تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     27-07-2026

امیر العظیم کی رحلت

دنیا میں جو شخص بھی آیا ہے اس کو ایک دن اس دنیا سے جانا ہو گا۔ اس زمین پر شر انگیزی اور فساد برپا کرنے والے لوگ اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے بُرے ناموں سے یاد کیے جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اپنے اچھے کردار اور مثبت طرزِ زندگی کی وجہ سے سماج پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی انہی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنے کردار و عمل سے سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ امیر العظیم 1958ء میں پیدا ہوئے اور 22 جولائی 2026ء کو 68 برس کی زندگی گزارنے کے بعد اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اس دوران انہوں نے بہت سی دینی تحریکات میں مؤثر انداز میں حصہ لیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے اور سٹوڈنٹس یونین پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف کردار ادا کیا۔ جسٹس افتخار چودھری کی معزولی کے بعد جب ان کو بحال کرنے کے لیے تحریک چلائی گئی تو اس میں بہت سے دیگر رہنمائوں کے ساتھ انہوں نے متحرک اور نمایاں کردار ادا کیا اور اس دوران شدید زخمی بھی ہوئے۔ قید وبند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور سماج میں مختلف حوالوں سے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرتے رہے۔
ایک متحرک اور نمایاں رہنما ہونے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ عاجزی و انکساری کے راستے کو اختیار کیا اور کبھی بھی کسی کو حقیر نہیں جانا۔ ہر ایک کے ساتھ گرم جوشی سے پیش آتے رہے اور جس حد تک ممکن ہوا‘ لوگوں کے کام آنے کی کوشش کرتے رہے۔ جو شخص بھی ان کے طرزِ زندگی کو دیکھتا‘ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھے بھی برسوں سے ان کو نہایت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جب بھی ملاقات ہوتی وہ انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہمیشہ پُرعزم ہوتے۔ امیر العظیم جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شامل رہے اور ایک مرتبہ ان کے ہمراہ میری رہائش گاہ پر بھی تشریف لائے۔ امیر العظیم سراج الحق صاحب کے بھی بااعتماد ساتھیوں میں شامل تھے اور ان کے ہمراہ بھی مرکز قرآن وسنہ لارنس روڈ پر ہونے والی تقریب ختم بخاری شریف میں تشریف لائے۔ چند ماہ قبل مرکز قرآن و سنہ لارنس روڈ لاہور میں دفاعِ شعائر اللہ کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں ملک کے دیگر قومی رہنمائوں کے ساتھ امیر العظیم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھی انہوں نے اپنے جذبات کا نہایت خوبصورت انداز سے اظہار کیا اور دفاعِ شعائر اللہ کے حوالے سے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار رہنے کا اعلان کر کے شرکا اور سامعین کو یکسو ہونے کی تلقین کی۔ ان کی تقریر سادہ اور دلنشین ہوتی تھی۔ وہ بغیر کسی تکلف کے اپنے ما فی الضمیر کا اظہار بڑے مؤثر انداز میں کر دیا کرتے تھے۔ ان کا لہجہ ہر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا جس کو سن کر ہر ذی شعور انسان ان کا مزید قدردان بن جاتا تھا۔
امیر العظیم مختلف انتخابی معرکوں میں حصہ بھی لیتے رہے۔ گو ان کو اس حوالے سے نمایاں کامیابی نہ مل سکی لیکن انہوں نے فتح اور شکست سے بے نیاز ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ 2018ء کے الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے لاہور سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ مجھے ان کے جلسے میں شرکت اور خطاب کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اس موقع پر بھی بڑی مؤثر اور مدلل گفتگو کی۔ ان کی انتخابی تقریر نظریاتی کارکنان کے لیے حوصلے اور امید کا باعث تھی۔ عوام کے ساتھ غلط بیانی کرنے کے بجائے وہ ان کو ملک و ملت کے لیے کام کرنے کی دعوت دیتے۔ میں نے ہمیشہ ان کو مستقل مزاجی کے ساتھ بغیر کسی لچک کے اپنے مؤقف کو پیش کرتے دیکھا۔ ان کو عوامی مسائل کے حل سے بہت دلچسپی تھی اور جب بھی کبھی کوئی شخص اپنا مسئلہ ان کے سامنے جا کر بیان کرتا تو اس مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور انداز سے کوشش کرتے اور اپنے روابط کو اس سلسلے میں بھرپور طریقے سے استعمال کرتے۔ وہ غریبوں کے ہمدرد اور مظلوموں کا درد رکھنے والے تھے۔ کسی عام آدمی کا کام بھی بڑی دلچسپی سے کرانے کی کوشش کرتے اور ان کے کاموں کے حوالے سے رابطہ کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ بعض لوگوں کے مسائل کو حل کرانے کے لیے انہوں نے مجھ سے بھی رابطہ کیا۔ ان کے یہ روابط انسانیت کے لیے ان کے دل میں موجود احساسات کو واضح کیا کرتے تھے۔ وہ ملک کی ایک معروف سیاسی جماعت کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے دنیا سے رخصت ہوئے لیکن انہوں نے کبھی بھی ایک سینئر رہنما کے طرزِ زندگی کو اپنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ کارکن کے روپ میں نظر آتے۔ کئی مرتبہ جلسوں‘ اجتماعات اور پروگراموں میں بغیر کسی پروٹوکول کے تن تنہا آ کر اس بات کو ثابت کرتے کہ عوامی خدمت کے لیے ہٹو بچو کے نعرے لگانا کچھ ضروری نہیں ہے۔ امیر العظیم کی طبیعت میں تحمل‘ بردباری اور متانت پائی جاتی تھی۔ وہ جوش میں بھی کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔ ان کو اختلاف کرنے کا ڈھنگ تھا اور کبھی بھی بڑے سے بڑے مخالف کی پگڑی اچھالتے ہوئے نظر نہیں آتے تھے۔ وہ مخالفت میں بھی رواداری اور دلیل کے قائل تھے اور مدلل انداز میں اپنے مؤقف کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ایک سینئر رہنما ہونے کے باوجود جس سادگی سے انہوں نے اپنی زندگی کے ایام گزارے یقینا وہ دوسرے رہنمائوں کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کی انکساری اور اخلاق کو دیکھ کر کبھی یہ محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ عوام کی ایک بڑی تعداد کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جس بہادری اور خندہ پیشانی سے 19 برس تک ایک تکلیف دہ بیماری کو برداشت کیا‘ وہ بھی ان کی شخصیت کی عظمت کی دلیل ہے۔
امیر العظیم کے جنازہ میں ہر طبقۂ زندگی کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے واضح کیا کہ وہ واقعتاً لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔ ان کے جنازے میں جہاں سیاسی و مذہبی رہنمائوں کی کثیر تعداد شریک تھی‘ وہیں عوام کا بھی جم غفیر تھا۔ ہر شخص ایک منکسر المزاج‘ بااخلاق‘ بردبار اور متواضع شخصیت کے انتقال پر شدید غمزدہ تھا۔ امیر العظیم کی رحلت کے دن میں نے بھی محسوس کیا کہ گویا ایک قریبی عزیز آج دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ ان کی شائستگی‘ خوش اخلاقی‘ متانت اور تحمل کے بہت سے واقعات دماغ کی سکرین پر چلنے لگے اور یوں محسوس ہوا کہ ہم ایک ہر دلعزیز اور قیمتی انسان سے محروم ہوگئے ہیں۔
امیر العظیم کی وفات نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس دنیا میں جو شخص بھی آیا ہے اس کوجلد یا بدیر اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا ہوگا۔ وقتِ مقررہ کے آ جانے کے بعد کوئی بھی شخص اس دنیا میں نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنے ہمراہ مال و دولت‘ عہدہ ومنصب اور شہرت کو نہیں بلکہ اچھے اعمال ہی کو لے کر جائے گا۔ ملک و ملت کی محبت اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار امیر العظیم کی وفات جہاں جماعتِ اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے‘ وہیں مختلف طبقاتِ زندگی نے بھی ایک بڑے صدمے کو محسوس کیا ہے۔ یقینا امیر العظیم کی وفات سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جو طویل مدت تک پُر نہ ہو سکے گا۔ ان کے انتقال سے سماج ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گیا جو اتحاد‘ رواداری‘ سنجیدگی‘ اخلاق اور سادگی کا نہ صرف یہ کہ درس دیتی بلکہ خود ان اوصاف کو اپنی ذات میں جمع کیے ہوئے تھی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی بشری خطائوں کو معاف فرمائے‘ ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کے پسماندگان اور وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved