تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     28-07-2026

سیکرٹری داخلہ سے چیئرمین سی ڈی اے تک

یہ کہانی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متعلق ہے۔ اس دردناک‘ عبرتناک‘ مضحکہ خیز اور حیران کن حقیقی کہانی سے آپ آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریاست کہاں کھڑی ہے! کس طرف جا رہی ہے اور نوشتۂ دیوار کیا ہے! اس کہانی کو پورے ملک پر پھیلا کر دیکھیے!!
اسلام آباد کے عین وسط میں سیکٹر جی سکس فور ہے۔ اس کے ایک طرف‘ چھ منٹ کی ڈرائیو پر معروف ترین فائیو سٹار ہوٹل ہے۔ دوسری طرف‘ چھ منٹ ڈرائیو پر ہی چیئرمین سی ڈی اے کا دفتر ہے۔ یہ سیکٹر شہر کا دل ہے۔ اس کی سٹریٹ پینسٹھ (65) میں‘ گھروں کے عین درمیان‘ مسجد کی بغل میں ایک چھوٹا سا خالی پلاٹ تھا۔ یہ پلاٹ ایک اوپن ایئر لیٹرین بنا ہوا تھا۔ یہاں کوڑا پھینکا جاتا تھا۔ بدبو کے بھبکے اٹھتے تھے۔ سی ڈی اے نے بدبو میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کیلئے یہاں ایک چھکڑا رکھ دیا تھا۔ اس کا ڈھکنا نہیں تھا۔ جب چھکڑا انسانی فضلے اور کوڑے سے بھر جاتا تو پورا پلاٹ کوڑے دان کے طور پر استعمال ہوتا۔ بدترین پہلو معاملے کا یہ تھا کہ مسجد جانے والے اس ''خوشبو‘‘ سے گزر کر مسجد پہنچتے تھے۔ کچھ بے بس افراد نے اس کالم نویس سے مدد مانگی۔ پہلے فون پر کوشش کی۔ متعلقہ ممبر سی ڈی اے سے فون پر بات کرنا ناممکن ثابت ہوا۔ پھر کالم لکھا۔ کالم اُس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کو ارسال کیا۔ جواب ملا نہ ایکشن ہوا۔ اُس وقت سی ڈی اے کے باس‘ وفاقی سیکرٹری داخلہ بات سنتے بھی تھے‘ جواب بھی مرحمت فرماتے تھے۔ ان کے حکم پر غلاظت والا چھکڑا ہٹا لیا گیا۔ اب یہ سی ڈی اے کا کام تھا کہ اس پلاٹ کو کوڑے دان کے بجائے بچوں کیلئے پارک میں تبدیل کر دیتا۔ مگر یہ کوڑے دان ہی رہا۔ فضلے کا ڈھیر ہی رہا۔ اگر چیئرمین صاحب یا متعلقہ ممبر صاحب دفتر سے اٹھ کر شہر کا دورہ کرتے تو اس سنڈاس پر نظر پڑتی۔ بیورو کریسی اور منتخب میئر میں یہی فرق ہوتا ہے۔
چار دن پہلے متاثرین میں سے چند نے دوبارہ رابطہ کیا۔ پرنالہ اپنی جگہ پر واپس آ چکا تھا۔ سی ڈی اے نے چھکڑا دوبارہ رکھ دیا تھا۔ بدبو دور سے استقبال کرتی تھی۔ تعفن فضا میں چاروں طرف پھیلتا تھا اور گھروں اور راہگیروں کو اپنی لپیٹ میں لیتا تھا۔ اندازہ لگائیے جو ادارہ شہر کی صفائی کا ذمہ دار تھا وہ اسے گندگی سے بھر رہا تھا۔ سیکرٹری داخلہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ ملک سے باہر ہیں۔ ڈی جی سینی ٹیشن صاحبہ سے رابطہ کیا۔ ان تک رسائی ممکن نہ ہوئی۔ ایک مردِ خدا نے مدد کی۔ اور نہ صرف چھکڑا ہٹوایا بلکہ پلاٹ کی صفائی بھی کرائی۔ اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ ایک بورڈ آویزاں کیا جائے کہ یہاں کوڑا اور غلاظت ڈالنا منع ہے۔ وقتی طور پر میں خود وہاں پہرہ دیتا رہا۔ محلے کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بچی بھی پہرہ دیتی رہی۔ معلوم ہوا کہ کوئی فیصل صاحب اس سیکٹر کے سینی ٹیشن انسپکٹر ہیں۔ ان کی خدمت میں درخواست کی۔ ان کا حکم واضح تھا کہ بازار جائیے! بورڈ بنوائیے‘ آ کر نصب کیجیے۔ چاروں کونوں پر بانس نصب کیجیے۔ ان کے گرد سبز پلاسٹک یا کپڑا پھرائیے تا کہ کوڑا نہ پھینکا جا سکے۔ ان سے پوچھا کہ اس سارے عمل میں سی ڈی اے کا کیا کردار ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ سی ڈی سے آپ کو اس کارِ خیر کی اجازت لینا پڑے گی۔ انسپکٹر صاحب کی اس فیاضانہ مدد سے دل باغ باغ ہوا اور روح نہال ہوئی۔ ڈی جی سینی ٹیشن تو رسائی سے بالا تھیں۔ خوش بختی ذرا سی مسکرائی اور ڈائریکٹر صاحب سے رابطہ ہو گیا۔ انہوں نے ادارے کی طرف سے گارڈ بھیجنے کا عندیہ دیا اور بھیجا بھی!
غروبِ آفتاب سے بیس منٹ پہلے‘ آب پارہ بازار کی ایک تنگ اور بند گلی کے آخر میں واقع‘ مزید تنگ سیڑھیاں چڑھ کر میں اوپر پہنچا تو یہ ایک فراخ دکان تھی۔ نوجوان دکاندار کو بتایا کہ ایک بورڈ بنوانا ہے جس پر لکھا ہو کہ ''یہاں کوڑا پھینکنا منع ہے‘‘۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا: ابھی بن جائے گا اور یہ کہ میں بیٹھوں۔ بیٹھ کر سانس بحال کیے۔ پھر ادھر ادھر دیکھا۔ صوفہ نما چبوترے پر ایک بزرگ دراز تھے۔ ایک نوجوان ان کی ٹانگیں اور پاؤں داب رہا تھا۔ان سے گپ شپ ہوئی۔ یہ میرے پسندیدہ شہر‘ سیالکوٹ کے نکلے۔ کیا نرم لہجہ تھا اور کیا شیرینی تھی ان کی باتوں میں۔ انہوں نے چائے منگوائی۔ میں مکس چائے سے اور وہ بھی میٹھی‘ پرہیز کرتا ہوں مگر ان کا جذبہ دیکھ کر انکار نہ کر سکا۔ ان کے تینوں بیٹے ان کے ساتھ اسلام آباد ہی میں رہ رہے تھے۔ کلام پاک میں باپ کے پاس موجود رہنے والے بیٹوں کو نعمت قرار دیا گیا ہے۔ (بنین شھودا)۔ عشا کے وقت بورڈ تیار کر کے گھر پہنچا دیا گیا۔ دوسرے دن اسے جائے ''واردات‘‘ پر نصب کرا دیا گیا۔ لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا‘ شروع ہوتا ہے!
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بچوں کیلئے پارک بنے مگر کیسے بنے؟ جس چھوٹے پلاٹ کو اس فقیر نے کوڑے اور غلاظت سے دوسری بار رہائی دلوائی ہے‘ اس کے ساتھ کچھ اور بھی جگہ خالی ہے۔ اگر کسی طاقتور ''زمین خور‘‘ نے اس ساری جگہ پر قبضہ کر لیا اور سی ڈی اے اس کے سامنے بے بس ہو گیا تو بچے ایک پارک سے محروم ہو جائیں گے۔ پہلی گزارش وفاقی سیکرٹری داخلہ سے ہے جو سی ڈی اے کے مدار المہام ہیں‘ کہ ازراہِ لطف‘ سٹریٹ 65‘ سیکٹر جی سکس‘ فور کا دورہ کریں اور متعلقہ حلقوں کو ہدایات دیں کہ اردگرد رہنے والوں کو تعفن بھری فضا کے بجائے صاف ستھری فضا مہیا کریں۔ دوسری گزارش سی ڈی اے کے چیئرمین سے ہے۔ حضور والا!! یہاں بچوں کیلئے پارک بنوا دیجیے۔ تین چار خوبصورت بنچ! چند جھولے! کچھ فرشی گھاس! یقین کیجیے بچے خوش ہوں گے تو آپ کے بخت کا ستارہ اور بھی چمکے گا۔ تیسری گزارش سی ڈی اے کے محکمہ پارک کے ممبر سے ہے کہ اتنا چھوٹا سا کام تو ان کے اپنے دائرہِ اختیار میں ہے۔ اے افسران کرام! اے سیکرٹری داخلہ صاحب! اے چیئرمین بہادر! سی ڈی اے! آج آپ مقتدر ہیں۔ کل اختیار ہو گا نہ اقتدار۔ ایسا کام سامنے آئے تو توشہ آخرت سمجھ کر کیجیے۔ شعلہ بھڑکا ہوا ہو تو اس پر پڑنے والی پانی کی ننھی سی بوند بھی بولتی ہے۔ شعلہ بجھ جائے تو گھڑوں کے گھڑے انڈیل دیجیے۔ سب لاحاصل ہو گا۔
پس نوشت: اس کام کیلئے تقریباً دو سال سے سی ڈی اے کی بلند فصیلوں سے سر ٹکرا رہا ہوں۔ صرف تین حضرات ایسے ملے جو اس ادارے کے بے کنار خاردار میں تین پھولوں کی طرح ہیں۔ ایک صاحب جو سی ڈی اے کے پبلک ریلیشنز کے سربراہ ہیں۔ سچے‘ جان لڑا کر کام کرنے والے! ذمہ داری کے احساس سے سرشار۔ کام کر کے سائل کو باقاعدہ جواب دیتے ہیں۔ دوسرے ڈائریکٹر جنرل سینی ٹیشن۔ نرم گفتار۔ تعاون پر آمادہ۔ تیسرا وہ نوجوان جو ہیلپ لائن پر بیٹھتا ہے۔ از حد مددگار! خوش اخلاق۔ وعدے کا پابند اور یہ جو خصوصیت ہے‘ ہم سب جانتے ہیں کہ کس قدر کمیاب ہے۔ کاش! ادارے کے سب افسر اور اہلکار ایسے ہو جاتے جیسے یہ حضرات ہیں۔ ناصر کاظمی یاد آگیا:
کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی‘ ٹھنڈا ہو جائے گا لہو
نامِ خدا‘ ہو جوان ابھی‘ کچھ کر گزرو تو بہتر ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved