایک کالونی کے مکانوں پر بلڈوزر پھیر دیے گئے۔ ضلعی ایڈمنسٹریشن نے یہ کارروائی تجاوزات ہٹانے کے نام پر کی۔ یہ کالونی پچھلے کوئی پچاس سال سے وہاں قائم تھی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے ہاتھوں سے دارالحکومت آباد ہوا۔ ان غریبوں کی کالونی تو انتظامیہ کی کارروائی کا شکار ہو گئی مگر یہی انتظامیہ ان سیاسی شخصیات کے سامنے بے بس نظر آتی ہے جنہوں نے ایک یونیورسٹی کی اراضی پر قبضہ کیا تھا۔
پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ غریب عوام کو انصاف مہیا کرنا اور اشرافیہ کو قانون کی گرفت میں لانا ہوگا۔ سو فیصد میرٹ لاگو کرنا ہو گا تاکہ ہمارا مستقبل اُن بستیوں والا نہ ہو جن کا حال مذکورہ بالا حدیث شریف میں بیان کیا گیا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved